🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

41. باب: {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا} إلى: {بما تعملون خبير} :
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روکے رکھیں“ آخر آیت «بما تعملون خبير» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4530
يَعْفُونَ: يَهَبْنَ.
‏‏‏‏ «يعفون» بمعنی «يهبن» یعنی ہبہ کر دیں، بخش دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4530]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4530
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ حَبِيبٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سورة البقرة آية 234، قَالَ:" قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى، فَلِمَ تَكْتُبُهَا أَوْ تَدَعُهَا , قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ".
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے، ان سے حبیب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا‏» یعنی اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔ کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس لیے آپ اسے (مصحف میں) نہ لکھیں یا (یہ کہا کہ) نہ رہنے دیں۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیٹے! میں (قرآن کا) کوئی حرف اس کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4530]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آیت کریمہ: ﴿تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں موجود ہوں تو وہ اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں۔۔﴾ [سورة البقرة: 240] ، اسے دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے، لہٰذا آپ اسے قرآن میں کیوں لکھ رہے ہیں یا اس کو قرآن میں کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں قرآن میں سے کوئی چیز اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4530]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الله بن الزبير الأسدي، أبو بكر، أبو خبيب
Newعبد الله بن الزبير الأسدي ← عثمان بن عفان
صحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥حبيب بن الشهيد الأزدي، أبو محمد، أبو شهيد
Newحبيب بن الشهيد الأزدي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← حبيب بن الشهيد الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥أمية بن بسطام العيشي، أبو بكر
Newأمية بن بسطام العيشي ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4530 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4530
حدیث حاشیہ:
منسوخ ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ بعض آیات حکم اور تلاوت دونوں طرح منسوخ ہوگئی ہیں۔
ان کو قرآن شریف میں درج نہیں کیا گیا اور کچھ آیات ایسی ہیں کہ ان کا حکم باقی ہے اور تلاوت منسوخ ہے، بعض ایسی ہیں جن کا حکم منسوخ ہے اور تلاوت باقی ہے۔
حضرت عثمانؓ کی مراد ان ہی آیات سے تھی جن کو تلاوت کے لیے باقی رکھا گیا اور حکم کے لحاظ سے وہ منسوخ ہو چکی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4530]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4530
حدیث حاشیہ:

عرب لوگ یہ گوارا نہیں کرتے تھے کہ ان کے فوت شدہ شخص کی بیوہ کسی اور سے نکاح کرے یا وہ اس کے گھر سے نکلے اس لیے آغاز اسلام میں ان کے لیے سال بھر گھر میں رہنے اور ان کا نان و نفقہ کی وصیت کرنے کا حکم دیا گیا اس کے بعد عورت کی مدت چار ماہ دس دن مقرر کی گئی۔

مذکورہ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے حضرت عثمان ؓ کو قرآن جمع کرتے وقت کہا تھا کہ آپ منسوخ آیت کو قرآن میں کیوں لکھتے ہیں؟ حضرت عثمان ؓ نےجواب دیا کہ قرآن کی کسی آیت کو اس کے مقام سے ہٹانا نہیں چاہتا اگرچہ وہ منسوخ ہی کیوں نہ ہو۔

منسوخ ہونے کے اعتبار سے آیات کی تین قسمیں ہیں۔
جن کا حکم اور تلاوت دونوں منسوخ ہیں ایسی آیات کو قرآن میں درج نہیں کیا گیا۔
جن کا حکم باقی ہے لیکن ان کی تلاوت منسوخ ہے انھیں بھی قرآن میں نہیں لکھا گیا۔
جن کا حکم منسوخ ہے لیکن ان کی تلاوت باقی ہے۔
حضرت عثمان ؓ نے اسی قسم کی آیات کے متعلق حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے فرمایا تھا:
میں اپنی طرف سے کسی آیت کو آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔
ایسی آیات کے لکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کی تلاوت سے ثواب ملتا ہے حافظ ابن حجر ؒ نے اس آیت کے لکھنے کا ایک اور فائدہ بھی ذکر کیا ہے کہ بعض اہل علم کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہی نہیں ہوتی تو ان کے موقف کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ آیت کسی صورت میں محو نہیں ہو سکتی۔
(فتح الباري: 244/8)
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4530]

Sahih Bukhari Hadith 4530 in Urdu