🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. بَابُ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} إِلَى: {بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ}:
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روکے رکھیں“ آخر آیت «بما تعملون خبير» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4530
يَعْفُونَ: يَهَبْنَ.
‏‏‏‏ «يعفون» بمعنی «يهبن» یعنی ہبہ کر دیں، بخش دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4530]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4530
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ حَبِيبٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سورة البقرة آية 234، قَالَ:" قَدْ نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الْأُخْرَى، فَلِمَ تَكْتُبُهَا أَوْ تَدَعُهَا , قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْهُ مِنْ مَكَانِهِ".
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے، ان سے حبیب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا‏» یعنی اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔ کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس لیے آپ اسے (مصحف میں) نہ لکھیں یا (یہ کہا کہ) نہ رہنے دیں۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیٹے! میں (قرآن کا) کوئی حرف اس کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4530]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آیت کریمہ: ﴿تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور ان کی بیویاں موجود ہوں تو وہ اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں۔۔﴾ [سورة البقرة: 240] ، اسے دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے، لہٰذا آپ اسے قرآن میں کیوں لکھ رہے ہیں یا اس کو قرآن میں کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں قرآن میں سے کوئی چیز اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4530]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4531
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شِبْلٌ , عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا سورة البقرة آية 234 , قَالَ:" كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ سورة البقرة آية 240، قَالَ: جَعَلَ اللَّهُ لَهَا تَمَامَ السَّنَةِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ سورة البقرة آية 240، فَالْعِدَّةُ كَمَا هِيَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا" زَعَمَ ذَلِكَ , عَنْ مُجَاهِدٍ , وَقَالَ عَطَاءٌ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهْوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى:غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240 , قَالَ عَطَاءٌ:" إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ , لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ سورة البقرة آية 234 , قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ، فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا سُكْنَى لَهَا" , وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ,حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا , وَعَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240 نَحْوَهُ".
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور انہوں نے مجاہد سے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا‏» اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔ کے بارے میں (زمانہ جاہلیت کی طرح) کہا کہ عدت (یعنی چار مہینے دس دن کی) تھی جو شوہر کے گھر عورت کو گزارنی ضروری تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف‏» اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت (کر جائیں) کہ وہ ایک سال تک گھر سے نہ نکالی جائیں، لیکن اگر وہ (خود) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔ اگر وہ دستور کے موافق اپنے لیے کوئی کام کریں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے سات مہینے اور بیس دن وصیت کے قرار دیئے کہ اگر وہ اس مدت میں چاہے تو اپنے لیے وصیت کے مطابق (شوہر کے گھر میں ہی) ٹھہرے اور اگر چاہے تو کہیں اور چلی جائے کہ اگر ایسی عورت کہیں اور چلی جائے تو تمہارے حق میں کوئی گناہ نہیں۔ پس عدت کے ایام تو وہی ہیں جنہیں گزارنا اس پر ضروری ہے (یعنی چار مہینے دس دن)۔ شبل نے کہا ابن ابی نجیح نے مجاہد سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور عطا بن ابی رباح نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اس آیت نے اس رسم کو منسوخ کر دیا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے۔ اس آیت کی رو سے عورت کو اختیار ملا جہاں چاہے وہاں عدت گزارے اور اللہ پاک کے قول «غير إخراج‏» کا یہی مطلب ہے۔ عطا نے کہا، عورت اگر چاہے تو اپنے خاوند کے گھر والوں میں عدت گزارے اور خاوند کی وصیت کے موافق اسی کے گھر میں رہے اور اگر چاہے تو وہاں سے نکل جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فلا جناح عليكم فيما فعلن‏» اگر وہ نکل جائیں تو دستور کے موافق اپنے حق میں جو بات کریں اس میں کوئی گناہ تم پر نہ ہو گا۔ عطاء نے کہا کہ پھر میراث کا حکم نازل ہوا جو سورۃ نساء میں ہے اور اس نے (عورت کے لیے) گھر میں رکھنے کے حکم کو منسوخ قرار دیا۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ اسے مکان کا خرچہ دینا ضروری نہیں اور محمد بن یوسف نے روایت کیا، ان سے ورقاء بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے، یہی قول بیان کیا اور فرزندان ابن ابی نجیح سے نقل کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت نے صرف شوہر کے گھر میں عدت کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج‏» وغیرہ سے ثابت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4531]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے اس آیت ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا﴾ [سورة البقرة: 234] کے متعلق فرمایا: یہ عدت (چار ماہ دس دن) جو عورت گزارتی تھی یہ اپنے شوہر کے گھر والوں کے پاس گزارنا ضروری تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ﴾ [سورة البقرة: 240] اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی بیویوں کے حق میں ایک سال تک فائدہ اٹھانے اور گھر سے نہ نکالنے کی وصیت کر جائیں، البتہ اگر وہ خود نکلنا چاہیں تو ان کے اپنے بارے میں دستور کے مطابق کوئی کام کرنے کی بنا پر تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ایسی عورت کے لیے باقی سال، یعنی سات ماہ بیس دن وصیت کے قرار دیے ہیں۔ اگر وہ چاہے تو اپنے لیے کی گئی وصیت کے مطابق شوہر کے گھر میں رہے اور اگر چاہے تو کسی اور جگہ چلی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «غَيْرَ إِخْرَاجٍ ۚ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ» انہیں نہ نکالا جائے، ہاں اگر وہ خود چلی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں کے یہی معنی ہیں، چنانچہ ایام عدت (چار ماہ دس دن) تو وہی ہیں جنہیں گزارنا اس پر واجب ہے۔ شبل رحمہ اللہ نے کہا: ابن ابی نجیح نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے یوں ہی بیان کیا ہے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس آیت نے عورت کے لیے اپنے خاوند کے گھر عدت گزارنے کو منسوخ کر دیا ہے، اب وہ جہاں چاہے ایام عدت گزار سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» بغیر نکالے جانے سے یہی مراد ہے۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے کہا: اگر وہ عورت چاہے تو اپنے خاوند کے اہل خانہ کے ہاں عدت گزارے اور اپنے حق میں کی گئی وصیت کے مطابق اسی گھر میں رہے اور اگر چاہے تو کہیں اور چلی جائے، اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنفُسِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 240] تم پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ بیویاں (اپنے بارے میں) جو (دستور کے مطابق) کریں۔ عطاء رحمہ اللہ مزید کہتے ہیں کہ پھر میراث کا حکم نازل ہوا جس نے عورت کے لیے رہائش کے حق کو منسوخ کر دیا۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزارے اور اس کے لیے رہائش کا بندوبست کرنا ضروری نہیں۔ ایک روایت میں یہی قول مجاہد رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے۔ ابن ابی نجیح سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے، وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ اس آیت نے عورت کے لیے شوہر کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» بغیر نکالے جانے سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4531]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4532
حَدَّثَنَا حِبَّانُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى مَجْلِسٍ فِيهِ عُظْمٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , وَفِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى , فَذَكَرْتُ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , فِي شَأْنِ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَلَكِنَّ عَمَّهُ كَانَ لَا يَقُولُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ:" إِنِّي لَجَرِيءٌ إِنْ كَذَبْتُ عَلَى رَجُلٍ فِي جَانِبِ الْكُوفَةِ وَرَفَعَ صَوْتَهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ، فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ أَوْ مَالِكَ بْنَ عَوْفٍ , قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ قَوْلُ ابْنِ مَسْعُودٍ , فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهْيَ حَامِلٌ؟" فَقَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ:" أَتَجْعَلُونَ عَلَيْهَا التَّغْلِيظَ وَلَا تَجْعَلُونَ لَهَا الرُّخْصَةَ لَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الطُّولَى"، وَقَالَ أَيُّوبُ: عَنْ مُحَمَّدٍ , لَقِيتُ أَبَا عَطِيَّةَ مَالِكَ بْنَ عَامِرٍ.
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں حاضر ہوا۔ بڑے بڑے انصاری وہاں موجود تھے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی موجود تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت حارث کے باب سے متعلق عبداللہ بن عتبہ کی حدیث کا ذکر کیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا لیکن عبداللہ بن عتبہ کے چچا (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) ایسا نہیں کہتے تھے۔ (محمد بن سیرین نے کہا) کہ میں نے کہا کہ پھر تو میں نے ایک ایسے بزرگ عبداللہ بن عتبہ کے متعلق جھوٹ بولنے میں دلیری کی ہے کہ جو کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ میری آواز بلند ہو گئی تھی۔ ابن سیرین نے کہا کہ پھر جب میں باہر نکلا تو راستے میں مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے ملاقات ہو گئی۔ (راوی کو شک ہے کہ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے رفیقوں میں سے تھے) میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اور وہ حمل سے ہو تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی عدت کے متعلق کیا فتویٰ دیتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ تم لوگ اس حاملہ پر سختی کے متعلق کیوں سوچتے ہو اس پر آسانی نہیں کرتے (اس کو لمبی) عدت کا حکم دیتے ہو۔ سورۃ نساء چھوٹی (سورۃ الطلاق) لمبی سورۃ نساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4532]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک مجلس میں بیٹھا تھا جس میں انصار کے بڑے بڑے لوگ تھے۔ ان میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی تھے۔ وہاں میں نے سبیعہ بنت حارث کے متعلق حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی تو عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے کہا کہ ان کے چچا تو اس کے قائل نہیں ہیں۔ میں نے بلند آواز میں (عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے) کہا: اگر میں نے جھوٹ بولا ہے تو میں نے اس شخص پر افترا باندھا ہے جو کوفہ میں موجود ہے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر میں وہاں سے نکلا اور مالک بن عامر یا مالک بن خوف سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے جبکہ وہ حاملہ ہو اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم ایسی عورت پر سختی تو کرتے ہو لیکن اسے رخصت نہیں دیتے۔ سورہ نساء قُصرٰی، سورہ نساء طولیٰ کے بعد نازل ہوئی۔ ایوب نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ میں نے ابو عطیہ مالک بن عامر سے ملاقات کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4532]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں