یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب خطبة الإمام فى الكسوف:
باب: گرہن کی نماز میں امام کا خطبہ پڑھنا۔
حدیث نمبر: Q1046
وَقَالَتْ عَائِشَةُ، وَأَسْمَاءُ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور اسماء رضی اللہ عنہا نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن میں خطبہ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: Q1046]
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَكَبَّرَ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ: فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ"، وَكَانَ يُحَدِّثُ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يُحَدِّثُ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: إِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ خَسَفَتْ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ، قَالَ: أَجَلْ لِأَنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا، اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور بہت دیر قرآن مجید پڑھتے رہے پھر تکبیر کہی اور بہت لمبا رکوع کیا پھر «سمع الله لمن حمده» کہہ کر کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا (رکوع سے اٹھنے کے بعد) پھر بہت دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے۔ لیکن پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، یہ رکوع بھی پہلے رکوع سے کم تھا۔ اب «سمع الله لمن حمده» اور «ربنا ولك الحمد» کہا پھر سجدہ میں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا (ان دونوں رکعتوں میں) پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو چکا تھا۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا لیکن جب تم گرہن دیکھا کرو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔ زہری نے کہا کہ کثیر بن عباس اپنے بھائی عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے تھے وہ سورج گرہن کا قصہ اس طرح بیان کرتے تھے جیسے عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا۔ زہری نے کہا میں نے عروہ سے کہا تمہارے بھائی عبداللہ بن زبیر نے جس دن مدینہ میں سورج گرہن ہوا صبح کی نماز کی طرح دو رکعت پڑھی اور کچھ زیادہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہاں مگر وہ سنت کے طریق سے چوک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1046]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سورج بے نور ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر لمبی قراءت فرمائی۔ اس کے بعد «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر ایک طویل رکوع کیا۔ پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا تو کھڑے رہے اور سجدہ نہ کیا بلکہ طویل قراءت کی جو پہلی قراءت سے قدرے کم تھی۔ پھر «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہا اور سجدے میں چلے گئے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز مکمل کی۔ نماز ختم ہونے سے پہلے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان حمد و ثنا بیان کی۔ اس کے بعد فرمایا: ”یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم انہیں بایں حالت دیکھو تو اللہ سے التجا کرتے ہوئے نماز کی طرف آ جاؤ۔“ کثیر بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی سورج گرہن کے متعلق اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی تھی۔ میں نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: جس دن مدینہ طیبہ میں سورج کو گرہن لگا تھا تو آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نماز کسوف میں نماز فجر کی طرح دو سے زیادہ رکوع نہیں کیے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں، لیکن انہوں نے سنت کے خلاف کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1046
| سمع الله لمن حمده فقام ولم يسجد وقرأ قراءة طويلة هي أدنى من القراءة الأولى ثم كبر وركع ركوعا طويلا وهو أدنى من الركوع الأول ثم قال سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ثم سجد ثم قال في الركعة الآخرة مثل ذلك فاستكمل أربع ركعات في أربع سجدات وانجلت الشمس قبل |
سنن أبي داود |
1180
| خسفت الشمس في حياة رسول الله فخرج رسول الله إلى المسجد فقام فكبر وصف الناس وراءه فاقترأ رسول الله قراءة طويلة ثم كبر فركع ركوعا طويلا ثم رفع رأسه فقال سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ثم قام فاقترأ |
Sahih Bukhari Hadith 1046 in Urdu
كثير بن العباس الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي