🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب من قال أربع ركعات
باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1180
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ /a>، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ، فَكَبَّرَ، وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، (پھر رکوع سے سر اٹھایا) اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح (دو رکعت میں) آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت شروع کی اور لمبی قراءت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، پھر اپنا سر اٹھایا اور کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اور کھڑے رہے اور قراءت کی، لمبی قراءت، جو کہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع کیا، لمبا رکوع، مگر پہلے رکوع سے کم۔ پھر کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فارغ ہونے سے پہلے سورج صاف ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، والعمل في الصلاة 11 (1212)، وبدء الخلق 4 (3199)، صحیح مسلم/ الکسوف 1 (901)، سنن النسائی/ الکسوف 11 (1476)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 152 (1263)، (تحفة الأشراف: 16692)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الصلاة 279 (الجمعة 44) (561)، موطا امام مالک/صلاة الکسوف 1 (1)، مسند احمد (6/76، 78، 164، 168)، سنن الدارمی/ الصلاة 187 (1568) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1046) صحيح مسلم (901)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن سلمة المرادي، أبو الحارث
Newمحمد بن سلمة المرادي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← محمد بن سلمة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1046
سمع الله لمن حمده فقام ولم يسجد وقرأ قراءة طويلة هي أدنى من القراءة الأولى ثم كبر وركع ركوعا طويلا وهو أدنى من الركوع الأول ثم قال سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ثم سجد ثم قال في الركعة الآخرة مثل ذلك فاستكمل أربع ركعات في أربع سجدات وانجلت الشمس قبل
سنن أبي داود
1180
خسفت الشمس في حياة رسول الله فخرج رسول الله إلى المسجد فقام فكبر وصف الناس وراءه فاقترأ رسول الله قراءة طويلة ثم كبر فركع ركوعا طويلا ثم رفع رأسه فقال سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ثم قام فاقترأ
Sunan Abi Dawud Hadith 1180 in Urdu