صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب من أحب العتاقة فى كسوف الشمس:
باب: جس نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنا پسند کیا (اس نے اچھا کیا)۔
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا رَبِيعُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ:" لَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ".
ہم سے ربیع بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ نے ہشام سے بیان کیا، ان سے فاطمہ نے، ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1054]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت ”غلام آزاد کرنے“ کا حکم فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥فاطمة بنت المنذر الأسدية فاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية | ثقة | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← فاطمة بنت المنذر الأسدية | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت زائدة بن قدامة الثقفي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت | |
👤←👥الربيع بن يحيى المرئي، أبو الفضل الربيع بن يحيى المرئي ← زائدة بن قدامة الثقفي | ثقة إلا في روايته عن الثوري وشعبة فهي ضعيفة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2520
| نؤمر عند الخسوف بالعتاقة |
صحيح البخاري |
2519
| بالعتاقة في كسوف الشمس |
صحيح البخاري |
1054
| بالعتاقة في كسوف الشمس |
سنن أبي داود |
1192
| بالعتاقة في صلاة الكسوف |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1054 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1054
حدیث حاشیہ:
(1)
عام حالات میں غلام آزاد کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے، لیکن گرہن کے وقت اس کا اہتمام کرنا خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ہمیں گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
(صحیح البخاري، العتق، حدیث: 2520) (2)
جس انسان میں غلام آزاد کرنے کی ہمت نہ ہو اسے چاہیے کہ اس عام حدیث پر عمل کرے جس میں ہے:
”آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔
“ (صحیح البخاري، الزکاة، حدیث: 1413، وصحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2347(1016)
بہرحال ایسے حالات میں صدقہ و خیرات کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔
(1)
عام حالات میں غلام آزاد کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے، لیکن گرہن کے وقت اس کا اہتمام کرنا خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ہمیں گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
(صحیح البخاري، العتق، حدیث: 2520) (2)
جس انسان میں غلام آزاد کرنے کی ہمت نہ ہو اسے چاہیے کہ اس عام حدیث پر عمل کرے جس میں ہے:
”آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرنا پڑے۔
“ (صحیح البخاري، الزکاة، حدیث: 1413، وصحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2347(1016)
بہرحال ایسے حالات میں صدقہ و خیرات کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1054]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1192
گرہن لگنے پر غلام آزاد کرنے کا بیان۔
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1192]
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة الاستسقاء /حدیث: 1192]
1192. اردو حاشیہ:
یہ امر استحباب اور ترغیب ہے اور کسی انسان کو معاشرے میں اس کا حق اور مقام دلانا بڑا عظیم عمل ہے، بالخصوص مسلمان کے لئے۔
یہ امر استحباب اور ترغیب ہے اور کسی انسان کو معاشرے میں اس کا حق اور مقام دلانا بڑا عظیم عمل ہے، بالخصوص مسلمان کے لئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1192]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2520
2520. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہمیں سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیاجاتا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2520]
حدیث حاشیہ:
چاند سورج کا گرہن آثار قدرت میں سے ہے۔
جن سے اللہ پاک اپنے بندوں کو ڈراتا اور بتلاتا ہے کہ یہ سارا عالم ایک نہ ایک دن اسی طرح تہ و بالا ہونے والا ہے۔
ایسے موقع پر غلام آزاد کرنے کا حکم دیاگیا جو بہت بڑی نیکی ہے اور نوع انسانی کی بڑی خدمت جس کا صلہ یہ کہ اللہ پاک اس غلام کے ہر عضو کو دوزخ سے آزاد کردیتا ہے۔
الحمدللہ اسلام کی اسی پاک تعلیم کا ثمرہ ہے کہ آج دنیا ایسی غلامی سے تقریباً سے ناپید ہوچکی ہے، نیکیوں کی ترغیب کے سلسلہ میں قرآن پاک و احادیث نبوی کا ایک بڑا حصہ غلام آزاد کرانے کی ترغیبات سے بھرپور ہے۔
اس سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں انسانی آزادی کی کس قدر قدروقیمت ہے اور انسانی غلامی کتنی مذموم شے ہے۔
تعجب ہے ان مغرب زدہ ذہنوں پر جو اسلام پر رجعت پسندی کا الزام لگاتے اور اسلام کو انسانی ترقی و آزادی کے خلاف تصور کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو انصاف کی آنکھوں سے تعلیمات اسلام کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
چاند سورج کا گرہن آثار قدرت میں سے ہے۔
جن سے اللہ پاک اپنے بندوں کو ڈراتا اور بتلاتا ہے کہ یہ سارا عالم ایک نہ ایک دن اسی طرح تہ و بالا ہونے والا ہے۔
ایسے موقع پر غلام آزاد کرنے کا حکم دیاگیا جو بہت بڑی نیکی ہے اور نوع انسانی کی بڑی خدمت جس کا صلہ یہ کہ اللہ پاک اس غلام کے ہر عضو کو دوزخ سے آزاد کردیتا ہے۔
الحمدللہ اسلام کی اسی پاک تعلیم کا ثمرہ ہے کہ آج دنیا ایسی غلامی سے تقریباً سے ناپید ہوچکی ہے، نیکیوں کی ترغیب کے سلسلہ میں قرآن پاک و احادیث نبوی کا ایک بڑا حصہ غلام آزاد کرانے کی ترغیبات سے بھرپور ہے۔
اس سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں انسانی آزادی کی کس قدر قدروقیمت ہے اور انسانی غلامی کتنی مذموم شے ہے۔
تعجب ہے ان مغرب زدہ ذہنوں پر جو اسلام پر رجعت پسندی کا الزام لگاتے اور اسلام کو انسانی ترقی و آزادی کے خلاف تصور کرتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو انصاف کی آنکھوں سے تعلیمات اسلام کا مطالعہ کرنا چاہئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2520]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2519
2519. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ علی (بن مدینی) نے دراوردی عن ہشام کے طریق سے موسیٰ بن مسعود کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2519]
حدیث حاشیہ:
علی سے مراد امام بخاری ؒ کے استاد علی بن مدینی ہیں اور دراوردی سے مراد عبدالعزیز بن محمد ہیں۔
موسیٰ بن مسعود اس روایت کو زائدہ بن قدامہ کے واسطے سے ہشام سے بیان کرتے ہیں جبکہ علی بن مدینی دراوردی کے واسطے سے ہشام سے بیان کرتے ہیں۔
گویا علی بن مدینی نے موسیٰ کے استاد کے استاد میں اس کی متابعت کی ہے۔
(فتح الباري: 186/5)
علی سے مراد امام بخاری ؒ کے استاد علی بن مدینی ہیں اور دراوردی سے مراد عبدالعزیز بن محمد ہیں۔
موسیٰ بن مسعود اس روایت کو زائدہ بن قدامہ کے واسطے سے ہشام سے بیان کرتے ہیں جبکہ علی بن مدینی دراوردی کے واسطے سے ہشام سے بیان کرتے ہیں۔
گویا علی بن مدینی نے موسیٰ کے استاد کے استاد میں اس کی متابعت کی ہے۔
(فتح الباري: 186/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2519]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2520
2520. حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہمیں سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیاجاتا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2520]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ دونوں روایات انتہائی مختصر ہیں۔
پہلے متصل حدیث گزر چکی ہے۔
(صحیح البخاري، الکسوف، حدیث: 1047) (2)
عنوان میں اللہ کی دوسری نشانیوں کا ذکر بھی ہے جبکہ حدیث میں صرف سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم ہے، امام بخاری ؒ نے اللہ کی نشانیوں کو سورج گرہن پر قیاس کیا ہے یا پھر ایک دوسرے طریق کی طرف اشارہ فرمایا جس کے الفاظ یہ ہیں:
”سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔
“ (صحیح البخاري، الکسوف، حدیث: 1048)
کیونکہ ڈرانا اکثر و بیشتر آگ سے ہوتا ہے اس مناسبت سے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم ہے جو دوزخ سے آزادی کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 186/5)
واللہ أعلم
(1)
یہ دونوں روایات انتہائی مختصر ہیں۔
پہلے متصل حدیث گزر چکی ہے۔
(صحیح البخاري، الکسوف، حدیث: 1047) (2)
عنوان میں اللہ کی دوسری نشانیوں کا ذکر بھی ہے جبکہ حدیث میں صرف سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم ہے، امام بخاری ؒ نے اللہ کی نشانیوں کو سورج گرہن پر قیاس کیا ہے یا پھر ایک دوسرے طریق کی طرف اشارہ فرمایا جس کے الفاظ یہ ہیں:
”سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔
“ (صحیح البخاري، الکسوف، حدیث: 1048)
کیونکہ ڈرانا اکثر و بیشتر آگ سے ہوتا ہے اس مناسبت سے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم ہے جو دوزخ سے آزادی کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 186/5)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2520]
Sahih Bukhari Hadith 1054 in Urdu
فاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية