علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب لا تنكسف الشمس لموت أحد ولا لحياته:
باب: سورج گرہن کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے نہیں لگتا۔
حدیث نمبر: Q1057
رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ، وَالْمُغِيرَةُ، وَأَبُو مُوسَى، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنهم.
اس کو ابوبکرہ، مغیرہ، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: Q1057]
حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے اسماعیل بن ابی خالد سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے قیس نے بیان کیا، ان سے ابومسعود عقبہ بن عامر انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت کی وجہ سے نہیں لگتا البتہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الكسوف/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1041
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد من الناس |
صحيح البخاري |
1057
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته |
صحيح مسلم |
2115
| الشمس والقمر ليس ينكسفان لموت أحد من الناس |
صحيح مسلم |
2114
| الشمس والقمر آيتان من آيات الله يخوف الله بهما عباده |
سنن النسائى الصغرى |
1463
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد لكنهما آيتان من آيات الله إذا رأيتموهما فصلوا |
سنن ابن ماجه |
1261
| الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد من الناس إذا رأيتموه فقوموا فصلوا |
مسندالحميدي |
460
| إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت ولا حياة فإذا رأيتم ذلك فافزعوا إلى ذكر الله وإلى الصلاة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1057 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1057
حدیث حاشیہ:
حضرت ابو مسعود ؓ کے علاوہ متعدد صحابۂ کرام ؓ سے یہ روایت منقول ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے صحیح مسلم میں، حضرت عبداللہ بن عمروؓ، حضرت نعمان بن بشیرؓ، حضرت قبیصہ ہلالیؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے سنن نسائی میں، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سمرہ بن جندبؓ اور حضرت محمود بن لبید ؓ سے مسند امام احمد میں، حضرت عقبہ بن عامرؓ اور حضرت بلال ؓ سے معجم طبرانی میں حدیث کے مذکورہ الفاظ مروی ہیں۔
ان روایات سے قطعی طور پر اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقت پر مبنی بات ارشاد فرمائی ہے۔
ان الفاظ سے ان لوگوں کا جھوٹ ثابت ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ سورج یا چاند کے گرہن میں کسی کی موت و حیات کا دخل ہے۔
(فتح الباري: 703/2)
حضرت ابو مسعود ؓ کے علاوہ متعدد صحابۂ کرام ؓ سے یہ روایت منقول ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے صحیح مسلم میں، حضرت عبداللہ بن عمروؓ، حضرت نعمان بن بشیرؓ، حضرت قبیصہ ہلالیؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓ سے سنن نسائی میں، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت سمرہ بن جندبؓ اور حضرت محمود بن لبید ؓ سے مسند امام احمد میں، حضرت عقبہ بن عامرؓ اور حضرت بلال ؓ سے معجم طبرانی میں حدیث کے مذکورہ الفاظ مروی ہیں۔
ان روایات سے قطعی طور پر اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقت پر مبنی بات ارشاد فرمائی ہے۔
ان الفاظ سے ان لوگوں کا جھوٹ ثابت ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ سورج یا چاند کے گرہن میں کسی کی موت و حیات کا دخل ہے۔
(فتح الباري: 703/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1057]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1261
سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان۔
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ۱؎، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو، اور نماز پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1261]
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ۱؎، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو، اور نماز پڑھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1261]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سورج اور چاند اللہ کی عظیم مخلوقات میں سے ہیں۔
حتیٰ کہ بعض مشرک اقوام ان کی پوجا کرتی ہیں۔
لیکن یہ بھی اللہ کے حکم کے سامنے بے بس ہیں۔
اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کا نور چھین لیتا ہے۔
اللہ کی عظمت کی اس نشانی کے ظہور پر مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کے سامنے اپنے عجز وانکسار کا اظہار کرنے کے لئے نماز پڑھیں۔
(2)
قیامت کے دن سورج اور چاند کی روشنی ختم ہوجائےگی۔
گرہن ہمیں قیامت کی یاد دلاتا ہے۔
جو بہت شدید دن ہے۔
گناہ گاروں کو چاہیے کہ قیامت کے شدائد یاد کرکے اللہ کے سامنے جھک جایئں اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اس لئے اس موقع پر طویل نماز پڑھنا مسنون ہے۔
جس کا طریقہ دوسری احادیث میں تفصیل سے مذکور ہ مثلاً دیکھئے: حدیث 1265، 1263)
(3)
جاہلیت میں یہ مشہور تھا کہ گرہن اس وقت لگتا ہے۔
جب کسی بڑے آدمی کی وفات ہو یا کوئی عظیم آدمی پیدا ہو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
”سورج اور چاند اللہ نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
انھیں کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا۔
لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں كو ڈراتا ہے۔“ (صحیح البخاري، الکسوف، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخوف اللہ عبادہ بالکسوف، حدیث: 1048)
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے۔
نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، جب تم لوگ انھیں (گرہن لگا ہوا)
دیکھو تو نماز کی طرف توجہ کرو“ (صحیح البخاري، الکسوف، باب ھل یقول کسفت الشمس أو خسفت؟، حدیث: 1047)
فوائد و مسائل:
(1)
سورج اور چاند اللہ کی عظیم مخلوقات میں سے ہیں۔
حتیٰ کہ بعض مشرک اقوام ان کی پوجا کرتی ہیں۔
لیکن یہ بھی اللہ کے حکم کے سامنے بے بس ہیں۔
اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کا نور چھین لیتا ہے۔
اللہ کی عظمت کی اس نشانی کے ظہور پر مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ کے سامنے اپنے عجز وانکسار کا اظہار کرنے کے لئے نماز پڑھیں۔
(2)
قیامت کے دن سورج اور چاند کی روشنی ختم ہوجائےگی۔
گرہن ہمیں قیامت کی یاد دلاتا ہے۔
جو بہت شدید دن ہے۔
گناہ گاروں کو چاہیے کہ قیامت کے شدائد یاد کرکے اللہ کے سامنے جھک جایئں اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اس لئے اس موقع پر طویل نماز پڑھنا مسنون ہے۔
جس کا طریقہ دوسری احادیث میں تفصیل سے مذکور ہ مثلاً دیکھئے: حدیث 1265، 1263)
(3)
جاہلیت میں یہ مشہور تھا کہ گرہن اس وقت لگتا ہے۔
جب کسی بڑے آدمی کی وفات ہو یا کوئی عظیم آدمی پیدا ہو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
”سورج اور چاند اللہ نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
انھیں کسی کے مرنے پر گرہن نہیں لگتا۔
لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں كو ڈراتا ہے۔“ (صحیح البخاري، الکسوف، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم یخوف اللہ عبادہ بالکسوف، حدیث: 1048)
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
انہیں نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے۔
نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، جب تم لوگ انھیں (گرہن لگا ہوا)
دیکھو تو نماز کی طرف توجہ کرو“ (صحیح البخاري، الکسوف، باب ھل یقول کسفت الشمس أو خسفت؟، حدیث: 1047)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1261]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:460
460- سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، اس دن سورج گرہن ہوگیا، تو لوگوں نے کہا: سیدنا ابراھیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے جینے یا مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف تیزی سے جاؤ۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:460]
فائدہ:
سورج یا چاند گرہن کے وقت استغفار اور صدقہ و خیرات کرنا چاہیے، اور نماز کسوف پڑھنی چاہیے، اس کی تفصیل بخاری ومسلم میں موجود ہے۔
سورج یا چاند گرہن کے وقت استغفار اور صدقہ و خیرات کرنا چاہیے، اور نماز کسوف پڑھنی چاہیے، اس کی تفصیل بخاری ومسلم میں موجود ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 460]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1041
1041. حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند لوگوں میں سے کسی کے مرنے کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں اس حالت میں دیکھو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1041]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہو اکہ گرہن کی نماز کا وقت وہی ہے جب گرہن لگے خواہ وہ کسی وقت ہو اور حنفیوں نے اوقات مکروہہ کو مستثنی کیا ہے اور امام احمد سے بھی مشہورروایت یہی ہے اور مالکیہ کے نزدیک اس وقت سورج کے نکلنے سے آفتاب کے ڈھلنے تک ہے اور اہل حدیث نے اول مذہب کواختیار کیا ہے اور وہی راجح ہے۔
(وحیدی)
اس حدیث سے معلوم ہو اکہ گرہن کی نماز کا وقت وہی ہے جب گرہن لگے خواہ وہ کسی وقت ہو اور حنفیوں نے اوقات مکروہہ کو مستثنی کیا ہے اور امام احمد سے بھی مشہورروایت یہی ہے اور مالکیہ کے نزدیک اس وقت سورج کے نکلنے سے آفتاب کے ڈھلنے تک ہے اور اہل حدیث نے اول مذہب کواختیار کیا ہے اور وہی راجح ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1041]
Sahih Bukhari Hadith 1057 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← أبو مسعود الأنصاري