🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب سجود المسلمين مع المشركين:
باب: مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1071
وَالْمُشْرِكُ نَجَسٌ لَيْسَ لَهُ وُضُوءٌ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْجُدُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ.
‏‏‏‏ حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا) اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بےوضو سجدہ کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب سجود القرآن/حدیث: Q1071]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1071
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ"، وَرَوَاهُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا تو مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس حدیث کی روایت ابراہیم بن طہمان نے بھی ایوب سختیانی سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب سجود القرآن/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكرثقة ثبتت حجة
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← أيوب السختياني
ثقة
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← إبراهيم بن طهمان الهروي
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← أيوب السختياني
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4862
سجد النبي بالنجم وسجد معه المسلمون والمشركون والجن والإنس
صحيح البخاري
1071
سجد بالنجم وسجد معه المسلمون والمشركون والجن والإنس
جامع الترمذي
575
سجد رسول الله فيها يعني النجم والمسلمون والمشركون والجن والإنس
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1071 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1071
حدیث حاشیہ:
ظاہر ہے کہ مسلمان بھی اس وقت سب باوضو نہ ہوں گے اور مشرکوں کے وضو کا تو کوئی سوال ہی نہیں پس بے وضو سجدہ کرنے کا جواز نکلا اور امام بخاری ؒ کا بھی یہی قول ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1071]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1071
حدیث حاشیہ:
(1)
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے شرح تراجم بخاری میں امام بخاری ؒ کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے اس حدیث سے سجدۂ تلاوت کے لیے وضو کے عدم وجوب کا استدلال کیا ہے۔
کیونکہ مشرکین کے وضو کا کوئی اعتبار نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سجدہ کرنے سے منع نہیں کیا۔
حالانکہ امام بخاری ؒ اس قسم کے بے بنیاد استدلال کرنے سے بہت بالا ہیں کیونکہ سجدۂ تلاوت کے لیے طہارت کی ضرورت کو شعبی کے علاوہ دیگر تمام اکابر امت نے تسلیم کیا ہے۔
(المغني: 358/2)
مشرکین کا سجدہ سرے سے عبادت ہی نہیں تو ان کے لیے وضو اور غیر وضو برابر ہے۔
اگر حضرت ابن عمر ؓ سے بے وضو سجدۂ تلاوت ثابت بھی ہو، جیسا کہ صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں ہے تو ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ دوران سفر ہوں اور انہوں نے تیمم سے سجدہ کیا ہو۔
پھر ان سے یہ بات ثابت ہے کہ کوئی آدمی طہارت کے بغیر سجدہ نہ کرے۔
(السنن الکبرٰی للبیھقي: 325/2)
اس تفصیل کے پیش نظر یہ یقین کر لینا مشکل ہے کہ امام بخاری ؒ طہارت کے بغیر جواز سجدۂ تلاوت کے قائل ہیں، بلکہ ان کا مشرکین کے متعلق نجس ہونے کی صراحت کرنا کہ ان کا وضو بھی صحیح نہیں اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ ابن عمر کے متعلق باوضو سجدہ کرنے کا رجحان رکھتے ہیں، البتہ امام ابن تیمیہ ؒ بے وضو سجدۂ تلاوت کرنے کے قائل ہیں اور انہوں نے امام بخارى ؒ کو بھی اپنے ساتھ خیال کیا ہے۔
جیسا کہ انہوں نے فتاوی الكبری، باب سجود التلاوة میں اس کی صراحت کی ہے۔
(2)
امام ابن حزم ؒ اللہ فرماتے ہیں:
جب سجدۂ تلاوت، نماز نہیں تو بغیر وضو جنبی کے لیے، حائضہ کے لیے اور غیر قبلہ کی طرف دیگر تمام اذکار کی طرح مباح اور جائز ہے۔
(المحلی لابن حزم: 105/5)
البتہ ابن قدامہ ؒ لکھتے ہیں کہ ان سجدہ ہائے تلاوت کے لیے وہی شرط لگائی جائے گی جو نفل کے لیے لگائی جاتی ہے، یعنی حدث اور نجاست سے طہارت، ستر ڈھانپنا، قبلہ رخ ہونا اور نیت کرنا، ہمیں اس میں کسی اختلاف کا علم بھی نہیں۔
(المغني: 358/2)
اس بحث کے متعلق تحفۃ الاحوذی (3/219)
کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ہمارے نزدیک کسی مشقت یا مجبوری کے پیش نظر سجدۂ تلاوت وضو کے بغیر کیا جا سکتا ہے لیکن ایسے حالات میں اسے تیمم سے کام لے لینا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
(3)
ابراہیم بن طہمان کی روایت جسے انہوں نے ایوب سختیانی سے بیان کیا ہے، علامہ اسماعیلی نے متصل سند سے بیان کی ہے۔
(فتح الباري: 781/8)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1071]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 575
سورۃ النجم کے سجدے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یعنی سورۃ النجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور انسانوں نے بھی سجدہ کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 575]
اردو حاشہ:
1؎:
یہاں تفسیر اور شروحات حدیث کی کتابوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں پیش آنے والا غرانیق سے متعلق ایک عجیب و غریب قصہ مذکور ہوا ہے،
جس کی تردید آئمہ کرام اور علماء عظام نے نہایت مدلل انداز میں کی ہے۔

(تفصیل کے لیے دیکھئے:
تحفۃ الأحوذی،
فتح الباری،
مقدمۃ الحدیث،
جلداوّل)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 575]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4862
4862. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور انسانوں سب نے سجدہ کیا۔ ابراہیم بن طہمان نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے عبدالوارث کی متابعت کی ہے۔ اور ابن علیہ نے اپنی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4862]
حدیث حاشیہ:
کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کے وقت آپ کی زبان اطہرپرشیطان نے یہ کلمات جاری کر دیے تھے۔
ان بلند مرتبہ دیویوں کی سفارش کی امید کی جا سکتی ہے۔
یہ سن کر مشرکین بھی سجدے میں گر گئے۔
یہ بات عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کی تاثیر سے کافروں اور مشرکوں سب نے سجدہ کیا مشرکین کوغیبی تصرف کی وجہ سے طوعاً وكرهاً سر بسجود ہونا پڑا۔
صرف ایک بد بخت نے سجدہ نہ کیا کیونکہ اس کے دل پر مہر لگی ہوئی تھی جیسا کہ درج ذیل آیت میں اس صراحت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4862]

Sahih Bukhari Hadith 1071 in Urdu