Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فضل الصلاة فى مسجد مكة والمدينة:
باب: مکہ اور مدینہ کی مساجد میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وقَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغر سے خبر دی، انہیں ابوعبدللہ اغر نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجد الحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضل الصلاة/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان الأغر، أبو عبد الله
Newسلمان الأغر ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن سلمان الجهني
Newعبيد الله بن سلمان الجهني ← سلمان الأغر
ثقة
👤←👥زيد بن رباح المدني
Newزيد بن رباح المدني ← عبيد الله بن سلمان الجهني
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← زيد بن رباح المدني
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
695
صلاة في مسجد رسول الله أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
سنن النسائى الصغرى
2902
صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا الكعبة
صحيح البخاري
1190
صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام
صحيح مسلم
3376
صلاة في مسجد رسول الله أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
صحيح مسلم
3377
صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة أو كألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا أن يكون المسجد الحرام
صحيح مسلم
3375
صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة في غيره من المساجد إلا المسجد الحرام
صحيح مسلم
3374
صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام
جامع الترمذي
325
صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام
جامع الترمذي
3916
صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
سنن ابن ماجه
1404
صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
189
صلاة فى مسجدي هذا خير من الف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام
مسندالحميدي
969
صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1190 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1190
حدیث حاشیہ:
میری مسجد سے مسجد نبوی مراد ہے۔
حضرت امام ؒ کا اشارہ یہی ہے کہ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے شد رحال کیا جائے اور جو وہاں جائے گا لازماً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحضرات شیخین پر بھی درود وسلام کی سعادتیں اس کو حاصل ہوں گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1190]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1190
حدیث حاشیہ:
(1)
میری اس مسجد سے مراد مسجد نبوی ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ کا اشارہ یہی ہے کہ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے سفر اختیار کیا جائے۔
پھر جس شخص کو یہ سعادت نصیب ہو گی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرے گا، نیز آپ پر درود و سلام پھر شیخین کی قبروں پر سلام پڑھنے کی سعادتیں اسے حاصل ہوں گی۔
پہلی امتوں کے کچھ لوگ کوہ طور اور حضرت یحییٰ ؑ کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے دور دراز کا سفر کر کے آتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین زیارت گاہیں مقرر فرمائی ہیں۔
ان کے علاوہ اجمیر، سہون، بغداد یا کربلا کا سفر کرنا شرعاً صحیح نہیں۔
واللہ أعلم۔
(2)
ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
شارح بخاری ابن بطال نے لکھا ہے کہ حدیث میں مسجد حرام کے علاوہ کے الفاظ میں تین امور کا احتمال ہے:
وہ یہ کہ مسجد حرام مسجد نبوی کے مساوی ہے یا اس سے افضل یا اس سے کمتر، پہلا درجہ کہ اسے مساوی قرار دیا جائے یہی راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا افضل یا کم تر ہونا دلیل کا محتاج ہے۔
شاید انہیں وہ حدیث نہیں پہنچی جس میں وضاحت ہے کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ، مسجد نبوی میں نماز ادا کرنا ایک ہزار اور مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی پانچ سو نماز کے برابر ہے۔
اس روایت کو امام بزار نے اپنی مسند اور امام طبرانی نے اپنی معجم میں بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 87/3)
اس لیے ابن بطال کا موقف مرجوح ہے۔
امام نووی ؒ نے لکھا ہے کہ نمازی کو کوشش کے ساتھ مسجد نبوی کے اس حصے میں نماز پڑھنی چاہیے جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر کیا تھا، کیونکہ حدیث میں مسجدي هذا کے الفاظ سے اسی طرف اشارہ مقصود ہے۔
لیکن علمائے امت کا اتفاق ہے کہ مذکورہ فضیلت موجودہ تمام توسیع شدہ مسجد کو شامل ہے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں مسجد نبوی کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی، اس کی چھت کھجور کی شاخوں سے تیار کی گئی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنے تھے۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3906)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ خیبر سے واپس آئے تو مسجد نبوی میں پہلی دفعہ توسیع کی گئی کیونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ چکی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عرض میں چالیس ہاتھ اور طول میں تیس ہاتھ کا اضافہ فرمایا، البتہ دیوار قبلہ پہلی حد تک ہی رہی۔
کھجور کے تنوں سے بنائے ہوئے دور نبوی کے ستون جب کھوکھلے ہو گئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انہیں تبدیل کر دیا۔
مسجد نبوی میں توسیع کے متعلق مکمل معلومات کے لیے اطلس سیرت نبوی (ص: 160 تا 165 طبع دارالسلام)
کا مطالعہ مفید رہے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1190]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 189
مسجد نبوی اور بیت اللہ میں نماز پڑھنے کا ثواب
«. . . عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صلاة فى مسجدي هذا خير من الف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام کے. . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 189]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 1190، من حديث مالك به]
تفقہ:
① تمام مسجدوں کے مقابلے میں مسجد نبوی میں ایک نماز پڑھنے پر ایک ہزار نمازوں کا ثواب ملتا ہے سوائے مسجد حرام (کعبۃ اللہ) کے، کیوںکہ مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے زیادہ ہے۔ دیکھئے: [سنن ابن ماجه 1406، و سنده صحيح]
سیدنا عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلاة فى مسجدي هذا افضل من الف صلاة فيما سواه من المساجد الا المسجد الحرام، وصلاة فى المسجد الحرام افضل من مائة صلاة فى هذا .» دوسری مسجدوں کے مقابلے میں میری اس مسجد میں نماز ہزار درجے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے اور مسجد حرام (کعبہ) میں نماز میری اس مسجد میں نماز سے سو درجے افضل ہے۔ [مسند أحمد 5/4 ح 16117، و سنده صحيح و صححه ابن حبان: 1620]
② مسجد نبوی کے مقابلے میں مسجد حرام میں نماز کا ثواب زیادہ ہے۔
③ جو لوگ کہتے ہیں کہ مدینہ مکے سے زیادہ افضل ہے، ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور بہتر یہی ہے کہ ایسے امور میں سکوت کیا جائے اور بے فائدہ کلام سے اجتناب کیا جائے۔
④ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حزوَرہ (مکہ کے ایک مقام) پر کھڑے ہوکر فرمایا: «والله! إنك لخير أرض الله وأحب أرض الله إليّ، والله! لو لا أني أخرجت منك ما خرجت .» اللہ کی قسم! تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اور مجھے اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہے، اللہ کی قسم! اگر مجھے تجھ سے جدا نہ کیا جاتا تو میں یہاں سے کبھی نہ نکلتا۔ [سنن ابن ماجه: 3108 وسنده صحيح، وصححه الترمذي: 3925 وابن حبان: 3700 والحاكم عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي]
⑤ بیت الله (مسجد حرام) اور مسجد نبوی دو ایسے مقام ہیں جہاں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت زیادہ ہے اور بعض روایات میں بیت المقدس کا ذکر بھی آتا ہے لیکن اپنی طرف سے گھڑ کر عوام میں یہ مشہور کرنا کہ اجمیر یا رائے ونڈ میں نماز کا ثواب زیادہ ملتا ہے، بالکل باطل اور مردود ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 186]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،صحیح مسلم 3376
آخر المساجد کا مطلب
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ رحمہ اللہ کی سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«فإني آخر الأنبياء و إن مسجدي آخر المساجد .»
پس بے شک میں آخری نبی ہوں اور بے شک میری مسجد آخری مسجد (جسے کسی نبی نے خود تعمیر کیا) ہے۔ [صحيح مسلم: 507/1394، دارالسلام: 3376]
آخر المساجد کی تشریح میں حافظ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی رحمہ اللہ (متوفی 656ھ) نے لکھاہے:
«فربط الكلام بفاء التعليل مشعرًا بأن مسجده إنما فضّل على المساجد كلها لأنه متأخر عنها و منسو ب إلٰي نبي متأخر عن الأنبياء كلهم فى الزمان .»
پس آپ نے فاء تعلیل کے ساتھ یہ بتانے کے لئے کلام مربوط کیا کہ آپ کی مسجد اس وجہ سے تمام مساجد پر فضیلت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ان کے بعد ہے اور تمام انبیاء کے بعد آنے والے نبی آخر الزمان کی طرف نسبت رکھتی ہے۔ [المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم 3/ 506 ح 1246]
قاضی عیاض المالکی اور محمد بن خلیفہ الوشتانی الابی دونوں نے اس حدیث سے یہ مراد لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد دوسری مسجدوں سے افضل ہے۔ [اكمال المعلم بفوائد مسلم 4/ 512، اكمال اكمال المعلم 4/ 509]
آخر الانبیاء کی نسبت سے آخر المساجد کا صرف یہی مطلب ہے کہ آخر مساجد الانبیاء، اس کے علاوہ دوسرا کوئی مطلب ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ایسا معنی سلف صالحین کے کسی مستند عالم سے ثابت ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 100 صفحہ 22 تا 47
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 695
مسجد نبوی اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ۱؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیوں نہیں گفتگو کر لی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ (مسجد نبوی) آخری مسجد ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 695]
695 ۔ اردو حاشیہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری نبی ہیں تو آپ کی مسجد لازماً آخری مسجد ہو گی جسے کسی نبی نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہو۔ مسلمانوں کا قبلہ سب سے پہلی مسجد جسے اولین نبی نے بنایا اور مسلمانوں کا مرکز سب سے آخری مسجد ہے جسے آخری نبی نے بنایا۔ واہ رے فضیلت! اور یہ فضیلت قیامت تک رہے گی۔ [ديكهيے فوائد حديث: 692]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 695]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1404
مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ۱؎، سوائے مسجد الحرام کے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1404]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا میں سب سے افضل مسجدیں تین ہیں۔
مسجد حرام جس کے اندر خانہ کعبہ ہے۔
مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ اس لئے ان تینوں مسجدوں کی زیارت کے لئے اور وہاں عبادت کی نیت سے سفر کرنا جائز اور ثواب کا کام ہے۔
ان کے علاوہ کسی بھی مقام، مسجد، مزار وغیرہ کی طرف اس نیت سے سفر کرکے جانا جائز نہیں۔
کہ وہاں عبادت کا ثواب زیادہ ہوگا۔
کیونکہ قبرستان میں تونماز پڑھنا منع ہے۔
اور دوسری تمام مساجد کا ثواب برابر ہے۔
لہٰذا سفر کا فائدہ نہیں۔
البتہ مسجد قباء کی فضیلت بھی دیگر احادیث سے ثابت ہے۔
اس لئے یہ چوتھی مسجد ہے۔
جس کی مدینے میں ہوتے ہوئے زیارت کے لئے جانا مستحب ہے۔

(2)
مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز کے برابر ہے۔
اس لئے جب مدینہ شریف جانے کا موقع ملے۔
تو زیادہ سے زیادہ نمازیں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس میں چالیس نمازیں پوری کرنے کی شرط نہیں۔

(3)
بعض روایات میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر آیا ہے۔
مثلاً سنن ان ماجہ، حدیث: 1413۔
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1404]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:969
969- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میری اس مسجد میں نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کسی بھی مسجد میں ایک ہزار نماز یں ادا کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ البتہ مسجد حرام کا حکم مختلف ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:969]
فائدہ:
اس حدیث میں مسجد نبوی اور مسجد حرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان ہے، مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار (1000) نماز کے ثواب کے برابر ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 968]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث، صحيح مسلم: 3376
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور جہینوں کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ الاغرّ (جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تلامذہ میں سے ہیں) دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا، مسجد حرام کے سوا باقی مساجد سے ہزار نماز افضل ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (انبیاء علیہم السلام کی) آخری مسجد ہے، ابو سلمہ اور ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3376]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مسجد حرام اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز پڑھنے کا ثواب کس قدر ہے، اس کی تفصیل ہم آخر میں پیش کریں گے،
پہلے صرف اس قدر بتانا مطلوب ہے کہ مرزائی حضرات کا اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ جب آخر المساجد کے بعد نئی مساجد بنانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے آخر المساجد ہونے کی منافی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر الانبیاء ہونے کے بھی منافی نہیں ہے۔
کیونکہ اس حدیث کی وضاحت (کشف الاستار عن زوائد بزار ج2 ص 56 مطبوعہ موسسۃ الرسالہ بیروت) کی حدیث سے ہو جاتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
(أَنَا خَاتَمُ الأَنْبِيَاءِ، وَمَسْجِدِي خَاتَمُ مَسَاجِدِ الأَنْبِيَاءِ)
(میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں آخری مسجد ہے۔)
اس لیے یہ حدیث بھی ان کے خلاف ہے حق میں نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3376]