یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب قول الميت وهو على الجنازة قدموني:
باب: نیک میت چارپائی پر کہتا ہے کہ مجھے آگے بڑھائے چلو (جلد دفناؤ)۔
حدیث نمبر: 1316
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِأَهْلِهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا , يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ، إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد (کیسان) نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1316]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ تیار کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے: مجھے جلدی آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے: افسوس! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسانوں کے علاوہ اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے۔ اگر انسان اسے سن لیں تو (مارے دہشت کے) بے ہوش ہو جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد كيسان المقبري ← أبو سعيد الخدري | ثقة ثبت | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← كيسان المقبري | ثقة | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد عبد الله بن يوسف الكلاعي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1316 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1316
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث پر ایک اور عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے:
(كلام الميت علی الجنازة)
”میت کا چارپائی پر کلام کرنا“ یہ تکرار نہیں، کیونکہ اس حدیث سے جنازے کو جلدی لے کر چلنا ثابت کیا گیا ہے۔
گویا یہ پہلے عنوان کا تکملہ اور تتمہ ہے اور یہ باب فی باب کی قبیل سے ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ جنازہ اٹھاتے ہی اس کی پیشی شروع ہو جاتی ہے۔
(2)
واضح رہے کہ جنازہ اٹھاتے وقت اللہ تعالیٰ میت کو برزخی زبان عطا کر دیتا ہے۔
اگر وہ جنتی ہے تو اس جنت کے شوق میں کہتا ہے کہ مجھے جلدی جلدی لے چلو تاکہ میں اپنی مراد کو حاصل کروں اور اگر دوزخی ہے تو گھبرا کر کہتا ہے کہ مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ اس وقت اللہ تعالیٰ ایسے طریقے سے بولنے کی طاقت دیتا ہے کہ اس کی آواز کو جنوں اور انسانوں کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے۔
(3)
اس حدیث سے بعض حضرات نے سماع موتیٰ کا مسئلہ کشید کیا ہے جو بالکل بے بنیاد ہے۔
اس کی وضاحت ہم حدیث: 3976 میں کریں گے۔
(4) (إذا وضعت الجنازة)
کے دو مفہوم ہیں:
ایک یہ کہ جب میت کو تیار کر کے چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے، دوسرا یہ کہ جب میت کو گردنوں پر اٹھا لیا جاتا ہے۔
پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نیک آدمی کو جب چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو۔
“ (سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 1909)
(1)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ حدیث پر ایک اور عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے:
(كلام الميت علی الجنازة)
”میت کا چارپائی پر کلام کرنا“ یہ تکرار نہیں، کیونکہ اس حدیث سے جنازے کو جلدی لے کر چلنا ثابت کیا گیا ہے۔
گویا یہ پہلے عنوان کا تکملہ اور تتمہ ہے اور یہ باب فی باب کی قبیل سے ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ جنازہ اٹھاتے ہی اس کی پیشی شروع ہو جاتی ہے۔
(2)
واضح رہے کہ جنازہ اٹھاتے وقت اللہ تعالیٰ میت کو برزخی زبان عطا کر دیتا ہے۔
اگر وہ جنتی ہے تو اس جنت کے شوق میں کہتا ہے کہ مجھے جلدی جلدی لے چلو تاکہ میں اپنی مراد کو حاصل کروں اور اگر دوزخی ہے تو گھبرا کر کہتا ہے کہ مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ اس وقت اللہ تعالیٰ ایسے طریقے سے بولنے کی طاقت دیتا ہے کہ اس کی آواز کو جنوں اور انسانوں کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے۔
(3)
اس حدیث سے بعض حضرات نے سماع موتیٰ کا مسئلہ کشید کیا ہے جو بالکل بے بنیاد ہے۔
اس کی وضاحت ہم حدیث: 3976 میں کریں گے۔
(4) (إذا وضعت الجنازة)
کے دو مفہوم ہیں:
ایک یہ کہ جب میت کو تیار کر کے چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے، دوسرا یہ کہ جب میت کو گردنوں پر اٹھا لیا جاتا ہے۔
پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نیک آدمی کو جب چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو۔
“ (سنن النسائي، الجنائز، حدیث: 1909)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1316]
Sahih Bukhari Hadith 1316 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو سعيد الخدري