🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب إذا تحولت الصدقة:
باب: جب صدقہ محتاج کی ملکیت ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1495
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ"، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ قتادہ سے اور وہ انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ گوشت پیش کیا گیا جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کے طور پر ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کو یہ گوشت ان پر صدقہ تھا۔ لیکن ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔ ابوداؤد نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی۔ انہیں قتادہ نے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← أبو داود الطيالسي
صحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ إمام
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا
Newيحيى بن موسى الحداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2577
هو لها صدقة ولنا هدية
صحيح البخاري
1495
هو عليها صدقة وهو لنا هدية
صحيح مسلم
2485
هو لها صدقة ولنا هدية
سنن أبي داود
1655
لها صدقة ولنا هدية
سنن النسائى الصغرى
3791
هو لها صدقة ولنا هدية
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1495 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1495
حدیث حاشیہ:
مقصد یہ ہے کہ صدقہ مسکین کی ملکیت میں آکر اگر کسی کو بطور تحفہ پیش کردیا جائے تو جائز ہے اگرچہ وہ تحفہ پانے والا غنی ہی کیوں نہ ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1495]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1495
حدیث حاشیہ:
(1)
جب صدقہ و خیرات کسی محتاج کے پاس پہنچ جائے اور وہ اس کا مالک بن جائے تو اب اس کی صدقے والی حیثیت ختم ہو جاتی ہے، اب اسے کسی کو تحفے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اگرچہ تحفہ پانے والا غنی ہی کیوں نہ ہو۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہاشمی اگر صدقات کو اکٹھا کرنے پر مامور ہو تو اسے حق الخدمت کے طور پر صدقہ دیا جا سکتا ہے کیونکہ جب وہ اسے بطور ہدیہ لے سکتا ہے تو بطور محنت اور مزدوری کیوں نہیں لے سکتا۔
(فتح الباري: 449/3)
روایت کے آخر میں ایک طریق میں حضرت قتادہ کے حضرت انس ؓ سے سماع کا اثبات کیا گیا ہے، اس میں ابوداود سے مراد مشہور محدث ابوداود طیالسی ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1495]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1655
فقیر مالدار کو صدقہ کا مال ہدیہ کر سکتا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس (بریرہ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے (بریرہ کی طرف سے) ہدیہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1655]
1655. اردو حاشیہ:
➊ صدقہ اور ہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ انسان کےفقر ومجبوری کے پیش نظر اللہ کی رضا اور آخرت کےثواب کےلئے دیاجاتا ہے۔۔۔جبکہ ہدیہ۔۔۔دیئے جانے والے کے اکرام اور اس سے قربت کی غرض سے دیا جاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے صدقہ حرام ہونے کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کے سوا کسی اور کا احسان باقی رہے۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر صدقہ حرام قرار دیا تھا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمالیتے اور صاحب ہدیہ کو اس کا بدلہ دے کر اس کے احسان سے بری الذمہ ہوجاتے تھے۔
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فقیر ومسکین صدقے کا مالک بن جانے کے بعد اس میں کامل تصرف کا حق رکھتا ہے۔خواہ ہدیہ دے یا دوسروں کو صدقہ دے جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1655]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3791
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا عطیہ دینا (کیسا ہے)۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ نے پوچھا: یہ کیسا گوشت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3791]
اردو حاشہ:
اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ صدقے کے مال سے کوئی غریب شخص ہدیہ بھیج سکتا ہے۔ اور اسے ہر شخص قبول کرسکتا ہے‘ امیر ہو یا غریب کیونکہ اب اس کی حیثیت تحفے کی ہے‘ صدقے کی نہیں۔ گویا جو چیز بذات خود حرام نہ ہو تو دینے والے اور لینے والے کی نیت اور حیثیت کے لحاظ سے اس کی حیثیت بدلتی رہتی ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل پیچھے گزرچکی ہے۔ دیکھیے‘ حدیث: 3477۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3791]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2485
0 [صحيح مسلم، حديث نمبر:2485]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صدقہ لینے والا ایک اعتبار سے صدقہ دینے والے کا احسان مند اور ممنوع ہوتا ہے اس کو اپنے سے برتر اور بہترتصور کرتا ہے۔
لیکن ہدیہ دینے والا قبول کرنے والے کو معزز المحترم سمجھ کر ہدیہ پیش کرتا ہے اور اس کا ممنون احسان ہوتا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدیہ قبول کرنا جائز تھا۔
صدقہ قبول کرنا روانہ تھا۔
نیز ہدیہ کی صورت میں عام طور پر جواباً ہدیہ دیا جاتا ہے۔
اس لیے اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2485]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2577
2577. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا اوربتایا گیا کہ یہ حضرت بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2577]
حدیث حاشیہ:
محتاج مسکین جب صدقہ یا زکوٰۃ کا مالک بن چکا تو اب وہ مختار ہے جسے چاہے کھلائے جس کو چاہے دے۔
امیر یا غریب کو اس کا تحفہ قبول کرنا جائز ہوگا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2577]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2577
2577. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا اوربتایا گیا کہ یہ حضرت بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: یہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2577]
حدیث حاشیہ:
جب صدقہ اپنے محل پر پہنچ جائے تو جسے ملا ہے وہ اس کا مالک ہے۔
اب وہ کسی کو دیتا ہے تو اس کی حیثیت بدل چکی ہے، وہ صدقہ نہیں رہا بلکہ وہ تحفے کی صورت اختیار کر چکا ہے کیونکہ صدقہ جب اپنی جگہ پر پہنچ جاتا ہے تو اس سے صدقے کا حکم ختم ہو جاتا ہے۔
اب اس کا استعمال دوسرے لوگوں کے لیے جائز ہے جن پر صدقہ حرام ہوتا ہے۔
امیر یا غریب کو اس کا تحفہ قبول کرنا جائز ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2577]

Sahih Bukhari Hadith 1495 in Urdu