صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
52. باب إباحة الهدية للنبي صلى الله عليه وسلم ولبني هاشم وبني المطلب وإن كان المهدي ملكها بطريق الصدقة وبيان ان الصدقة إذا قبضها المتصدق عليه زال عنها وصف الصدقة وحلت لكل احد ممن كانت الصدقة محرمة عليه:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر ہدیہ حلال ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1074 ترقیم شاملہ: -- 2485
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: أَهْدَتْ بَرِيرَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَيْهَا، فَقَال: " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ کنیز) حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کچھ گوشت جو اس پر صدقہ کیا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1074
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2577
| هو لها صدقة ولنا هدية |
صحيح البخاري |
1495
| هو عليها صدقة وهو لنا هدية |
صحيح مسلم |
2485
| هو لها صدقة ولنا هدية |
سنن أبي داود |
1655
| لها صدقة ولنا هدية |
سنن النسائى الصغرى |
3791
| هو لها صدقة ولنا هدية |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2485 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2485
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
صدقہ لینے والا ایک اعتبار سے صدقہ دینے والے کا احسان مند اور ممنوع ہوتا ہے اس کو اپنے سے برتر اور بہترتصور کرتا ہے۔
لیکن ہدیہ دینے والا قبول کرنے والے کو معزز المحترم سمجھ کر ہدیہ پیش کرتا ہے اور اس کا ممنون احسان ہوتا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدیہ قبول کرنا جائز تھا۔
صدقہ قبول کرنا روانہ تھا۔
نیز ہدیہ کی صورت میں عام طور پر جواباً ہدیہ دیا جاتا ہے۔
اس لیے اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
صدقہ لینے والا ایک اعتبار سے صدقہ دینے والے کا احسان مند اور ممنوع ہوتا ہے اس کو اپنے سے برتر اور بہترتصور کرتا ہے۔
لیکن ہدیہ دینے والا قبول کرنے والے کو معزز المحترم سمجھ کر ہدیہ پیش کرتا ہے اور اس کا ممنون احسان ہوتا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدیہ قبول کرنا جائز تھا۔
صدقہ قبول کرنا روانہ تھا۔
نیز ہدیہ کی صورت میں عام طور پر جواباً ہدیہ دیا جاتا ہے۔
اس لیے اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2485]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1655
فقیر مالدار کو صدقہ کا مال ہدیہ کر سکتا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: ”یہ گوشت کیسا ہے؟“، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس (بریرہ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے (بریرہ کی طرف سے) ہدیہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1655]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: ”یہ گوشت کیسا ہے؟“، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس (بریرہ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے (بریرہ کی طرف سے) ہدیہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1655]
1655. اردو حاشیہ:
➊ صدقہ اور ہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ انسان کےفقر ومجبوری کے پیش نظر اللہ کی رضا اور آخرت کےثواب کےلئے دیاجاتا ہے۔۔۔جبکہ ہدیہ۔۔۔دیئے جانے والے کے اکرام اور اس سے قربت کی غرض سے دیا جاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے صدقہ حرام ہونے کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کے سوا کسی اور کا احسان باقی رہے۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر صدقہ حرام قرار دیا تھا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمالیتے اور صاحب ہدیہ کو اس کا بدلہ دے کر اس کے احسان سے بری الذمہ ہوجاتے تھے۔
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فقیر ومسکین صدقے کا مالک بن جانے کے بعد اس میں کامل تصرف کا حق رکھتا ہے۔خواہ ہدیہ دے یا دوسروں کو صدقہ دے جائز ہے۔
➊ صدقہ اور ہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ انسان کےفقر ومجبوری کے پیش نظر اللہ کی رضا اور آخرت کےثواب کےلئے دیاجاتا ہے۔۔۔جبکہ ہدیہ۔۔۔دیئے جانے والے کے اکرام اور اس سے قربت کی غرض سے دیا جاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےلئے صدقہ حرام ہونے کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کے سوا کسی اور کا احسان باقی رہے۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر صدقہ حرام قرار دیا تھا۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرمالیتے اور صاحب ہدیہ کو اس کا بدلہ دے کر اس کے احسان سے بری الذمہ ہوجاتے تھے۔
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فقیر ومسکین صدقے کا مالک بن جانے کے بعد اس میں کامل تصرف کا حق رکھتا ہے۔خواہ ہدیہ دے یا دوسروں کو صدقہ دے جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1655]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3791
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا عطیہ دینا (کیسا ہے)۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ نے پوچھا: یہ کیسا گوشت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3791]
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ نے پوچھا: یہ کیسا گوشت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3791]
اردو حاشہ:
اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ صدقے کے مال سے کوئی غریب شخص ہدیہ بھیج سکتا ہے۔ اور اسے ہر شخص قبول کرسکتا ہے‘ امیر ہو یا غریب کیونکہ اب اس کی حیثیت تحفے کی ہے‘ صدقے کی نہیں۔ گویا جو چیز بذات خود حرام نہ ہو تو دینے والے اور لینے والے کی نیت اور حیثیت کے لحاظ سے اس کی حیثیت بدلتی رہتی ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل پیچھے گزرچکی ہے۔ دیکھیے‘ حدیث: 3477۔
اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ صدقے کے مال سے کوئی غریب شخص ہدیہ بھیج سکتا ہے۔ اور اسے ہر شخص قبول کرسکتا ہے‘ امیر ہو یا غریب کیونکہ اب اس کی حیثیت تحفے کی ہے‘ صدقے کی نہیں۔ گویا جو چیز بذات خود حرام نہ ہو تو دینے والے اور لینے والے کی نیت اور حیثیت کے لحاظ سے اس کی حیثیت بدلتی رہتی ہے۔ اس مسئلے کی تفصیل پیچھے گزرچکی ہے۔ دیکھیے‘ حدیث: 3477۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3791]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1495
1495. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ گوشت لایا گیا جو حضرت بریرہ ؓ کو بطور صدقہ دیا گیا تھا۔ آپ نے فرمایا:”بریرۃ ؓ کے لیے تو صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ “ ابوداود ؓ نے کہا:ہمیں شعبہ نے خبر دی، انھیں قتادہ ؓ نے،انھوں نے حضرت انس ؓ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1495]
حدیث حاشیہ:
مقصد یہ ہے کہ صدقہ مسکین کی ملکیت میں آکر اگر کسی کو بطور تحفہ پیش کردیا جائے تو جائز ہے اگرچہ وہ تحفہ پانے والا غنی ہی کیوں نہ ہو۔
مقصد یہ ہے کہ صدقہ مسکین کی ملکیت میں آکر اگر کسی کو بطور تحفہ پیش کردیا جائے تو جائز ہے اگرچہ وہ تحفہ پانے والا غنی ہی کیوں نہ ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1495]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2577
2577. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا اوربتایا گیا کہ یہ حضرت بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2577]
حدیث حاشیہ:
محتاج مسکین جب صدقہ یا زکوٰۃ کا مالک بن چکا تو اب وہ مختار ہے جسے چاہے کھلائے جس کو چاہے دے۔
امیر یا غریب کو اس کا تحفہ قبول کرنا جائز ہوگا۔
محتاج مسکین جب صدقہ یا زکوٰۃ کا مالک بن چکا تو اب وہ مختار ہے جسے چاہے کھلائے جس کو چاہے دے۔
امیر یا غریب کو اس کا تحفہ قبول کرنا جائز ہوگا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2577]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1495
1495. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ گوشت لایا گیا جو حضرت بریرہ ؓ کو بطور صدقہ دیا گیا تھا۔ آپ نے فرمایا:”بریرۃ ؓ کے لیے تو صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ “ ابوداود ؓ نے کہا:ہمیں شعبہ نے خبر دی، انھیں قتادہ ؓ نے،انھوں نے حضرت انس ؓ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1495]
حدیث حاشیہ:
(1)
جب صدقہ و خیرات کسی محتاج کے پاس پہنچ جائے اور وہ اس کا مالک بن جائے تو اب اس کی صدقے والی حیثیت ختم ہو جاتی ہے، اب اسے کسی کو تحفے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اگرچہ تحفہ پانے والا غنی ہی کیوں نہ ہو۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہاشمی اگر صدقات کو اکٹھا کرنے پر مامور ہو تو اسے حق الخدمت کے طور پر صدقہ دیا جا سکتا ہے کیونکہ جب وہ اسے بطور ہدیہ لے سکتا ہے تو بطور محنت اور مزدوری کیوں نہیں لے سکتا۔
(فتح الباري: 449/3)
روایت کے آخر میں ایک طریق میں حضرت قتادہ کے حضرت انس ؓ سے سماع کا اثبات کیا گیا ہے، اس میں ابوداود سے مراد مشہور محدث ابوداود طیالسی ہیں۔
(1)
جب صدقہ و خیرات کسی محتاج کے پاس پہنچ جائے اور وہ اس کا مالک بن جائے تو اب اس کی صدقے والی حیثیت ختم ہو جاتی ہے، اب اسے کسی کو تحفے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اگرچہ تحفہ پانے والا غنی ہی کیوں نہ ہو۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہاشمی اگر صدقات کو اکٹھا کرنے پر مامور ہو تو اسے حق الخدمت کے طور پر صدقہ دیا جا سکتا ہے کیونکہ جب وہ اسے بطور ہدیہ لے سکتا ہے تو بطور محنت اور مزدوری کیوں نہیں لے سکتا۔
(فتح الباري: 449/3)
روایت کے آخر میں ایک طریق میں حضرت قتادہ کے حضرت انس ؓ سے سماع کا اثبات کیا گیا ہے، اس میں ابوداود سے مراد مشہور محدث ابوداود طیالسی ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1495]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2577
2577. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہےانھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا اوربتایا گیا کہ یہ حضرت بریرہ ؓ پر صدقہ کیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2577]
حدیث حاشیہ:
جب صدقہ اپنے محل پر پہنچ جائے تو جسے ملا ہے وہ اس کا مالک ہے۔
اب وہ کسی کو دیتا ہے تو اس کی حیثیت بدل چکی ہے، وہ صدقہ نہیں رہا بلکہ وہ تحفے کی صورت اختیار کر چکا ہے کیونکہ صدقہ جب اپنی جگہ پر پہنچ جاتا ہے تو اس سے صدقے کا حکم ختم ہو جاتا ہے۔
اب اس کا استعمال دوسرے لوگوں کے لیے جائز ہے جن پر صدقہ حرام ہوتا ہے۔
امیر یا غریب کو اس کا تحفہ قبول کرنا جائز ہو گا۔
جب صدقہ اپنے محل پر پہنچ جائے تو جسے ملا ہے وہ اس کا مالک ہے۔
اب وہ کسی کو دیتا ہے تو اس کی حیثیت بدل چکی ہے، وہ صدقہ نہیں رہا بلکہ وہ تحفے کی صورت اختیار کر چکا ہے کیونکہ صدقہ جب اپنی جگہ پر پہنچ جاتا ہے تو اس سے صدقے کا حکم ختم ہو جاتا ہے۔
اب اس کا استعمال دوسرے لوگوں کے لیے جائز ہے جن پر صدقہ حرام ہوتا ہے۔
امیر یا غریب کو اس کا تحفہ قبول کرنا جائز ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2577]
Sahih Muslim Hadith 2485 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري