Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب حمل العنزة مع الماء فى الاستنجاء:
باب: استنجاء کے لیے پانی کے ساتھ نیزہ (بھی) لے جانا ثابت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ"، تَابَعَهُ النَّضْرُ وَشَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، الْعَنَزَةُ عَصًا عَلَيْهِ زُجٌّ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے محمد بن جعفر نے، ان سے شعبہ نے عطاء بن ابی میمونہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن اور نیزہ لے کر چلتے تھے۔ پانی سے آپ طہارت کرتے تھے، (دوسری سند سے) نضر اور شاذان نے اس حدیث کی شعبہ سے متابعت کی ہے۔ عنزہ لاٹھی کو کہتے ہیں جس پر پھلکا لگا ہوا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطامثقة حافظ متقن عابد
👤←👥الأسود بن عامر الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالأسود بن عامر الشامي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← الأسود بن عامر الشامي
ثقة ثبت
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← النضر بن شميل المازني
صحابي
👤←👥عطاء بن أبي ميمونة البصري، أبو معاذ
Newعطاء بن أبي ميمونة البصري ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عطاء بن أبي ميمونة البصري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
152
يدخل الخلاء فأحمل أنا وغلام إداوة من ماء وعنزة يستنجي بالماء
صحيح مسلم
620
يدخل الخلاء فأحمل أنا وغلام نحوي إداوة من ماء وعنزة فيستنجي بالماء
سنن النسائى الصغرى
45
إذا دخل الخلاء أحمل أنا وغلام معي نحوي إداوة من ماء فيستنجي بالماء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 152 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 152
تشریح:
یہ ڈھیلا توڑنے کے لیے کام میں لائی جاتی تھی اور موذی جانوروں کو دفع کرنے کے لیے بھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 152]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 152
تخريج الحديث:
[153۔ البخاري فى: 4 كتاب الوضوء: 17 باب حمل العنزة مع الماء فى الاستنجاء 152، مسلم 271]
لغوی توضیح:
«تَبَرَّزَ» قضائے حاجت کے لئے نکلنے، مراد ہے کھلی فضاء میں جاتے۔
فھم الحدیث:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ پانی کے ساتھ استنجاء کرنا مسنون ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تین پتھروں کے ساتھ بھی استنجاء کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ [مسلم 262، أبوداؤد 7، أحمد 437/5، ترمذي 16، ابن ماجه 316]
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 153]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:152
حدیث حاشیہ:

پانی اور برچھی دونوں کا تعلق استنجا سے ہے۔
پانی کاتعلق تو ظاہر ہے اور اسے حدیث کے آخر میں بیان بھی کر دیا گیا ہے اور برچھی اس لیے ساتھ لے جاتے تاکہ سخت جگہ کو نرم کر کے پیشاب کے چھینٹوں سے بچا جا سکے، نیز سخت زمین سے ڈھیلے حاصل کرنے کے لیے بھی اسے کام میں لایا جاتا تھا۔
اس سے اور بھی کام لیے جاتے تھے، مثلاً:
(الف)
۔
موذی جانوروں سے اور دشمنوں کے شر سے بچنے کے لیے اسے کام میں لایا جاتا۔
(ب)
۔
اسے بوقت نماز بطور سترہ آگے گاڑدیا جاتا۔
لیکن پانی کے ساتھ اسے لے جانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس سے زمین کونرم کیا جائے اور اس سے ڈھیلے حاصل کیے جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی اور مٹی کے ڈھیلے استعمال کرنا پسند تھا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے پانی اور ڈھیلوں کا جمع کرنا ثابت فرمایا ہے۔
اس کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ اس باب کو استنجا کے لیے پانی ہمراہ لے جانا اور پتھروں سے استنجا کرنا۔
(جو آگے آرہا ہے)
ان دونوں کے درمیان بیان کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پانی اورڈھیلوں کا جمع کرنا سب سے بہتر عمل ہے۔

اس سے پہلے ہشام بن عبدالملک اور سلیمان بن حرب نے اسی روایت کو حضرت شعبہ سے بیان کیا ہے۔
ان کی بیان کردہ روایت میں(عَنَزَة)
کا اضافہ نہیں ہے، اس بنا پر شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید مذکورہ روایت میں شعبہ سے بیان کرنے والے محمد بن جعفر کے یہ الفاظ درست نہ ہوں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے متابعت بیان کرکے اسی شبے کا ازالہ فرمایا ہےکہ یہ اضافہ درست ہے، چنانچہ نضر بن شمیل کی روایت سنن نسائی (الطھارة، حدیث: 45)
میں اور شاذان بن عامر کی روایت صحیح بخاری (الصلاة، حدیث: 500)
میں ہے۔
ان روایات میں(عَنَزَة)
کی صراحت ہے، نیز آخری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جب آپ قضائےحاجت سے فارغ ہو جاتے تو ہم پانی کا برتن آپ کو دے دیتے۔

(يَدْخُلُ الْخَلاَءَ)
سے مراد خلوت کی جگہ میدان وغیرہ ہے۔
گھروں میں بنے ہوئے بیت الخلاء مراد نہیں کیونکہ گھر میں اس قسم کی خدمت اہل خانہ بجالاتے تھے، نیز گھروں میں برچھی وغیرہ ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں تھی، پھر گزشتہ روایت میں اس کی وضاحت بایں الفاظ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے باہرجاتے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 152]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 45
پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 45]
45۔ اردو حاشیہ:
➊ باب کا مقصد یہ ہے کہ ڈھیلے استعمال کرنا ضروری نہیں، بلکہ براہ راست پانی سے استنجا کیا جا سکتا ہے اور یہی افضل ہے۔ حدیث میں آیت ﴿فیه رجال یحبون أن یتطھروا﴾ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں۔ کی صحیح شانِ نزول یہی بیان ہوئی ہے کہ اہل قباء صرف پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے اور آیت میں اس طہارت کی بنا پر ان کی تعریف فرمائی گئی ہے۔ [سنن أبی داود، الطھارۃ، حدیث: 44]
جب کہ بعض حضرات اس نظریے کے حامل ہیں کہ یہ ایک مشروب ہے اور کھانے پینے میں اس کا استعمال ہوتا ہے، نیز ڈھیلے استعمال کیے بغیر براہ راست پانی استعمال کرنے سے پانی بھی گندہ ہو جائے گا اور ہاتھ بھی آلودہ ہوں گے، ان کا خیال ہے کہ اگر ڈھیلے استعمال کرنے کے بعد پانی استعمال کیا جائے تو یہ تمام قباحتیں ختم ہو جائیں گی۔
➋ اہل قباء کی تعریف میں جو آیت نازل ہوئی، اس کی وجہ ان کا پتھروں اور پھر پانی سے استنجا کرنا نہ تھی کیونکہ اس مفہوم کی روایت محققین کے نزدیک ضعیف ہے۔ دیکھیے: [مجمع الزوائد: 291/1، حدیث: 1053]
اس لیے مستحب صرف پانی سے استنجا کرنا ہی ہے۔ واللہ أعلم۔
➌ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آدمی اپنے ماتحت آزاد لوگوں سے خدمت لے سکتا ہے، نیز نیک لوگوں کی خدمت کرنا درست ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 45]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 620
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے خالی جگہ جاتے، تو میں اور میرے جیسا لڑکا، پانی کا برتن اور نیزہ اٹھاتے تو آپ پانی سے استنجا کرتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:620]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
الْخَلَاءَ:
خالی جگہ،
جہاں کوئی نہ ہو۔
(2)
عَنَزَةٌ:
ڈنڈا جس کے نیچے پھالا لگا ہو،
نیزہ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 620]