🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ التَّمَتُّعِ وَالإِقْرَانِ وَالإِفْرَادِ بِالْحَجِّ، وَفَسْخِ الْحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ:
باب: حج میں تمتع، قران اور افراد کا بیان اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، اسے حج فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کی اجازت ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ:" شَهِدْتُ عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، قَالَ: مَا كُنْتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے علی بن حسین (زین العابدین) نے اور ان سے مروان بن حکم نے بیان کیا کہ عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو میں نے دیکھا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے سے روکتے تھے لیکن علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا «لبيك بعمرة وحجة» آپ نے فرمایا تھا کہ میں کسی ایک شخص کی بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1563]
حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک مجلس میں موجود تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج تمتع اور حج و عمرہ اکٹھا کرنے (حج قران) سے منع کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب یہ دیکھا تو حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا: «لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ» میں عمرہ اور حج کے لیے حاضر ہوں پھر فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو کسی کے کہنے سے نہیں چھوڑوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1563]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمرو
Newعثمان بن عفان ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم
Newمروان بن الحكم القرشي ← عثمان بن عفان
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي زين العابدين ← مروان بن الحكم القرشي
ثقة ثبت
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← علي زين العابدين
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1563 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1563
حدیث حاشیہ:
حضرت عثمان ؓ شاید حضرت عمر ؓ کی تقلید سے تمتع کو برا سمجھتے تھے ان کو بھی یہی خیال ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو فسخ کرا کر جو حکم عمرہ کا دیا تھا وہ خاص تھا صحابہ ؓ سے۔
بعضوں نے کہا مکروہ تنزیہی سمجھا اور چونکہ حضرت عثمان ؓ کا یہ خیال حدیث کے خلاف تھا۔
اس لیے حضرت علی ؓ نے اس پر عمل نہیں کیا اور یہ فرمایا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو کسی کے قول سے نہیں چھوڑسکتا۔
مسلمان بھائیو! ذرا حضرت علی ؓ کے اس قول کو غور سے دیکھو، حضرت عثمان ؓ خلیفہ وقت اور خلیفہ بھی کیسے؟ خلیفہ راشد اور امیرالمؤمنین۔
لیکن حدیث کے خلاف ان کا قول پھینک دیا گیا اور خود ان کے سامنے ان کا خلاف کیا گیا۔
پھر تم کو کیا ہوگیا ہے جو تم ابو حنیفہ یا شافعی کے قول کو لیے رہتے ہو اور صحیح حدیث کے خلاف ان کے قول پر عمل کرتے ہو، یہ صریح گمراہی ہے۔
خدا کے لیے اس سے باز آؤ اور ہمارا کہنا مانو ہم نے جو حق بات تھی وہ تم کو بتادی آئندہ تم کو اختیار ہے۔
تم قیامت کے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوگے اپنا عذر بیان کرلینا والسلام (مولانا وحیدالزمان مرحوم)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1563]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1563
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عثمان اور حضرت علی ؓ کا یہ اجتماع مقام عسفان میں ہوا۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1569) (2)
حضرت عثمان ؓ تمتع اور قران دونوں سے منع کرتے تھے تاکہ لوگ حج افراد کو بالکل ہی نظر انداز نہ کر دیں۔
یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صرف حج قران سے منع کرتے ہوں اور اس کو تمتع اس لیے کہا جاتا ہے کہ حج قران کرنے والا عمرے کے لیے الگ سفر کرنے کی اذیت سے محفوظ رہتا ہے، اس طرح وہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں ادا کرنے کا فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔
چونکہ حضرت عثمان ؓ کا منع کرنا اپنے اجتہاد کی بنا پر تھا، اس لیے حضرت علی ؓ نے اس پر عمل نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو کسی کے قول کی بنا پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔
(3)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عثمان ؓ بہت بردبار اور حلیم الطبع تھے۔
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خلیفہ ہونے کے باوجود اس مخالفت پر کسی کو ملامت نہیں کی۔
(4)
سنن نسائی کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے اپنے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا۔
(سنن النسائي، مناسك الحج، حدیث: 2724)
لیکن یہ رجوع صریح الفاظ میں نہیں بلکہ اس روایت سے رجوع کا اشارہ ملتا ہے۔
(فتح الباري: 536/3) (5)
اس حدیث سے اتباع سنت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مقابلے میں کسی صحابی کے اجتہاد کو بھی اہمیت نہیں دیتے تھے۔
جو لوگ صریح حدیث کو اس لیے ترک کر دیتے ہیں کہ ہمارے امام، مفتی یا بزرگ کا فتویٰ اس پر نہیں ہے، ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1563]

Sahih Bukhari Hadith 1563 in Urdu