یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب طواف النساء مع الرجال:
باب: عورتیں بھی مردوں کے ساتھ طواف کریں۔
حدیث نمبر: 1618
وقال لِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قال: ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا، قال: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ،" إِذْ مَنَعَ ابْنُ هِشَامٍ النِّسَاءَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ، قَالَ: كَيْفَ يَمْنَعُهُنَّ وَقَدْ طَافَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الرِّجَالِ؟ قُلْتُ: أَبَعْدَ الْحِجَابِ أَوْ قَبْلُ، قَالَ: إِي لَعَمْرِي، لَقَدْ أَدْرَكْتُهُ بَعْدَ الْحِجَابِ، قُلْتُ: كَيْفَ يُخَالِطْنَ الرِّجَالَ؟ , قَالَ: لَمْ يَكُنَّ يُخَالِطْنَ، كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَطُوفُ حَجْرَةً مِنَ الرِّجَالِ لَا تُخَالِطُهُمْ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: انْطَلِقِي نَسْتَلِمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: انْطَلِقِي عَنْكِ، وَأَبَتْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مُتَنَكِّرَاتٍ بِاللَّيْلِ فَيَطُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ، وَلَكِنَّهُنَّ كُنَّ إِذَا دَخَلْنَ البيت قُمْنَ حَتَّى يَدْخُلْنَ وَأُخْرِجَ الرِّجَالُ، وَكُنْتُ آتِي عَائِشَةَ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهِيَ مُجَاوِرَةٌ فِي جَوْفِ ثَبِيرٍ، قُلْتُ: وَمَا حِجَابُهَا، قَالَ: هِيَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ لَهَا غِشَاءٌ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا غَيْرُ ذَلِكَ، وَرَأَيْتُ عَلَيْهَا دِرْعًا مُوَرَّدًا".
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا اور انہیں عطاء نے خبر دی کہ جب ابن ہشام (جب وہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے مکہ کا حاکم تھا) نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کر دیا تو اس سے انہوں نے کہا کہ تم کس دلیل پر عورتوں کو اس سے منع کر رہے ہو؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیویوں نے مردوں کے ساتھ طواف کیا تھا۔ ابن جریج نے پوچھا یہ پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد کا واقعہ ہے یا اس سے پہلے کا؟ انہوں نے کہا میری عمر کی قسم! میں نے انہیں پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد دیکھا۔ اس پر ابن جریج نے پوچھا کہ پھر مرد عورت مل جل جاتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اختلاط نہیں ہوتا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے الگ رہ کر ایک الگ کونے میں طواف کرتی تھیں، ان کے ساتھ مل کر نہیں کرتی تھیں۔ ایک عورت (وقرہ نامی) نے ان سے کہا ام المؤمنین! چلئے (حجر اسود کو) بوسہ دیں۔ تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا تو جا چوم، میں نہیں چومتی اور ازواج مطہرات رات میں پردہ کر کے نکلتی تھیں کہ پہچانی نہ جاتیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔ البتہ عورتیں جب کعبہ کے اندر جانا چاہتیں تو اندر جانے سے پہلے باہر کھڑی ہو جاتیں اور مرد باہر آ جاتے (تو وہ اندر جاتیں) میں اور عبید بن عمیر عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپ ثبیر (پہاڑ) پر ٹھہری ہوئی تھیں، (جو مزدلفہ میں ہے) ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ اس وقت پردہ کس چیز سے تھا؟ عطاء نے بتایا کہ ایک ترکی قبہ میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ اس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہمارے اور ان کے درمیان اس کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ ان کے بدن پر ایک گلابی رنگ کا کرتہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1618]
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: جب ابن ہشام نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے روک دیا تو میں نے کہا کہ تو انھیں کیوں روکتا ہے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے مردوں کے ساتھ طواف کیا ہے؟ (راوی حدیث ابن جریج رحمہ اللہ کہتا ہے:) میں نے کہا: کیا پردے کی آیت اترنے سے پہلے یا بعد؟ عطاء رحمہ اللہ کہنے لگے: میری عمر کی قسم! میں نے انھیں آیتِ حجاب کے نزول کے بعد پایا ہے۔ اس پر ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: عورتیں مردوں کے ساتھ کس طرح مل جل جاتی تھیں؟ انھوں نے فرمایا: اختلاط نہیں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے الگ تھلگ ہو کر طواف کرتی تھیں، ان سے اختلاط نہ کرتی تھیں۔ ایک عورت نے ان سے عرض کیا: اے اُم المومنین! چلیں حجر اسود کو بوسہ دیں۔ انھوں نے فرمایا: تم جاؤ اور ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن رات کے وقت اس حالت میں نکلتیں کہ پہچانی نہ جاتی تھیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں، البتہ جب وہ بیت اللہ کے اندر داخل ہونا چاہتیں تو کھڑی رہتیں، مردوں کو باہر نکالا جاتا (پھر وہ بیت اللہ میں داخل ہوتیں) میں اور عبید بن عمیر رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جبکہ وہ ثبیر پہاڑ پر مقیم تھیں۔ میں نے عرض کیا: اس وقت ان کا پردہ کیا ہوتا تھا؟ فرمایا: وہ ایک ترکی خیمے میں ہوتی تھیں جس کے آگے ایک پردہ لٹکا ہوتا تھا۔ ہمارے اور ان کے درمیان ان کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہا نے گلابی رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← عطاء بن أبي رباح القرشي | ثقة | |
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم الضحاك بن مخلد النبيل ← ابن جريج المكي | ثقة ثبت | |
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص عمرو بن علي الفلاس ← الضحاك بن مخلد النبيل | ثقة حافظ |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1618 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1618
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رات کے وقت عورتیں، مردوں کے ہمراہ طواف کر سکتی ہیں، وہ بھی اس صورت میں کہ انہیں شناخت نہ کیا جا سکے، البتہ بیت اللہ میں ان کے ہمراہ داخل نہ ہوں۔
(2)
مطاف کا دائرہ وسیع تھا، حضرت عائشہ ؓ ایک طرف الگ رہ کر طواف کرتیں اور مرد بھی طواف کرتے رہتے جبکہ ابن ہشام نے بالکل اس طرح طواف کرنے پر پابندی لگا دی تھی کہ مردوں کے طواف کرتے وقت عورتیں طواف نہ کریں۔
آج کل تو حکومت سعودیہ نے مطاف کو اس قدر وسیع اور آرام دہ بنا دیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
اب تو عورتوں کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں، پھر بھی بعض لوگ اپنی عورتوں کو مردوں میں داخل کر دیتے ہیں۔
انہیں چاہیے کہ عورتوں کو مردوں سے الگ رکھیں۔
(3)
بہرحال امام بخاری ؒ کا مقصد ہے کہ عورتیں مردوں کے ہمراہ طواف کر سکتی ہیں لیکن ان کا اختلاط ممنوع ہے، ان سے ایک طرف ہو کر انہیں طواف کرنے کی اجازت ہے۔
ایسا کرنا محض تکلف ہے کہ جب مرد طواف کریں تو عورتوں کے لیے اور جب عورتیں طواف کریں تو مردوں کے لیے طواف کرنے پر پابندی ہو، البتہ مردوں اور عورتوں کا اختلاط کسی حالت میں درست نہیں۔
(1)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رات کے وقت عورتیں، مردوں کے ہمراہ طواف کر سکتی ہیں، وہ بھی اس صورت میں کہ انہیں شناخت نہ کیا جا سکے، البتہ بیت اللہ میں ان کے ہمراہ داخل نہ ہوں۔
(2)
مطاف کا دائرہ وسیع تھا، حضرت عائشہ ؓ ایک طرف الگ رہ کر طواف کرتیں اور مرد بھی طواف کرتے رہتے جبکہ ابن ہشام نے بالکل اس طرح طواف کرنے پر پابندی لگا دی تھی کہ مردوں کے طواف کرتے وقت عورتیں طواف نہ کریں۔
آج کل تو حکومت سعودیہ نے مطاف کو اس قدر وسیع اور آرام دہ بنا دیا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
اب تو عورتوں کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں، پھر بھی بعض لوگ اپنی عورتوں کو مردوں میں داخل کر دیتے ہیں۔
انہیں چاہیے کہ عورتوں کو مردوں سے الگ رکھیں۔
(3)
بہرحال امام بخاری ؒ کا مقصد ہے کہ عورتیں مردوں کے ہمراہ طواف کر سکتی ہیں لیکن ان کا اختلاط ممنوع ہے، ان سے ایک طرف ہو کر انہیں طواف کرنے کی اجازت ہے۔
ایسا کرنا محض تکلف ہے کہ جب مرد طواف کریں تو عورتوں کے لیے اور جب عورتیں طواف کریں تو مردوں کے لیے طواف کرنے پر پابندی ہو، البتہ مردوں اور عورتوں کا اختلاط کسی حالت میں درست نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1618]
Sahih Bukhari Hadith 1618 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق