یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. باب الطواف بعد الصبح والعصر:
باب: صبح اور عصر کے بعد طواف کرنا۔
حدیث نمبر: Q1628
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الطَّوَافِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، وَطَافَ عُمَرُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَرَكِبَ حَتَّى صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بِذِي طُوًى.
سورج نکلنے سے پہلے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طواف کی دو رکعت پڑھ لیتے تھے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا پھر سوار ہوئے اور (طواف کی) دو رکعتیں ذی طویٰ میں پڑھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: Q1628]
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ نَاسًا طَافُوا بالبيت بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَعَدُوا إِلَى الْمُذَكِّرِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامُوا يُصَلُّونَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَعَدُوا حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ قَامُوا يُصَلُّونَ".
ہم سے حسن بن عمر بصریٰ رحمہ اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے حبیب نے، ان سے عطاء نے، ان سے عروہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔ پھر ایک وعظ کرنے والے کے پاس بیٹھ گئے اور جب سورج نکلنے لگا تو وہ لوگ نماز (طواف کی دو رکعت) پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے (ناگواری کے ساتھ) فرمایا جب سے تو یہ لوگ بیٹھے تھے اور جب وہ وقت آیا کہ جس میں نماز مکروہ ہے تو نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1628]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا، پھر وہ ایک واعظ کے پاس بیٹھ گئے، جب سورج طلوع ہوا تو وہ کھڑے ہو کر نماز (طواف) پڑھنے لگے، اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ لوگ بیٹھے رہے اور جب نماز کے لیے وقتِ مکروہ شروع ہوا تو انہوں نے اٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥حبيب بن زائدة المعلم، أبو محمد حبيب بن زائدة المعلم ← عطاء بن أبي رباح القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية يزيد بن زريع العيشي ← حبيب بن زائدة المعلم | ثقة ثبت | |
👤←👥الحسن بن عمر الجرمي، أبو علي الحسن بن عمر الجرمي ← يزيد بن زريع العيشي | صدوق حسن الحديث |
Sahih Bukhari Hadith 1628 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق