🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. باب قصر الخطبة بعرفة:
باب: میدان عرفات میں خطبہ مختصر دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى الْحَجَّاجِ أَنْ يَأْتَمَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَاءَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَأَنَا مَعَهُ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ أَوْ زَالَتْ، فَصَاحَ عِنْدَ فُسْطَاطِهِ، أَيْنَ هَذَا؟ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: ابْنُ عُمَرَ الرَّوَاحَ، فَقَالَ: الْآنَ؟ , قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْظِرْنِي أُفِيضُ عَلَيَّ مَاءً، فَنَزَلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى خَرَجَ، فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي، فَقُلْتُ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ السُّنَّةَ الْيَوْمَ فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ، وَعَجِّلِ الْوُقُوفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: صَدَقَ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے کہ عبدالملک بن مروان (خلیفہ) نے حجاج کو لکھا کہ حج کے کاموں میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرے۔ جب عرفہ کا دن آیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا، سورج ڈھل چکا تھا، آپ نے حجاج کے ڈیرے کے پاس آ کر بلند آواز سے کہا حجاج کہاں ہے؟ حجاج باہر نکلا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا چل جلدی کر وقت ہو گیا۔ حجاج نے کہا ابھی سے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں۔ حجاج بولا کہ پھر تھوڑی مہلت دے دیجئیے، میں ابھی غسل کر کے آتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (اپنی سواری سے) اتر گئے۔ حجاج باہر نکلا اور میرے اور میرے والد (ابن عمر) کے بیچ میں چلنے لگا، میں نے اس سے کہا کہ آج اگر سنت پر عمل کی خواہش ہے تو خطبہ مختصر پڑھ اور وقوف میں جلدی کر۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سالم سچ کہتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1663]
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو لکھا کہ حج کے معاملات میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرے، چنانچہ جب عرفہ کا دن تھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما زوالِ آفتاب کے بعد آئے۔ میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے حجاج کے خیمے کے پاس آ کر بلند آواز سے کہا: یہ کہاں ہے؟ حجاج باہر نکلا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عرفات کی طرف چلیں۔ حجاج بولا: ابھی چلنا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ حجاج نے کہا: مجھے تھوڑی سی مہلت دیں کہ میں اپنے سر پر پانی بہا لوں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سواری سے اتر کر انتظار کرنے لگے یہاں تک کہ وہ باہر نکلا اور میرے اور میرے والد گرامی کے درمیان چلنے لگا۔ میں نے اسے کہا: اگر سنت کو پانا چاہتے ہو تو آج خطبہ مختصر کرو اور وقوف میں جلدی کرو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1663 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1663
حدیث حاشیہ:
خطبہ مختصر پڑھنا خطیب کی سمجھ داری کی دلیل ہے، عیدین ہو یا جمعہ، پھر حج کا خطبہ تو اور بھی مختصر ہونا چاہئے کہ یہی سنت نبوی ہے۔
جو محترم علمائے کرام خطبات جمعہ وعیدین میں طویل طویل خطبات دیتے ہیں ان کو سنت نبوی کا لحاظ رکھنا چاہئے جو ان کی سمجھ بوجھ کی دلیل ہوگی۔
و باللہ التوفیق
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1663]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1663
حدیث حاشیہ:
(1)
خطبہ مختصر اور جامع ہونا خطیب کی سمجھداری کی علامت ہے، عیدین کا ہو یا جمعے کا۔
حج کا خطبہ تو انتہائی جامع اور مختصر ہونا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ میں مسلمان کے خون اور مال کی حرمت و تقدس کو شہر مکہ، ماہ ذوالحجہ اور یوم عرفہ کی حرمت کے مساوی قرار دیا۔
جاہلیت کے بعض اعمال فاسدہ اور عقائد باطلہ کا خاتمہ فرمایا اور کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی۔
(حجۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم للالبانی: 72) (2)
واضح رہے کہ خطبہ نماز سے پہلے ہے، لیکن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نماز کو جمع کیا، پھر لوگوں کو خطبہ دیا۔
(سنن ابی داؤد،المناسک،حدیث: 1913)
البتہ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرفات پہنچنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر کسی نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر اقامت کہی تو نماز عصر پڑھی۔
ان دونوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا، (صحیح مسلم،الحج،حدیث: 2950(1218)
اس لیے صحیح مسلم کی روایت کو ابوداود کی حدیث پر ترجیح دیتے ہوئے خطبہ نماز سے پہلے پڑھنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1663]

Sahih Bukhari Hadith 1663 in Urdu