🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. بَابُ تَقْلِيدِ الْغَنَمِ:
باب: بکریوں کو ہار پہنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً غَنَمًا".
ہم سے نعیم نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے لیے (بیت اللہ) بکریاں بھیجی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1701]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بکریاں قربانی کے لیے (مکہ مکرمہ) بھیجی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم النخعي
ثقة حافظ
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2789
أهدى مرة غنما وقلدها
صحيح البخاري
1701
أهدى النبي مرة غنما
صحيح مسلم
3203
أهدى رسول الله مرة إلى البيت غنما فقلدها
سنن أبي داود
1755
أهدى غنما مقلدة
سنن ابن ماجه
3096
أهدى رسول الله مرة غنما إلى البيت فقلدها
مسندالحميدي
219
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أهدي مرة غنما
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1701 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1701
حدیث حاشیہ:
گو اس حدیث میں بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے کا ذکر نہیں ہے جو باب کا مطلب ہے لیکن آگے کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1701]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1755
اشعار کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی بکریاں قلادہ پہنا کر ہدی میں بھیجیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1755]
1755. اردو حاشیہ: حرم کو بھیجا جانے والا اصل مسنون ومشروع ہدیہ قربانی ہے۔اب بعض لاعلم اور جاہل لوگ کبوتروں کے لیے دانے بھجواتے ہیں یہ کوئی شرعی عمل نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1755]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2789
بکریوں کے گلوں میں ہار لٹکانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بکریوں کی ہدی بھیجی اور آپ نے ان کے گلوں میں ہار لٹکایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2789]
اردو حاشہ:
اس سے زیادہ صراحت کیا ہو سکتی ہے؟ نیز یہ روایت بیان کرنے والے حضرت اسود ہیں جو کوفے کے انتہائی ثقہ راوی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بہت معتبر شاگرد ہیں۔ احناف کو ان پر پورااعتماد ہے۔ فقہائے تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2789]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:219
فائدہ:
ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حرم مکی کی طرف روانہ کیا جائے اور وہ جانور بکری، اونٹ یا گائے میں سے ہوگا۔ ہدی کو ہار پہنا نا درست ہے۔ بکری کمزور جانور ہے اسے زخمی نہ کیا جائے لیکن بکری کو ہدی کے طور پر قلادہ (ہار) پہنایا جاسکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے: باب تقليد الغنم اس کے تحت (4) احادیث لائے ہیں۔ 1701 تا 1404۔ نیز دیکھیں فتح الباری: 692/3۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 219]

Sahih Bukhari Hadith 1701 in Urdu