سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب في الإشعار
باب: اشعار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1755
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى غَنَمًا مُقَلَّدَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی بکریاں قلادہ پہنا کر ہدی میں بھیجیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1701)، م /الحج 64 (1321)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، سنن النسائی/الحج 69 (2789)، سنن ابن ماجہ/المناسک 95 (3096)، (تحفة الأشراف: 15944، 15995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/41، 42، 208) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1701) صحيح مسلم (1321)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2789
| أهدى مرة غنما وقلدها |
صحيح البخاري |
1701
| أهدى النبي مرة غنما |
صحيح مسلم |
3203
| أهدى رسول الله مرة إلى البيت غنما فقلدها |
سنن أبي داود |
1755
| أهدى غنما مقلدة |
سنن ابن ماجه |
3096
| أهدى رسول الله مرة غنما إلى البيت فقلدها |
مسندالحميدي |
219
| أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أهدي مرة غنما |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1755 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1755
1755. اردو حاشیہ: حرم کو بھیجا جانے والا اصل مسنون ومشروع ہدیہ قربانی ہے۔اب بعض لاعلم اور جاہل لوگ کبوتروں کے لیے دانے بھجواتے ہیں یہ کوئی شرعی عمل نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1755]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2789
بکریوں کے گلوں میں ہار لٹکانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بکریوں کی ہدی بھیجی اور آپ نے ان کے گلوں میں ہار لٹکایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2789]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بکریوں کی ہدی بھیجی اور آپ نے ان کے گلوں میں ہار لٹکایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2789]
اردو حاشہ:
اس سے زیادہ صراحت کیا ہو سکتی ہے؟ نیز یہ روایت بیان کرنے والے حضرت اسود ہیں جو کوفے کے انتہائی ثقہ راوی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بہت معتبر شاگرد ہیں۔ احناف کو ان پر پورااعتماد ہے۔ فقہائے تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔
اس سے زیادہ صراحت کیا ہو سکتی ہے؟ نیز یہ روایت بیان کرنے والے حضرت اسود ہیں جو کوفے کے انتہائی ثقہ راوی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بہت معتبر شاگرد ہیں۔ احناف کو ان پر پورااعتماد ہے۔ فقہائے تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2789]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:219
فائدہ:
ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حرم مکی کی طرف روانہ کیا جائے اور وہ جانور بکری، اونٹ یا گائے میں سے ہوگا۔ ہدی کو ہار پہنا نا درست ہے۔ بکری کمزور جانور ہے اسے زخمی نہ کیا جائے لیکن بکری کو ہدی کے طور پر قلادہ (ہار) پہنایا جاسکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے: ”باب تقليد الغنم“ اس کے تحت (4) احادیث لائے ہیں۔ 1701 تا 1404۔ نیز دیکھیں فتح الباری: 692/3۔
ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حرم مکی کی طرف روانہ کیا جائے اور وہ جانور بکری، اونٹ یا گائے میں سے ہوگا۔ ہدی کو ہار پہنا نا درست ہے۔ بکری کمزور جانور ہے اسے زخمی نہ کیا جائے لیکن بکری کو ہدی کے طور پر قلادہ (ہار) پہنایا جاسکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے: ”باب تقليد الغنم“ اس کے تحت (4) احادیث لائے ہیں۔ 1701 تا 1404۔ نیز دیکھیں فتح الباری: 692/3۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 219]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1701
1701. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ بکریاں قربانی کے لیے (مکہ مکرمہ)بھیجی تھیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1701]
حدیث حاشیہ:
گو اس حدیث میں بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے کا ذکر نہیں ہے جو باب کا مطلب ہے لیکن آگے کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
گو اس حدیث میں بکریوں کے گلے میں ہار لٹکانے کا ذکر نہیں ہے جو باب کا مطلب ہے لیکن آگے کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1701]
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق