🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33M. باب إذا شرب الكلب فى إناء أحدكم فليغسله سبعا:
باب: جب کتا برتن میں پی لے (تو کیا کرنا چاہیے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے سنا، وہ ابوصالح سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله العدوي
Newعبد الرحمن بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن دينار القرشي
صدوق يخطئ
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← عبد الرحمن بن عبد الله العدوي
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
173
رجلا رأى كلبا يأكل الثرى من العطش فأخذ الرجل خفه فجعل يغرف له به حتى أرواه فشكر الله له فأدخله الجنة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
173
رجلا رأى كلبا يأكل الثرى من العطش فأخذ الرجل خفه فجعل يغرف له به حتى أرواه فشكر الله له فأدخله الجنة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 173 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:173
حدیث حاشیہ:

ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص جس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا، اس کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا، نیزاس قسم کا ایک واقعہ بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت کے متعلق بھی احادیث میں مذکور ہے، اس نے بھی اپنے موزے سے پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3321 وأحادیث الأنبیاء علیهم السلام، حدیث: 3467)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کتے کا پس خوردہ نجس نہیں ہے مگر یہ استدلال کئی لحاظ سے کمزور ہے۔
(الف)
۔
ممکن ہے کہ اس نے موزے سے پانی نکال کر کسی دوسری چیز یا زمین کے گڑھے میں ڈال کر پلایا ہو۔
(ب)
۔
یہ ممکن ہے کہ اس نے موزے ہی سے پانی پلا کر اس کو دھولیا ہو۔
(ج)
۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے موزے کو ناپاک سمجھ کر پھینک دیا ہو اور استعمال ہی نہ کیا ہو۔
ان سب احتمالات کی موجودگی میں مذکورہ استدلال درست نہیں۔
(د)
۔
علاوہ ازیں امم سابقہ کے واقعات ہمارے لیے حجت نہیں۔
کیا ایک شخص کا جزوی عمل اس قابل ہوسکتا ہے کہ اسے طہارت ونجاست کے باب میں قول فیصل کی حیثیت دی جائے؟ زیادہ سے زیادہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی مخلوق پر شفقت کرنا اللہ کے ہاں معافی کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 364/1)

ایک روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ بیان کیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا:
کیا ہمیں حیوانات سے حسنِ سلوک کرنے میں بھی اجر ملے گا؟ آپ نے فرمایا:
ہرزندہ جگر رکھنے والے حیوان میں تمہارے لیے اجروثوا ب ہے۔
(صحیح البخاري،المظالم، حدیث: 2466)
ہماری شریعت میں ایسے حیوانات قابل احترام ہیں جو دوسروں کے لیے ضرر رساں نہ ہوں۔
(فتح الباري: 53/5)

اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:
(الف)
۔
ایک شخص اکیلا اور زاد سفر کے بغیر سفر کرسکتا ہے۔
بشرطیکہ اس طرح سفر کرنے میں کسی خطرے کا اندیشہ نہ ہو۔
(ب)
۔
لوگوں سے حسنِ سلوک کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ جب کتے کو پانی پلانے سے مغفرت ہوگئی تو انسان سے ہمدردی تو اس سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
(ج)
۔
اگر کوئی مسلمان شخص نفلی صدقات کا مستحق موجود نہ ہوتو مشرکین پرصدقہ وخیرات کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح اگر آدمی اور حیوان دونوں مساویانہ طور پر ضرورت مندوں اور صرف ایک کی مدد کی جاسکتی ہو تو آدمی حیوانات سے زیادہ قابل احترام ہے،اس کی مدد کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 53/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 173]

Sahih Bukhari Hadith 173 in Urdu