صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. باب الفتيا على الدابة عند الجمرة:
باب: جمرہ کے پاس سوار رہ کر لوگوں کو مسئلہ بتانا۔
حدیث نمبر: 1737
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ،" أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ لَهُنَّ كُلِّهِنَّ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ".
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ دے رہے تھے تو وہ وہاں موجود تھے۔ ایک شخص نے اس وقت کھڑے ہو کر پوچھا کہ میں اس خیال میں تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے پھر دوسرا کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں سے پہلے ہے، چنانچہ میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، رمی جمار سے پہلے قربانی کر لی، اور مجھے اس میں شک ہوا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب کر لو۔ ان سب میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح کے دوسرے سوالات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے جواب میں یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1737]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ دسویں ذوالحجہ کو خطبہ دے رہے تھے۔ آپ کے سامنے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میرا گمان تو یہ تھا کہ فلاں کام فلاں کام سے پہلے ہے۔ پھر ایک دوسرا اٹھ کر کہنے لگا: میرا خیال بھی یہ تھا کہ فلاں کام، فلاں کام سے پہلے ہے، میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے اور رمی کرنے سے پہلے قربانی ذبح کر دی ہے اور اس قسم کے اور افعال بھی ہیں جن میں تقدیم و تاخیر ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ آپ نے ان سب کاموں کے متعلق یہی فرمایا کہ اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔ الغرض اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال نہ کیا گیا مگر آپ نے فرمایا: ”کرو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
83
| حلقت قبل أن أذبح فقال اذبح ولا حرج نحرت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج ما سئل النبي عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج |
صحيح البخاري |
124
| ارم ولا حرج حلقت قبل أن أنحر قال انحر ولا حرج ما سئل عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج |
جامع الترمذي |
916
| اذبح ولا حرج نحرت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج |
صحيح مسلم |
3157
| افعلوا ذلك ولا حرج |
صحيح مسلم |
3156
| افعل ولا حرج |
صحيح مسلم |
3159
| افعل ولا حرج |
صحيح مسلم |
3161
| حلقت قبل أن أذبح قال فاذبح ولا حرج ذبحت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج |
صحيح مسلم |
3163
| افعلوا ولا حرج |
صحيح البخاري |
1736
| حلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج نحرت قبل أن أرمي قال ارم ولا حرج ما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج |
صحيح البخاري |
1737
| افعل ولا حرج |
سنن أبي داود |
2014
| اصنع ولا حرج |
سنن ابن ماجه |
3051
| ذبح قبل أن يحلق أو حلق قبل أن يذبح قال لا حرج |
صحيح البخاري |
6665
| افعل ولا حرج ما سئل يومئذ عن شيء إلا قال افعل ولا حرج |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
329
| افعل ولا حرج |
بلوغ المرام |
631
| افعل ولا حرج |
مسندالحميدي |
591
| ارم ولا حرج |
Sahih Bukhari Hadith 1737 in Urdu
عيسى بن طلحة القرشي ← عبد الله بن عمرو السهمي