صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
148. بَابُ النُّزُولِ بِذِي طُوًى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَالنُّزُولِ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ إِذَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ:
باب: مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ذی طویٰ میں قیام کرنا اور مکہ سے واپسی میں ذی الحلیفہ کے کنکریلے میدان میں قیام کرنا۔
حدیث نمبر: 1767
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَبِيتُ بِذِي طُوًى بَيْنَ الثَّنِيَّتَيْنِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الَّتِي بِأَعْلَى مَكَّةَ، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا لَمْ يُنِخْ نَاقَتَهُ إِلَّا عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيَأْتِي الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ فَيَبْدَأُ بِهِ، ثُمَّ يَطُوفُ سَبْعًا ثَلَاثًا سَعْيًا وَأَرْبَعًا مَشْيًا، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَيَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ إِذَا صَدَرَ عَنِ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ جاتے وقت ذی طویٰ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان رات گزارتے تھے اور پھر اس پہاڑی سے ہو کر گزرتے جو مکہ کے اوپر کی طرف ہے اور جب مکہ میں حج یا عمرہ کا احرام باندھنے آتے تو اپنی اونٹنی مسجد کے دروازہ پر لا کر بٹھاتے پھر حجر اسود کے پاس آتے اور یہیں سے طواف شروع کرتے، طواف سات چکروں میں ختم ہوتا جس کے شروع میں رمل کرتے اور چار میں معمول کے مطابق چلتے، طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے پھر ڈیرہ پر واپس ہونے سے پہلے صفا اور مروہ کی دوڑ کرتے۔ جب حج یا عمرہ کر کے مدینہ واپس ہوتے تو ذو الحلیفہ کے میدان میں سواری بٹھاتے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی (مکہ سے مدینہ واپس ہوتے ہوئے) اپنی سواری بٹھایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1767]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما مکہ جاتے وقت دو پہاڑیوں کے درمیان ذی طوی میں رات گزارتے، پھر اس وادی کی طرف سے داخل ہوتے جو مکہ کی بالائی طرف ہے، اور جب مکہ مکرمہ میں حج یا عمرہ کرنے آتے تو اپنی اونٹنی کو مسجد کے دروازے کے پاس ہی بٹھاتے، پھر (مسجد حرام میں) داخل ہوتے اور حجر اسود کے پاس سے ابتدا کرتے، پھر بیت اللہ کے سات چکر لگاتے، پہلے تین ذرا دوڑ کر پھر چار چکر معمول کے مطابق چلتے، طواف سے فراغت کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے، پھر اپنی قیام گاہ جانے سے قبل صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے، جب حج یا عمرے سے فارغ ہو کر واپس آتے تو اپنی اونٹنی کو وادی بطحاء میں بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کو بٹھایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥أنس بن عياض الليثي، أبو ضمرة أنس بن عياض الليثي ← موسى بن عقبة القرشي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق إبراهيم بن المنذر الحزامي ← أنس بن عياض الليثي | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2865
| ينزل بذي طوى يبيت به حتى يصلي صلاة الصبح حين يقدم إلى مكة مصلى رسول الله ذلك على أكمة غليظة ليس في المسجد الذي بني ثم ولكن أسفل من ذلك على أكمة خشنة غليظة |
صحيح البخاري |
1767
| يبيت بذي طوى بين الثنيتين يدخل من الثنية التي بأعلى مكة إذا قدم مكة حاجا أو معتمرا لم ينخ ناقته إلا عند باب المسجد يدخل فيأتي الركن الأسود فيبدأ به يطوف سبعا ثلاثا سعيا وأربعا مشيا ثم ينصرف فيصلي ركعتين ثم ينطلق قبل أن يرجع إلى منزله فيطوف بين الصفا و الم |
صحيح البخاري |
1574
| بات النبي بذي طوى حتى أصبح ثم دخل مكة |
صحيح مسلم |
3044
| بات بذي طوى حتى أصبح ثم دخل مكة |
صحيح مسلم |
3045
| كان لا يقدم مكة إلا بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ثم يدخل مكة نهارا |
صحيح مسلم |
3046
| ينزل بذي طوى ويبيت به حتى يصلي الصبح حين يقدم مكة مصلى رسول الله ذلك على أكمة غليظة ليس في المسجد الذي بني ثم ولكن أسفل من ذلك على أكمة غليظة |
سنن أبي داود |
1865
| قدم مكة بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ثم يدخل مكة نهارا |
صحيح البخاري |
1573
| إذا دخل ادنى الحرم امسك عن التلبية، ثم يبيت بذي طوى |
بلوغ المرام |
611
| ا يقدم مكة إلا بات بذى طوى حتى يصبح ويغتسل ويذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم |
Sahih Bukhari Hadith 1767 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي