سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب دخول مكة
باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1865
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ ثُمَّ يَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فَعَلَهُ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 89 (484)، والحج 38 (1573)، 39 (1574)، 148(1767)، 149(1769)، صحیح مسلم/الحج 38 (1259)، سنن النسائی/الحج 103 (2862)، (تحفة الأشراف: 7513)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 31 (854)، سنن ابن ماجہ/المناسک 26 (2940)، موطا امام مالک/الحج 2(6)، مسند احمد (2/ 87)، سنن الدارمی/المناسک 80 (1968) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن میں داخل ہو، مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1553، 1573) صحيح مسلم (1259)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن عبيد الغبري محمد بن عبيد الغبري ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2865
| ينزل بذي طوى يبيت به حتى يصلي صلاة الصبح حين يقدم إلى مكة مصلى رسول الله ذلك على أكمة غليظة ليس في المسجد الذي بني ثم ولكن أسفل من ذلك على أكمة خشنة غليظة |
صحيح البخاري |
1767
| يبيت بذي طوى بين الثنيتين يدخل من الثنية التي بأعلى مكة إذا قدم مكة حاجا أو معتمرا لم ينخ ناقته إلا عند باب المسجد يدخل فيأتي الركن الأسود فيبدأ به يطوف سبعا ثلاثا سعيا وأربعا مشيا ثم ينصرف فيصلي ركعتين ثم ينطلق قبل أن يرجع إلى منزله فيطوف بين الصفا و الم |
صحيح البخاري |
1574
| بات النبي بذي طوى حتى أصبح ثم دخل مكة |
صحيح مسلم |
3044
| بات بذي طوى حتى أصبح ثم دخل مكة |
صحيح مسلم |
3045
| كان لا يقدم مكة إلا بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ثم يدخل مكة نهارا |
صحيح مسلم |
3046
| ينزل بذي طوى ويبيت به حتى يصلي الصبح حين يقدم مكة مصلى رسول الله ذلك على أكمة غليظة ليس في المسجد الذي بني ثم ولكن أسفل من ذلك على أكمة غليظة |
سنن أبي داود |
1865
| قدم مكة بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ثم يدخل مكة نهارا |
صحيح البخاري |
1573
| إذا دخل ادنى الحرم امسك عن التلبية، ثم يبيت بذي طوى |
بلوغ المرام |
611
| ا يقدم مكة إلا بات بذى طوى حتى يصبح ويغتسل ويذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1865 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1865
1865. اردو حاشیہ: یہ عمل ممکن ہوتو مستحب ہے جبکہ عمرہ جعرانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تشریف لے گئے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1865]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 611
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ میں آتے تو ذی طویٰ میں صبح تک شب بسر کرتے اور غسل کرتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 611]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ میں آتے تو ذی طویٰ میں صبح تک شب بسر کرتے اور غسل کرتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 611]
611 لغوی تشریح:
«بات» رات گزارتے۔
«بذي طوىٰ» «طوىٰ» کے ”طا“ پر ضمہ اور آخر پر تنوین ہے۔ مکہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے (آج کل . . . . ایک پرانے کنویں کی وجہ سے . . . . بئر طویٰ کے نام سے مشہور ہے۔)
«بات» رات گزارتے۔
«بذي طوىٰ» «طوىٰ» کے ”طا“ پر ضمہ اور آخر پر تنوین ہے۔ مکہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے (آج کل . . . . ایک پرانے کنویں کی وجہ سے . . . . بئر طویٰ کے نام سے مشہور ہے۔)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 611]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2865
مکہ میں داخلے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2865]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2865]
اردو حاشہ:
(1) ”ذوطویٰ“ مکہ مکرمہ کے بالکل قریب ایک مقام ہے، بلکہ اب مکہ مکرمہ ہی میں ہے، وہاں آپ رات گزارتے۔ صبح کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے، مگر ایسا کرنا ضروری نہیں بلکہ یہ حالات اور زمانے کے تقاضے کے مطابق ہے۔ وقت فارغ ہے تو آپ بے شک رات وہاں ٹھہریں لیکن اگر وقت کی قلت ہے تو ٹھہرنا ضروری نہیں۔ اس سے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
(2) ”اس مسجد والی جگہ نہیں“ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کیے تھے، اس وقت راستے میں کوئی مسجد نہیں تھی حتیٰ کہ ذوالحلیفہ میں بھی نہیں تھی، پھر جہاں جہاں آپ نے قیام فرمایا اور نمازیں پڑھیں، لوگوں نے تبرکاً وہاں مساجد بنا لیں۔ کوئی مسجد تو عین آپ کی نماز والی جگہ بنائی گئی اور بعض مساجد قریب کی جگہ میں۔ ممکن ہے صحیح جگہ کا پتا نہ چلا ہو یا اصل جگہ مسجد بن نہ سکتی ہو، وغیرہ۔
(1) ”ذوطویٰ“ مکہ مکرمہ کے بالکل قریب ایک مقام ہے، بلکہ اب مکہ مکرمہ ہی میں ہے، وہاں آپ رات گزارتے۔ صبح کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے، مگر ایسا کرنا ضروری نہیں بلکہ یہ حالات اور زمانے کے تقاضے کے مطابق ہے۔ وقت فارغ ہے تو آپ بے شک رات وہاں ٹھہریں لیکن اگر وقت کی قلت ہے تو ٹھہرنا ضروری نہیں۔ اس سے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
(2) ”اس مسجد والی جگہ نہیں“ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کیے تھے، اس وقت راستے میں کوئی مسجد نہیں تھی حتیٰ کہ ذوالحلیفہ میں بھی نہیں تھی، پھر جہاں جہاں آپ نے قیام فرمایا اور نمازیں پڑھیں، لوگوں نے تبرکاً وہاں مساجد بنا لیں۔ کوئی مسجد تو عین آپ کی نماز والی جگہ بنائی گئی اور بعض مساجد قریب کی جگہ میں۔ ممکن ہے صحیح جگہ کا پتا نہ چلا ہو یا اصل جگہ مسجد بن نہ سکتی ہو، وغیرہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2865]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3045
نافع سے روایت ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی مکہ تشریف لاتے، رات ذی طویٰ میں گزارتے، صبح کے بعد غسل کرتے، پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل بھی یہی بیان کرتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3045]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
مکہ معظمہ میں داخلہ کے آداب میں سے ہے کہ انسان رات ذی طوی میں گزارے صبح کی نماز وہیں پڑھے پھر غسل کر کے دن کے وقت مکہ میں داخل ہو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کےسوا،
باقی ائمہ کے نزدیک یہ غسل مکہ معظمہ کے لیے ہے۔
اس لیےحیض ونفاس والی عورت کے لیے بھی مستحب ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خانہ کعبہ کے طواف کے لیے ہے،
اس لیے حیض ونفاس والی عورت کے لیے غسل نہیں ہے۔
کیونکہ وہ طواف نہیں کر سکتیں۔
اس طرح بعض شوافع کے سوا،
سب کے نزدیک دن کے وقت داخل ہونا بہتر ہے۔
فوائد ومسائل:
مکہ معظمہ میں داخلہ کے آداب میں سے ہے کہ انسان رات ذی طوی میں گزارے صبح کی نماز وہیں پڑھے پھر غسل کر کے دن کے وقت مکہ میں داخل ہو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کےسوا،
باقی ائمہ کے نزدیک یہ غسل مکہ معظمہ کے لیے ہے۔
اس لیےحیض ونفاس والی عورت کے لیے بھی مستحب ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خانہ کعبہ کے طواف کے لیے ہے،
اس لیے حیض ونفاس والی عورت کے لیے غسل نہیں ہے۔
کیونکہ وہ طواف نہیں کر سکتیں۔
اس طرح بعض شوافع کے سوا،
سب کے نزدیک دن کے وقت داخل ہونا بہتر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3045]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3046
حضرت عبداللہ (بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لاتے، تو پڑاؤ ذی طویٰ پر کرتے، وہیں رات بسر کرتے حتی کہ صبح کی نماز پڑھتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز گاہ ایک بڑے ٹیلے پر ہے، اس مسجد میں نہیں، جو وہاں بنا دی گئی ہے، لیکن اس کے نیچے ایک بڑے ٹیلے پر۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3046]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
اَكْمَةٌ غَلِيْظَةٌ:
پختہ بلند ٹیلہ۔
مفردات الحدیث:
اَكْمَةٌ غَلِيْظَةٌ:
پختہ بلند ٹیلہ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3046]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1573
1573. حضرت نافع ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر ؓ جب حرم مکی کے قریب پہنچتے تو تلبیہ کہنے سے رک جاتے۔ پھر وادی ذی طویٰ میں رات بسر کرتے وہیں نماز فجر پڑھتے اور غسل کرتے۔ اور بیان فرماتے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیاکرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1573]
حدیث حاشیہ:
یہ غسل ہر ایک کے لئے مستحب ہے گو حائضہ یا نفاس والی عورت ہو۔
اگر کوئی تنعیم سے عمرے کا احرام باندھ کر آئے تو مکہ میں گھستے وقت پھر غسل کرنا مستحب نہیں کیونکہ تنعیم مکہ سے بہت قریب ہے۔
البتہ اگر دور سے احرام باندھ کر آیا ہو جیسے جعرانہ یا حدیبیہ سے تو پھر غسل کرلینا مستحب ہے (قسطلانی)
یہ غسل ہر ایک کے لئے مستحب ہے گو حائضہ یا نفاس والی عورت ہو۔
اگر کوئی تنعیم سے عمرے کا احرام باندھ کر آئے تو مکہ میں گھستے وقت پھر غسل کرنا مستحب نہیں کیونکہ تنعیم مکہ سے بہت قریب ہے۔
البتہ اگر دور سے احرام باندھ کر آیا ہو جیسے جعرانہ یا حدیبیہ سے تو پھر غسل کرلینا مستحب ہے (قسطلانی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1573]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1573
1573. حضرت نافع ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ حضرت ابن عمر ؓ جب حرم مکی کے قریب پہنچتے تو تلبیہ کہنے سے رک جاتے۔ پھر وادی ذی طویٰ میں رات بسر کرتے وہیں نماز فجر پڑھتے اور غسل کرتے۔ اور بیان فرماتے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیاکرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1573]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ روایت پہلے تفصیل سے گزر چکی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ذی طویٰ پہنچ کر رات وہیں بسر کرتے اور نماز فجر پڑھ کر غسل فرماتے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1553) (2)
دخول مکہ کے وقت غسل کرنا مستحب ہے۔
اس کے نہ کرنے میں کوئی فدیہ وغیرہ نہیں ہے۔
مؤطا میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بحالت احرام اپنا سر نہیں دھوتے تھے، تاہم اگر احتلام ہو جاتا تو غسل کرتے وقت سر دھو لیتے تھے۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ دخول مکہ کے وقت آپ سر کے علاوہ باقی جسم پر پانی بہاتے تھے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ غسل طواف کے لیے ہوتا تھا۔
(فتح الباری: 549/3)
واللہ أعلم
(1)
یہ روایت پہلے تفصیل سے گزر چکی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ذی طویٰ پہنچ کر رات وہیں بسر کرتے اور نماز فجر پڑھ کر غسل فرماتے۔
(صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1553) (2)
دخول مکہ کے وقت غسل کرنا مستحب ہے۔
اس کے نہ کرنے میں کوئی فدیہ وغیرہ نہیں ہے۔
مؤطا میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بحالت احرام اپنا سر نہیں دھوتے تھے، تاہم اگر احتلام ہو جاتا تو غسل کرتے وقت سر دھو لیتے تھے۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ دخول مکہ کے وقت آپ سر کے علاوہ باقی جسم پر پانی بہاتے تھے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ غسل طواف کے لیے ہوتا تھا۔
(فتح الباری: 549/3)
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1573]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1574
1574. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی ذی طویٰ میں رات بسر کی۔ صبح تک آپ نے وہیں قیام فرمایا پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ راوی حدیث کہتا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1574]
حدیث حاشیہ:
(1)
وادی ذی طویٰ مکہ مکرمہ کے قریب ایک مشہور مقام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کرنے کے لیے تشریف لائے تو رات اسی وادی میں بسر فرمائی، صبح کی نماز کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے جبکہ عنوان میں رات کے وقت داخل ہونے کا بھی ذکر ہے۔
دراصل امام بخاری ؒ نے اپنے عنوان سے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا ذکر ہے، چنانچہ عمرہ جعرانه میں آپ رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے اور اسی وقت عمرہ کر کے رات ہی کو واپس تشریف لے گئے تھے۔
اور اس حدیث پر امام نسائی ؒ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:
(دخول مكة ليلا)
”مکہ مکرمہ میں رات کے وقت داخل ہونا۔
“ (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام و مقتدیٰ تھے اور آپ کے اعمال و افعال لوگوں کے لیے نمونہ تھے، اس لیے حجۃ الوداع کے موقع پر آپ دن کے وقت داخل ہوئے تاکہ لوگ آپ کے اعمال حج کو دیکھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جو لوگوں کے لیے نمونے کی حیثیت رکھتا ہے تو اسے دن کے وقت مکہ مکرمہ داخل ہونا بہتر ہے تاکہ ریا کاری اور نمود ونمائش سے احتراز ہو۔
(فتح الباری: 550/3)
(1)
وادی ذی طویٰ مکہ مکرمہ کے قریب ایک مشہور مقام ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کرنے کے لیے تشریف لائے تو رات اسی وادی میں بسر فرمائی، صبح کی نماز کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے جبکہ عنوان میں رات کے وقت داخل ہونے کا بھی ذکر ہے۔
دراصل امام بخاری ؒ نے اپنے عنوان سے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا ذکر ہے، چنانچہ عمرہ جعرانه میں آپ رات کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تھے اور اسی وقت عمرہ کر کے رات ہی کو واپس تشریف لے گئے تھے۔
اور اس حدیث پر امام نسائی ؒ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:
(دخول مكة ليلا)
”مکہ مکرمہ میں رات کے وقت داخل ہونا۔
“ (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام و مقتدیٰ تھے اور آپ کے اعمال و افعال لوگوں کے لیے نمونہ تھے، اس لیے حجۃ الوداع کے موقع پر آپ دن کے وقت داخل ہوئے تاکہ لوگ آپ کے اعمال حج کو دیکھیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جو لوگوں کے لیے نمونے کی حیثیت رکھتا ہے تو اسے دن کے وقت مکہ مکرمہ داخل ہونا بہتر ہے تاکہ ریا کاری اور نمود ونمائش سے احتراز ہو۔
(فتح الباری: 550/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1574]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي