Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب متى يحل المعتمر:
باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1791
وَقَالَ عَطَاءٌ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا.
‏‏‏‏ اور عطاء بن ابی رباح نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو یہ حکم دیا کہ حج کے احرام کو عمرہ سے بدل دیں اور طواف (بیت اللہ اور صفا و مروہ) کریں پھر بال ترشوا کر احرام سے نکل جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: Q1791]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَأَتَى الصَّفَا والمروة وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لِي: أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ , قَالَ: لَا.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کیا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے (بیت اللہ کا) طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی طواف کیا، پھر صفا اور مروہ آئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ والوں سے حفاظت کر رہے تھے کہ کہیں کوئی کافر تیر نہ چلا دے، میرے ایک ساتھی نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں اندر داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاويةصحابي
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي
ثقة ثبت
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة حافظ إمام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1791 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1791
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابن عباس ؓ کا موقف ہے کہ عمرہ کرنے والا جب بیت اللہ کا طواف مکمل کرے تو احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس عنوان اور پیش کردہ احادیث سے ثابت کیا ہے کہ عمرہ کرنے والا اس وقت احرام کی پابندی سے آزاد ہو گا جب وہ بیت اللہ کے طواف کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی مکمل کرے، چنانچہ حضرت ابن ابی اوفى ؓ نے فرمایا:
ہم نے بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی بھی کی۔
(2)
واضح رہے کہ اس حدیث میں عمرۃ القضاء کا بیان ہے۔
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل نہیں ہوئے تھے جیسا کہ اس حدیث میں صراحت ہے، نیز اس وقت ہنگامی حالات کے پیش نظر صحابۂ کرام ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگہداشت کا خصوصی اہتمام کرنا پڑا جیسا کہ حدیث میں اس کا ذکر ہے۔
(3)
علمائے امت کا اس پر اتفاق ہے کہ عمرہ کرنے والا اس وقت احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے جب بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی سے فارغ ہو جائے مگر حضرت ابن عباس ؓ سے ایک شاذ قول منقول ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرنے سے حلال ہو جاتا ہے۔
(فتح الباري: 772/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1791]