یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب لم يعب أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم بعضهم بعضا فى الصوم والإفطار:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم (سفر میں) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1947
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے۔ (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے) لیکن روزے دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة مدلس | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← حميد بن أبي حميد الطويل | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1947
| لم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
صحيح مسلم |
2620
| سافرنا مع رسول الله في رمضان لم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
سنن أبي داود |
2405
| لم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
249
| سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1947 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1947
حدیث حاشیہ:
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے اور یہ بھی کہ سفر میں کوئی روزہ نہ رکھے تو رکھنے والوں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں۔
وہ شرعی رخصت پر عمل کر رہا ہے کسی کو یہ حق نہیں وہ اسے شرعی رخصت سے روک سکے اور ہر شرعی رخصت کے لیے یہ بطور اصول کے ہے۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے اور یہ بھی کہ سفر میں کوئی روزہ نہ رکھے تو رکھنے والوں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں۔
وہ شرعی رخصت پر عمل کر رہا ہے کسی کو یہ حق نہیں وہ اسے شرعی رخصت سے روک سکے اور ہر شرعی رخصت کے لیے یہ بطور اصول کے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1947]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1947
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ دوران سفر میں روزہ رکھنا بے سود اور لاحاصل ہے، اس کا کوئی ثواب نہیں۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو روزہ رکھنے والوں کو اجازت نہیں کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں کیونکہ روزہ نہ رکھنے والا شرعی رخصت پر عمل پیرا ہے۔
کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو شرعی رخصت پر عمل کرنے سے منع کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ (البقرة185: 2)
”جو شخص بیمار ہو یا دوران سفر میں ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں دوسرے دنوں سے اس گنتی کو پورا کر لے۔
“ امام بخاری ؒ کا موقف یہ ہے کہ اگر دوران سفر میں روزہ رکھنے سے انسان کو انتہائی تکلیف سے دوچار ہونا پڑے تو یہ اس کے لیے قابل ملامت عیب ہے اور جو اس حالت کو نہ پہنچے تو اس کے لیے روزہ رکھنا یا چھوڑ دینا باعث عیب نہیں۔
صحیح مسلم میں اس کی مزید وضاحت ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ پر جاتے، اس دوران میں کوئی بھی روزے دار، دوسروں کو ملامت نہ کرتا اور نہ روزہ ترک کرنے والا ہی دوسروں پر عیب لگاتا۔
جسے روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ روزہ رکھ کر اچھا کام کرتا اور جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا وہ اسے چھوڑ کر اچھا کام کرتا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2618(1116) (3)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
یہ حدیث اس سلسلے میں اختلاف کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
(فتح الباري: 237/4)
(1)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ دوران سفر میں روزہ رکھنا بے سود اور لاحاصل ہے، اس کا کوئی ثواب نہیں۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو روزہ رکھنے والوں کو اجازت نہیں کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں کیونکہ روزہ نہ رکھنے والا شرعی رخصت پر عمل پیرا ہے۔
کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو شرعی رخصت پر عمل کرنے سے منع کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ (البقرة185: 2)
”جو شخص بیمار ہو یا دوران سفر میں ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں دوسرے دنوں سے اس گنتی کو پورا کر لے۔
“ امام بخاری ؒ کا موقف یہ ہے کہ اگر دوران سفر میں روزہ رکھنے سے انسان کو انتہائی تکلیف سے دوچار ہونا پڑے تو یہ اس کے لیے قابل ملامت عیب ہے اور جو اس حالت کو نہ پہنچے تو اس کے لیے روزہ رکھنا یا چھوڑ دینا باعث عیب نہیں۔
صحیح مسلم میں اس کی مزید وضاحت ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ پر جاتے، اس دوران میں کوئی بھی روزے دار، دوسروں کو ملامت نہ کرتا اور نہ روزہ ترک کرنے والا ہی دوسروں پر عیب لگاتا۔
جسے روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ روزہ رکھ کر اچھا کام کرتا اور جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا وہ اسے چھوڑ کر اچھا کام کرتا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2618(1116) (3)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
یہ حدیث اس سلسلے میں اختلاف کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
(فتح الباري: 237/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1947]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 249
سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے
«. . . عن انس بن مالك قال: سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم . . .»
”. . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو برا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 249]
«. . . عن انس بن مالك قال: سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم . . .»
”. . . سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو برا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 249]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1947، من حديث مالك به ورواه مسلم 99/118، من حديث حميد الطّويل به وصرّح بالسماع عنده]
تفقه:
➊ سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے۔
● اگر رمضان کے روزے افطار کئے تو بعد میں اُن کی قضا میں روزے رکھنا ہوں گے۔
● اگر سفر میں گرمی زیادہ ہو اور سخت مشقت ہو تو افطار کرنا افضل ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [ح 465]
➌ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سفر میں روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [موطأ امام مالك 1/295 ح663 وسنده صحيح] ، جبکہ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔ [ايضاً ح664 وسنده صحيح]
➍ اگر دو کاموں کا ثبوت شریعت میں ہو تو ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔
➎ کتاب و سنت کے خلاف بات پر رد کرنا بالکل صحیح ہے۔
[وأخرجه البخاري 1947، من حديث مالك به ورواه مسلم 99/118، من حديث حميد الطّويل به وصرّح بالسماع عنده]
تفقه:
➊ سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے۔
● اگر رمضان کے روزے افطار کئے تو بعد میں اُن کی قضا میں روزے رکھنا ہوں گے۔
● اگر سفر میں گرمی زیادہ ہو اور سخت مشقت ہو تو افطار کرنا افضل ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [ح 465]
➌ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سفر میں روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [موطأ امام مالك 1/295 ح663 وسنده صحيح] ، جبکہ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔ [ايضاً ح664 وسنده صحيح]
➍ اگر دو کاموں کا ثبوت شریعت میں ہو تو ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔
➎ کتاب و سنت کے خلاف بات پر رد کرنا بالکل صحیح ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 147]
Sahih Bukhari Hadith 1947 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري