یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سفر میں روزہ رکھنے کا اختیار ہے
حدیث نمبر: 249
147- قال مالك: حدثني حميد الطويل عن أنس بن مالك قال: سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے کو برا نہیں سمجھتا تھا اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہیں لگاتا تھا ۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 249]
تخریج الحدیث: «147- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 295/1 ح 661، ك 18 ب 7 ح 23) التمهيد 169/2، وقال: ”هذا حديث متصل صحيح“ الاستذكار:611، و أخرجه البخاري (1947) من حديث مالك به ورواه مسلم (118/99) من حديث حميد الطويل به صرح بالسماع عنده .»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1947
| لم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
صحيح مسلم |
2620
| سافرنا مع رسول الله في رمضان لم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
سنن أبي داود |
2405
| لم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
249
| سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم |
موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم کی حدیث نمبر 249 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 249
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 1947، من حديث مالك به ورواه مسلم 99/118، من حديث حميد الطّويل به وصرّح بالسماع عنده]
تفقه:
➊ سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے۔
● اگر رمضان کے روزے افطار کئے تو بعد میں اُن کی قضا میں روزے رکھنا ہوں گے۔
● اگر سفر میں گرمی زیادہ ہو اور سخت مشقت ہو تو افطار کرنا افضل ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [ح 465]
➌ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سفر میں روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [موطأ امام مالك 1/295 ح663 وسنده صحيح] ، جبکہ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔ [ايضاً ح664 وسنده صحيح]
➍ اگر دو کاموں کا ثبوت شریعت میں ہو تو ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔
➎ کتاب و سنت کے خلاف بات پر رد کرنا بالکل صحیح ہے۔
[وأخرجه البخاري 1947، من حديث مالك به ورواه مسلم 99/118، من حديث حميد الطّويل به وصرّح بالسماع عنده]
تفقه:
➊ سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا دونوں طرح جائز ہے۔
● اگر رمضان کے روزے افطار کئے تو بعد میں اُن کی قضا میں روزے رکھنا ہوں گے۔
● اگر سفر میں گرمی زیادہ ہو اور سخت مشقت ہو تو افطار کرنا افضل ہے۔
➋ نیز دیکھئے: [ح 465]
➌ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سفر میں روزہ نہیں رکھتے تھے۔ [موطأ امام مالك 1/295 ح663 وسنده صحيح] ، جبکہ عروہ بن الزبیر رحمہ اللہ سفر میں روزہ رکھتے تھے۔ [ايضاً ح664 وسنده صحيح]
➍ اگر دو کاموں کا ثبوت شریعت میں ہو تو ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔
➎ کتاب و سنت کے خلاف بات پر رد کرنا بالکل صحیح ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 147]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1947
1947. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کیا کرتے تھے، روزہ رکھنے والا، ترک کرنے والے پر اور چھوڑنے والا روزے دار پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1947]
حدیث حاشیہ:
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے اور یہ بھی کہ سفر میں کوئی روزہ نہ رکھے تو رکھنے والوں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں۔
وہ شرعی رخصت پر عمل کر رہا ہے کسی کو یہ حق نہیں وہ اسے شرعی رخصت سے روک سکے اور ہر شرعی رخصت کے لیے یہ بطور اصول کے ہے۔
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے اور یہ بھی کہ سفر میں کوئی روزہ نہ رکھے تو رکھنے والوں کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں۔
وہ شرعی رخصت پر عمل کر رہا ہے کسی کو یہ حق نہیں وہ اسے شرعی رخصت سے روک سکے اور ہر شرعی رخصت کے لیے یہ بطور اصول کے ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1947]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1947
1947. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کیا کرتے تھے، روزہ رکھنے والا، ترک کرنے والے پر اور چھوڑنے والا روزے دار پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1947]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ دوران سفر میں روزہ رکھنا بے سود اور لاحاصل ہے، اس کا کوئی ثواب نہیں۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو روزہ رکھنے والوں کو اجازت نہیں کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں کیونکہ روزہ نہ رکھنے والا شرعی رخصت پر عمل پیرا ہے۔
کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو شرعی رخصت پر عمل کرنے سے منع کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ (البقرة185: 2)
”جو شخص بیمار ہو یا دوران سفر میں ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں دوسرے دنوں سے اس گنتی کو پورا کر لے۔
“ امام بخاری ؒ کا موقف یہ ہے کہ اگر دوران سفر میں روزہ رکھنے سے انسان کو انتہائی تکلیف سے دوچار ہونا پڑے تو یہ اس کے لیے قابل ملامت عیب ہے اور جو اس حالت کو نہ پہنچے تو اس کے لیے روزہ رکھنا یا چھوڑ دینا باعث عیب نہیں۔
صحیح مسلم میں اس کی مزید وضاحت ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ پر جاتے، اس دوران میں کوئی بھی روزے دار، دوسروں کو ملامت نہ کرتا اور نہ روزہ ترک کرنے والا ہی دوسروں پر عیب لگاتا۔
جسے روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ روزہ رکھ کر اچھا کام کرتا اور جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا وہ اسے چھوڑ کر اچھا کام کرتا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2618(1116) (3)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
یہ حدیث اس سلسلے میں اختلاف کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
(فتح الباري: 237/4)
(1)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا موقف ہے کہ دوران سفر میں روزہ رکھنا بے سود اور لاحاصل ہے، اس کا کوئی ثواب نہیں۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو روزہ رکھنے والوں کو اجازت نہیں کہ وہ اس پر زبان طعن دراز کریں کیونکہ روزہ نہ رکھنے والا شرعی رخصت پر عمل پیرا ہے۔
کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو شرعی رخصت پر عمل کرنے سے منع کرے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ (البقرة185: 2)
”جو شخص بیمار ہو یا دوران سفر میں ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں دوسرے دنوں سے اس گنتی کو پورا کر لے۔
“ امام بخاری ؒ کا موقف یہ ہے کہ اگر دوران سفر میں روزہ رکھنے سے انسان کو انتہائی تکلیف سے دوچار ہونا پڑے تو یہ اس کے لیے قابل ملامت عیب ہے اور جو اس حالت کو نہ پہنچے تو اس کے لیے روزہ رکھنا یا چھوڑ دینا باعث عیب نہیں۔
صحیح مسلم میں اس کی مزید وضاحت ہے، حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ پر جاتے، اس دوران میں کوئی بھی روزے دار، دوسروں کو ملامت نہ کرتا اور نہ روزہ ترک کرنے والا ہی دوسروں پر عیب لگاتا۔
جسے روزہ رکھنے کی ہمت ہوتی وہ روزہ رکھ کر اچھا کام کرتا اور جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا وہ اسے چھوڑ کر اچھا کام کرتا۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2618(1116) (3)
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں:
یہ حدیث اس سلسلے میں اختلاف کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
(فتح الباري: 237/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1947]
Moata Imam Malik (Qasim) Hadith 249 in Urdu