🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب كراهية السخب فى السوق:
باب: بازار میں شور و غل مچانا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ:" أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ؟ قَالَ: أَجَلْ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ، يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ، إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ المتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ، وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا"، تَابَعَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ هِلَالٍ، وَقَالَ سَعِيدٌ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ سَلَامٍ، غُلْفٌ كُلُّ شَيْءٍ فِي غِلَافٍ سَيْفٌ أَغْلَفُ، وَقَوْسٌ غَلْفَاءُ، وَرَجُلٌ أَغْلَفُ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُونًا.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات توریت میں آئی ہیں ان کے متعلق مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں! قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن شریف میں مذکور ہیں۔ جیسے کہ اے نبی! ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور ان پڑھ قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ تم نہ بدخو ہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور غل مچانے والے، (اور تورات میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ) وہ (میرا بندہ اور رسول) برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا۔ بلکہ معاف اور درگزر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرا لے، یعنی لوگ «لا إله إلا الله» نہ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینا، بہرے کانوں کو شنوا اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو پردے کھول دے گا۔ اس حدیث کی متابعت عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہلال سے کی ہے۔ اور سعید نے بیان کیا کہ ان سے ہلال نے، ان سے عطاء نے کہ «غلف» ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پردے میں ہو۔ «سيف أغلف،‏‏‏‏ وقوس غلفاء» اسی سے ہے اور «رجل أغلف» اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2125]
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفت تورات میں ہے، مجھے اس سے مطلع کیجیے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! آپ کی بعض صفات تورات میں وہی ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔ (قرآن کریم کی طرح تورات میں بھی اس قسم کا مضمون ہے) ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 45] اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! یقیناً ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوش خبری سنانے والا، ڈرانے والا اور «الْأُمِّيِّينَ» اُمیوں کی نگہبانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے، نہ تو بدخلق ہے اور نہ سنگ دل، نہ تو بازاروں میں شور و شغب کرنے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی ہی سے دیتا ہے بلکہ درگزر اور مہربانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک ہرگز موت سے دوچار نہیں کرے گا، جب تک کہ اس کے ذریعے سے ایک کج رو (ٹیڑھی) قوم کو سیدھا نہ کر دے بایں طور کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کہنے لگیں اور اس کے ذریعے سے نابینا آنکھیں بینا ہو جائیں اور بہرے کان کھول دیے جائیں اور بستہ دل آگاہ کیے جائیں۔ عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے ہلال سے روایت کرنے میں فلیح کی متابعت کی ہے اور سعید نے ہلال سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے ابن سلام سے اسے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن سلام الخزرجي، أبو يوسفصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن سلام الخزرجي
ثقة
👤←👥هلال بن أبي ميمونة القرشي
Newهلال بن أبي ميمونة القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي هلال الليثي، أبو العلاء
Newسعيد بن أبي هلال الليثي ← هلال بن أبي ميمونة القرشي
ثقة
👤←👥هلال بن أبي ميمونة القرشي
Newهلال بن أبي ميمونة القرشي ← سعيد بن أبي هلال الليثي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، أبو عبد الله، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ← هلال بن أبي ميمونة القرشي
ثقة فقيه مصنف
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمرو السهمي ← عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون
صحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥هلال بن أبي ميمونة القرشي
Newهلال بن أبي ميمونة القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥فليح بن سليمان الأسلمي، أبو يحيى
Newفليح بن سليمان الأسلمي ← هلال بن أبي ميمونة القرشي
صدوق كثير الخطأ
👤←👥محمد بن سنان الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن سنان الباهلي ← فليح بن سليمان الأسلمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2125
سميتك المتوكل ليس بفظ لا غليظ لا سخاب في الأسواق لا يدفع بالسيئة السيئة يعفو ويغفر لن يقبضه الله حتى يقيم به الملة العوجاء بأن يقولوا لا إله إلا الله ويفتح بها أعينا عميا وآذانا صما وقلوبا غلفا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2125 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2125
حدیث حاشیہ:
ان جملہ احادیث مرویہ میں کسی نہ کسی پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام ؓ کا بازاروں میں آنا جانا مذکور ہوا ہے۔
نمبر2119 میں بازاروں میں اور مسجد میں نماز باجماعت کے ثواب کے فرق کا ذکر ہے۔
حدیث نمبر2122میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار قینقاع میں آنا اور وہاں سے واپسی پر حضرت فاطمہ ؓ کے گھر پر جانا مذکو رہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت حسن ؓ کو پیار کیا، اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔
الغرض بازاروں میں آنا جانا، معاملات کرنا یہ کوئی مذموم امر نہیں ہے۔
ضروریات زندگی کے لیے بہرحال ہر کسی کو بازار جائے بغیر گزارہ نہیں، حضرت امام بخاری ؒ کا مقصد اسی امر کا بیان کرنا ہے۔
کیوں کہ بیع کا تعلق زیادہ تر بازاروں ہی سے ہے۔
اسی سلسلے کے مزید بیانات آگے آرہے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2125]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2125
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام، بادشاہ اور معزز لوگوں کا بازار جانا مذموم نہیں۔
(2)
اس سے بازاری لوگوں کی مذمت بھی ثابت ہوتی ہے جو بازار میں اپنی چیز کی جھوٹی تعریف اور دوسروں کی بلاوجہ برائی کرتے ہیں، جھوٹی قسمیں اٹھاتے، آوازیں بلند کرتے اور شور مچاتے ہیں۔
غالباً انھی مذموم اوصاف کی بنا پر بازاروں کو زمین کا بدترین خطہ قرار دیا گیا ہے۔
(3)
ٹیڑھی ملت کو سیدھا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ لوگوں کو کفر سے نکال کر ایمان کی راہ دکھائیں گے حتی کے وہ اقرار شہادتین سے اسلام میں داخل ہوجائیں گے،الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ملتِ ابراہیم کو پاک صاف کرکے اصل صورت میں پیش فرمایا۔
(4)
عبدالعزیز بن ابو سلمہ کی متابعت کو امام بخاری ؒ نے کتاب التفسیر میں بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4838)
(5)
سعید بن ابو ہلال نے صحابی کی تعیین میں عبدالعزیز اور فلیح کی مخالفت کی ہے کیونکہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے بیان کیا ہے جبکہ سعید نے حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے۔
ممکن ہے کہ عطاء بن یسار نے حضرت عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن سلام ؓ دونوں سے اس روایت کو حاصل کیا ہو۔
(فتح الباري: 434/4)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2125]

Sahih Bukhari Hadith 2125 in Urdu