🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب الوضوء من النوم ومن لم ير من النعسة والنعستين أو الخفقة وضوءا:
باب: سونے کے بعد وضو کرنے کے بیان میں اور بعض علماء کے نزدیک ایک یا دو مرتبہ کی اونگھ سے یا (نیند کا) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 213
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے ابوقلابہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز میں اونگھنے لگو تو سو جانا چاہیے۔ پھر اس وقت نماز پڑھے جب جان لے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 213]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم میں سے نماز کے دوران میں اونگھنے لگے تو اسے سو جانا چاہیے تا آنکہ جو پڑھ رہا ہے اسے سمجھنے کے قابل ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 213]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← أيوب السختياني
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن عمر التميمي، أبو معمر
Newعبد الله بن عمر التميمي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة ثبت قدري
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
213
إذا نعس أحدكم في الصلاة فلينم حتى يعلم ما يقرأ
سنن النسائى الصغرى
444
إذا نعس أحدكم في صلاته فلينصرف وليرقد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 213 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 213
تشریح:
فرض نماز کے لیے بہرحال جاگنا ہی چاہئیے جیسا کہ بعض مواقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جگایا جاتا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 213]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:213
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا کیونکہ ایسی حالت میں ادا شدہ نماز کو دہرانے کا حکم نہیں دیا گیا۔
اگر وضو ٹوٹ جاتا تو اس دوران میں ادا کی گئی نماز کو لوٹا نے کا ضرور حکم دیا جاتا۔
اس حدیث سے مندرجہ ذیل احکام معلوم ہوتے ہیں:
غلبہ نیند کے وقت نماز ختم کردینی چاہیے۔
اگر کوئی ایسی حالت میں نماز جاری رکھے گا تو اس کی نماز صحیح نہ ہوگی۔
اس سے ادنیٰ درجہ خشوع کا پتہ چلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے معلوم ہو کہ وہ خود یا اس کا امام کیا پڑھ رہا ہے۔
دوسرے مراتب خشوع مستحب کے درجے میں ہیں، غلبہ نوم سے کم درجہ اونگھ کا ہے جو نوم قلیل ہے اور اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
عبادات میں خشوع اور حضور قلب کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ اس کے بغیر نماز ادا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
(عمدة القاري: 587/2)

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے امام مہلب کے حوالے سے لکھا ہے کہ نماز چھوڑ کر سونے کا حکم قیام اللیل سے متعلق ہے کیونکہ کوئی بھی (فرض نماز)
اوقات نیند میں نہیں اور نہ ان میں اتنی طوالت ہی ہے کہ انسان کو نیند آنے لگے۔
اگرچہ اس حدیث کا ایک پس منظر ہے جو ہم پہلے بیان کر آئے ہیں تاہم مسائل واحکام میں الفاظ کے عموم کا اعتبار کیا جاتا ہے، اگر فرض نماز میں ایسی کیفیت پیدا ہو جائے تو اسے ترک کرکے سو جانا چاہیے، بشرطیکہ اتنا وقت باقی ہو کہ سو کر اٹھنے کے بعد نماز بروقت ادا کی جا سکتی ہو۔
(فتح الباري: 411/1)
اس وضاحت کے بعد اصلاحی صاحب نے اس حدیث پر جو تدبر فرمایا ہے وہ بھی ملاحظہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ یہ حضرات کس کس انداز سے حدیث کا مذاق اڑاتے ہیں:
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت تہجد کے وقت کے لیے کی ہوگی۔
آپ نے فرمایا کہ نیند کے غلبے میں بجائے نماز پڑھنے کے سو رہے، ایسا کون غبی ہو گا جس کو دوسرے اوقات میں ایسی نیند آئے کہ اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔
ان روایات کو باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
(تدبر: 305/1۔
306)
اس تدبر پر ہم اپنی طرف سے کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے اپنے قارئین کی صوابدید پر چھوڑ تے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 213]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 444
نیند کی وجہ سے وضو کا حکم۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے، اور (جا کر) سو جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 444]
444 ۔ اردو حاشیہ: اس مسئلے میں تھوڑی سی تفصیل ہے، وہ یہ کہ اگر نیند کا غلبہ ہے اور نماز پڑھنے والے کو کسی چیز کا شعور نہیں کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے اور کیا نہیں پڑھ رہا تو ایسی صورت میں نماز بالکل چھوڑ دے۔ جب نیند کا غلبہ ختم ہو اور اس کا شعور بحال ہو تو اس وقت وضو کرے اور نماز پڑھے کیونکہ ایسی نیند جو شعور کو ختم کر دے، وہ ناقض وضو ہوتی ہے، یعنی اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں منقول حدیث سے اسی مفہوم کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاری، الوضوء، حدیث: 212، 213]
لیکن اگر نیند کا غلبہ نہیں بلکہ شعور بحال ہے، بس ویسے ہی ہلکی پھلکی اونگھ کی کیفیت طاری ہے تو اس صورت میں نماز کو مختصر کر کے مکمل کر لے، نماز کو چھوڑے نہیں کیونکہ نمازی کے حواس بحال ہیں اور شعور بھی۔ ایسی صورت میں نماز میں اختصار کر لے۔ ان شاء اللہ نماز درست ہو گی۔ دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت راجح معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 444]

Sahih Bukhari Hadith 213 in Urdu