🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب الوضوء من غير حدث:
باب: بغیر حدث کے بھی نیا وضو کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا. ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ"، قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو بن عامر کے واسطے سے بیان کیا، کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ (دوسری سند سے) ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں، ان سے عمرو بن عامر نے بیان کیا، وہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے نیا وضو فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا تم لوگ کس طرح کرتے تھے، کہنے لگے ہم میں سے ہر ایک کو اس کا وضو اس وقت تک کافی ہوتا، جب تک کوئی وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آ جاتی۔ (یعنی پیشاب، پاخانہ، یا نیند وغیرہ)۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عمرو بن عامر الأنصاري
Newعمرو بن عامر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عمرو بن عامر الأنصاري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← مسدد بن مسرهد الأسدي
صحابي
👤←👥عمرو بن عامر الأنصاري
Newعمرو بن عامر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عمرو بن عامر الأنصاري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
214
يتوضأ عند كل صلاة
سنن أبي داود
145
إذا توضأ أخذ كفا من ماء فأدخله تحت حنكه فخلل به لحيته
سنن ابن ماجه
332
كنت مع النبي في سفر فتنحى لحاجته ثم جاء فدعا بوضوء فتوضأ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 214 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:214
حدیث حاشیہ:

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے، اس میں کچھ اضافہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے ہوتے یا بغیر وضو کے ہر حال میں نماز کے لیے تازہ وضو کرتے تھے۔
(سنن الترمذي، الطهارة، حدیث: 58)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے۔
پھر یہ منسوخ کردیا گیا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت تازہ وضو کرنے کے پابند تھے، خواہ آپ وضو ہی سے کیوں نہ ہوں۔
جب آپ پر یہ گراں گزرا تو اس کے بجائے ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
(سنن أبي داود، الطهارة، حديث: 48)
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت ایک ہی وضو سے نمازیں ادا کیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا آپ نے جواب دیا:
میں نے دانسۃ ایسا کیا ہے۔
(صحیح مسلم، الطهارة، حدیث: 642 (277)
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (جوآگے آرہی ہے)
سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے لیے تازہ وضو کی پابندی خیبر کے موقع پر اٹھا لی گئی تھی اور فتح مکہ اس کے بعد ہوا، ممکن ہے کہ پابندی اٹھنے کے باوجود خیرو برکت کے لیے آپ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے ہوں جس کی خبر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ ہوسکی، کیونکہ ان کے سوال کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انھیں اس کا علم نہ تھا۔
واضح رہے کہ ہر نماز کے لیے نیا وضو صرف رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا، افراد امت کے لیے یہ پابندی نہ تھی۔
جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جواب سے معلوم ہوتا ہے۔
ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب بایں الفاظ منقول ہے کہ ہم تمام نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھ لیتے تھے۔
(سنن ابن ماجة، الطهارة، حدیث 509)
وضو پر وضو کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے، کیونکہ یہ نور علی نور ہے۔
البتہ علمائے احناف نے استحبابِ وضوءِ جدید کے لیے اختلاف مجلس یا دووضو کے درمیان توسط عبادت کی شرط لگائی ہے۔
نیز وضوء علی وضوء میں بعض سلف کے عمل سے وضو ناقص بھی داخل ہے۔
جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق روایات میں ہے کہ آپ نے چہرے، بازو، سراور پاؤں پر ہاتھ پھیراور فرمایا کہ یہ وضو بغیر حدث کا ہے۔
(سنن النسائي، الطهارة، حدیث: 130)
نوٹ:
امین اصلاحی نے تدبر حدیث کے لیے محدثین کے اسلوب سے بالا بالا راستہ اختیار کر کے منکرین حدیث کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔
انھوں نے اس خود ساختہ تدبر کی آڑ میں احادیث کا مذاق اڑایا ہے اور ان میں شکوک و شبہات کا راستہ ہموار کیا ہے اور اس کے لیے وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
مذکورہ حدیث پر بھی جو تدبر فرمایا ہے اس کی ایک جھلک پیش خدمت ہے:
یہ بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں کہہ سکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتے تھے، ان سے زیادہ حضور کے معمولات سے واقف کون ہو سکتا ہے اور یہ روایت نہ جانے کتنے طریقوں سے مروی ہے کہ آپ نے ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں پڑھیں۔
فتح مکہ کے روز آپ کا ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھنا معروف ہے۔
غالباً ہوا یہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسے الفاظ میں روایت کی ہے جس سے عموم نکلتا ہے، لیکن خصوص اس سے سمجھا جا سکتا ہے۔
یعنی ایسے فقرے ہو سکتے ہیں جن سے یہ سمجھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عام طریقہ یہی تھا کہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے اور یہ روایت صحیح ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ ہر نماز کے لیے چاہے وضو قائم ہو نیا وضو کیا جائے قول سے غلط استشہاد ہے، کیونکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے نقل کرنے میں کچھ بے احتیاطی ہو گئی ہے۔
(تد برحدیث: 306/1)
اصلاحی صاحب کی اس عبارت کے ایک ایک لفظ سے احادیث بخاری رحمۃ اللہ علیہ میں تشکیک کی زہریلی بوندیں ٹپک رہی ہیں. تدبر حدیث نامی کتاب میں جگہ جگہ یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیان ہے کہ آپ پہلے ہر نماز کے لیے نئے وضو کے پابند تھے، خواہ آپ پہلے وضو ہی سے کیوں نہ ہوں، لیکن جن حضرات کی فطرت میں کجی ہو ان کے سامنے اس طرح کے دلائل بے سود ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 214]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 145
وضو میں ڈاڑھی کا خلال تاکیدی سنت
«. . . عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ، وَقَالَ: هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ . . .»
. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے تھے، پھر اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے: میرے رب عزوجل نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 145]
فوائد و مسائل:
وضو میں ڈاڑھی کا خلال تاکیدی سنت ہے، البتہ غسل جنابت میں اسے دھونا چاہیے، اس لیے کے ہر ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 145]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث332
قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 332]
اردو حاشہ:
یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن وضو ٹوٹ جانے کے بعد وضو کرلینے اور ہر وقت باوضو رہنے کے استحباب میں کوئی شک نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 332]

Sahih Bukhari Hadith 214 in Urdu