🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب السلم فى النخل:
باب: درخت پر جو کھجور لگی ہوئی ہو اس میں بیع سلم کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ؟ فَقَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَصْلُحَ، وَنَهَى عَنِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسَاءً بِنَاجِزٍ، وَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ، أَوْ يُؤْكَلَ وَحَتَّى يُوزَنَ"، قُلْتُ: وَمَا يُوزَنُ، قَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْرَزَ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوالبختری نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کھجور کی درخت پر بیع سلم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک وہ نفع اٹھانے کے قابل نہ ہو جائے، اسی طرح چاندی کو سونے کے بدلے بیچنے سے جب کہ ایک ادھار اور دوسرا نقد ہو منع فرمایا ہے۔ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو درخت پر بیچنے سے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے، اسی طرح جب تک وہ وزن کرنے کے قابل نہ ہو جائے منع فرمایا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وزن کئے جانے کا کیا مطلب ہے؟ تو ایک صاحب نے جو ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اس قابل نہ ہو جائے کہ وہ اندازہ کی جا سکے۔ [صحيح البخاري/كتاب السلم/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن أبي عمران الطائي، أبو البختريثقة ثبت فيه تشيع قليل
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← سعيد بن أبي عمران الطائي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2250
عن بيع الثمر حتى يصلح ونهى عن الورق بالذهب نساء
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2250 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2250
حدیث حاشیہ:
(1)
مطلب یہ ہے کہ درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کی خریدوفروخت اس وقت جائز ہے جب وہ کھانے کے قابل ہوجائیں، استعمال کے لائق ہوجائیں،پورا پکا ہوا نہ سہی نیم پختہ ہونا ضروری ہے۔
اس سے پہلے ان کی خریدوفروخت جائز نہیں۔
ہاں اگر درخت کے ذکر کے بغیر صرف اس طرح معاملہ طے کیا جائے کہ اتنے من یا اتنے ٹوکرے کھجور درکار ہے اور ان کی قیمت پیشگی ادا کردی جائے تو بیع سلم جائز ہے۔
فروخت کرنے والا جہاں سے بھی فراہم کرے اور اس کے پاس کھجور کا ایک بھی درخت نہ ہو۔
ٹھیکیدار کی حیثیت سے یہ معاملہ شرعاً جائز ہے۔
درخت پر لگی کھجوروں کا وزن کرنا ناممکن ہے،اس لیے وزن کیے جانے کے یہ معنی کیے گئے کہ اس سے مراد انھیں اتار کر محفوظ کرلینا ہے۔
خرص،وزن اور أکل سب کے ایک ہی معنی ہیں کہ وہ کھانے کے قابل ہوجائیں۔
(2)
امام بخاری ؒ کا ان احادیث سے یہ مقصد ہے کہ درخت پر لگی کھجوروں کے متعلق بیع سلم درست نہیں کیونکہ اس میں دھوکے اور نقصان کا اندیشہ ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2250]

Sahih Bukhari Hadith 2250 in Urdu