🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب من أحيا أرضا مواتا:
باب: اس شخص کا بیان جس نے بنجر زمین کو آباد کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2335
وَرَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ فِي أَرْضِ الْخَرَابِ بِالْكُوفَةِ مَوَاتٌ، وَقَالَ عُمَرُ: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ، وَيُرْوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي غَيْرِ حَقِّ مُسْلِمٍ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ فِيهِ حَقٌّ، وَيُرْوَى فِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اور علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ویران علاقوں کو آباد کرنے کے لیے یہی حکم دیا تھا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو کوئی بنجر زمین کو آباد کرے، وہ اسی کی ہو جاتی ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عوف رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔ البتہ ابن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنی روایت میں) یہ زیادتی کی ہے کہ بشرطیکہ وہ (غیرآباد زمین) کسی مسلمان کی نہ ہو، اور ظالم رگ والے کا زمین میں کوئی حق نہیں ہے۔ اور اس سلسلے میں جابر رضی اللہ عنہ کی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی ہی روایت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: Q2335]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2335
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ فَهُوَ أَحَقُّ". قَالَ عُرْوَةُ: قَضَى بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کوئی ایسی زمین آباد کی، جس پر کسی کا حق نہیں تھا تو اس زمین کا وہی حقدار ہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں یہی فیصلہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2335]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسی غیر آباد زمین کو آباد کرے جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ عروہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اس کے مطابق فیصلہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2335]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأسدي، أبو الأسود
Newمحمد بن عبد الرحمن الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن أبي جعفر المصري
Newعبيد الله بن أبي جعفر المصري ← محمد بن عبد الرحمن الأسدي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عبيد الله بن أبي جعفر المصري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2335
من أعمر أرضا ليست لأحد فهو أحق
بلوغ المرام
776
من عمر أرضا ليست لأحد فهو أحق بها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2335 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2335
حدیث حاشیہ:
حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ کے ارشادات سے یہ امر ظاہر ہے کہ ایسی بنجر زمینوں کی آبادکاری، پھر ان کی ملکیت، یہ جملہ امور حکومت وقت کی اجازت سے وابستہ ہیں۔
حضرت عمر ؓ نے جو فیصلہ کیا تھا آج بھی بیشتر ممالک میں یہی قانون نافذ ہے۔
جو غیر آباد زمینوں کی آبادکاری کے لیے بے حد ضروری ہے۔
عروہ کے اثر کو امام مالک ؒ نے موطا میں وصل کیا۔
اور اس کی دوسری روایت میں مذکور ہے جس کو ابوعبید قاسم بن سلام نے کتاب الاموال میں نکالا کہ لوگ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں زمینوں کو روکنے لگے، تب آپ نے یہ قانون نافذ کیا کہ جو کوئی ناآباد زمین کو آباد کرے گا وہ اس کی ہو جائے گی۔
مطلب یہ تھا کہ محض قبضہ کرنے یا روکنے سے ایسی زمین پر حق ملکیت ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اس کو آباد نہ کرے۔
حافظ صاحب نے بحوالہ طحاوی نقل فرمایا ہے کہ خرج رجل من أهل البصرة یقال له أبوعبداللہ إلی عمر فقال إن بأرض البصرة أرضا لا تضر بأحد من المسلمین و لیست بأرض خراج فإن شئت أن تقطعنیها أتخذها قضبا و زیتونا فکتب عمر إلی أبي موسیٰ إن کانت کذلك فاقطعها إیاہ۔
(فتح)
یعنی بصرہ کا باشندہ ابوعبداللہ نامی حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتلایا کہ بصرہ میں ایک ایسی زمین پڑی ہوئی ہے کہ جس سے کسی مسلمان کو کوئی ضرر نہیں ہے۔
نہ وہ خراجی ہے۔
اگر آپ اسے مجھے دے دیں تو میں اس میں زیتون وغیرہ کے درخت لگالوں گا۔
آپ نے عامل بصرہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو لکھا کہ جاکر اس زمین کو دیکھیں۔
اگر واقعہ یہی ہے تو اسے اس شخص کو دے دیں۔
معلوم ہوا کہ فالتو زمین کو آباد کرنے کے لیے حکومت وقت کی اجازت ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2335]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2335
حدیث حاشیہ:
(1)
زمین کو کئی طرح سے آباد کیا جا سکتا ہے، مثلاً:
اسے کھیتی باڑی کے لیے تیار کیا یا وہاں باغ لگایا، اسی طرح اس زمین کو کسی فیکٹری یا کارخانے کے لیے استعمال کیا یا وہاں مکانات تعمیر کر لیے، نیز مویشیوں کی چراگاہیں بھی اس کی آبادی میں شامل ہیں۔
(2)
دور حاضر میں زمین کے مالک زمیندار ہیں یا حکومت، اسے آباد کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ہوگی، اس کے بعد اگر اسے آباد کر لیا جائے تو وہ اس زمین کا زیادہ حق دار ہے۔
حکومت کی اجازت کے بغیر یہ اقدام کرنا افراتفری کا باعث ہو سکتا ہے، نیز محض قبضہ کرنے سے حق ملکیت ثابت نہیں ہو گا۔
روایت میں حضرت عمر ؓ کے فیصلے کا بھی ذکر ہے، حضرت عمر ؓ نے اعلان کرایا تھا کہ جس شخص نے تین سال تک زمین کو معطل رکھا اور اسے آباد نہ کیا، اس کے بعد کسی اور نے آباد کر لیا تو وہ اس کی ملکیت ہو گی، اس بنا پر اگر کوئی آدمی بنجر زمین تین سال تک روکے رکھے اور اسے آباد نہ کرے تو حکومت اس سے واپس لے کر کسی دوسرے کو دے سکتی ہے، جو اسے آباد کرے۔
زمین پر قبضہ کر لینا اسے آباد کرنا نہیں ہے۔
(3)
اس سلسلے میں ایک فیصلہ درج ذیل ہے جو حضرت عمر ؓ نے کیا تھا۔
بصری میں رہنے والا ابو عبداللہ نامی ایک شخص سیدنا عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے بتایا کہ بصرہ میں ایک ایسی زمین خالی پڑی ہے جس سے کسی مسلمان کو نقصان نہیں اور نہ وہ خراجی ہی ہے، اگر آپ مجھے الاٹ کر دیں تو وہاں بانس اور زیتون کاشت کر کے اسے آباد کر لوں۔
آپ نے بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ ؓ کو لکھا کہ وہاں جا کر زمین کا معائنہ کریں اگر واقعہ یہی ہے تو وہ زمین اسے الاٹ کر دیں۔
(فتح الباري: 26/9) (4)
اس واقعہ سے بھی معلوم ہوا کہ فالتو اور بنجر زمینوں کو آباد کرنے کے لیے حکومت وقت کی اجازت ضروری ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2335]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 776
بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
سیدنا عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے غیر آباد زمین کو آباد کیا، وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے۔ عروہ نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی پر فیصلہ فرمایا۔ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 776»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحرث والمزارعة، باب من أحيا أرضًا مواتًا، حديث:2335.»
تشریح:
1. اس حدیث کی رو سے بے آباد و بنجر زمین کو جو بھی آباد کر لے وہ اسی کی ملکیت میں آجاتی ہے‘ بشرطیکہ وہ کسی مسلمان یا ذمی کی ملکیت میں نہ ہو۔
اس میں بادشاہِ وقت کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔
جمہور علماء کی یہی رائے ہے‘ البتہ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام و بادشاہ سے اس وقت اجازت لی جائے گی جب وہ زمین آبادی کے قریب واقع ہو۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تو ہر صورت میں بادشاہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔
2. یہ حکم صرف مسلمان کے لیے ہے کافر کے لیے اس کی گنجائش نہیں ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 776]

Sahih Bukhari Hadith 2335 in Urdu