🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب كلام الخصوم بعضهم فى بعض:
باب: مدعی یا مدعی علیہ ایک دوسرے کی نسبت جو کہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، قَالَ: فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے کوئی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی تاکہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کر لے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ پاک اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ سے ہی متعلق ایک مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ اس نے انکار کیا تو میں نے مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا، کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا کہ پھر تو قسم کھا۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ جھوٹی قسم کھا لے گا اور میرا مال اڑا لے جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونچی خریدتے ہیں۔ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الخصومات/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أشعث بن قيس الكندي، أبو محمدصحابي
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← أشعث بن قيس الكندي
صحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2416 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2416
حدیث حاشیہ:
مدعی یعنی اشعث ؓ نے عدالت عالیہ نبویہ میں یہودی کی خامی کو صاف لفظوں میں ظاہر کر دیا۔
باب کا یہی مقصد ہے کہ مقدمہ سے متعلق مدعی اور مدعی علیہ عدالت میں اپنے اپنے دلائل واضح کردیں، اس کا نام غیبت نہیں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2416]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2416
حدیث حاشیہ:
(1)
مقصد یہ ہے کہ کسی مقدمے کی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں مدعی اور مدعا علیہ آپس میں سخت کلامی سے پیش آتے ہیں اور عدالت ان کا کوئی نوٹس نہیں لیتی، تو ایسا ممکن ہے بشرطیکہ وہ گفتگو فحش کلامی اور کردار کشی پر مبنی نہ ہو، ہاں اگر کوئی اپنی گفتگو سے عدالت کا احترام مجروح کرتا ہے تو اس کا نوٹس لیا جائے گا۔
اس حدیث کے مطابق حضرت اشعث ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہودی کے متعلق یہ بیان دیا کہ وہ جھوٹی قسم اٹھا کر میرا مال لے اڑے گا۔
چونکہ حضرت اشعث ؓ اس یہودی کے کردار سے واقف تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
(2)
عدالت کے سامنے ایسا بیان جس پر کوئی تعزیر یا حد واجب نہ ہو، اسے حرام غیبت میں شمار نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے مدعا علیہ کی کردار کشی ہی پر محمول کیا جائے گا۔
(فتح الباري: 93/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2416]