صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب اللهو بالحراب ونحوها:
باب: برچھے سے (مشق کرنے کے لیے) کھیلنا۔
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَى فَحَصَبَهُمْ بِهَا، فَقَالَ: دَعْهُمْ يَا عُمَرُ"، وَزَادَ عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ فِي الْمَسْجِدِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حراب (چھوٹے نیزے) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عمر انہیں کھیل دکھانے دو۔“ علی بن مدینی نے یہ بیان زیادہ کیا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی کہ مسجد میں (یہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن علي بن المديني ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله | |
👤←👥أبو هريرة الدوسي أبو هريرة الدوسي ← علي بن المديني | صحابي | |
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن هشام بن يوسف الأبناوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن موسى التميمي، أبو إسحاق إبراهيم بن موسى التميمي ← هشام بن يوسف الأبناوي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2901
| الحبشة يلعبون عند النبي بحرابهم دخل عمر فأهوى إلى الحصى فحصبهم بها فقال دعهم يا عمر |
صحيح مسلم |
2069
| دعهم يا عمر |
سنن النسائى الصغرى |
1597
| دعهم يا عمر فإنما هم بنو أرفدة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2901 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2901
حدیث حاشیہ:
یہ جنگی کرتبوں کی مشق تھی۔
حضور نبی میں حضرت عمر ؓنے اسے خلاف ادب سمجھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشی مجاہدین کی ہمت افزائی فرمائی اور ان کی اس مشق کو جاری رہنے دیا۔
عہد رسالت میں نشر و اشاعت بلکہ جملہ امور نظم و نسق ملت کے لئے دفتر کا کام بھی مسجد ہی سے لیا جاتا تھا۔
اسلام کا ابتدائی دور تھا‘ آج جیسی آسانیاں مہیا نہ تھیں اس لئے ملی امور کے لئے مسجد ہی کو بطور مرکز ملت استعمال کیا گیا۔
آج بھی مساجد کو اسلامی ملی امور کے لئے بایں طور استعمال کیا جاسکتا ہے۔
وفیه کفایة لمن له درایة
یہ جنگی کرتبوں کی مشق تھی۔
حضور نبی میں حضرت عمر ؓنے اسے خلاف ادب سمجھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشی مجاہدین کی ہمت افزائی فرمائی اور ان کی اس مشق کو جاری رہنے دیا۔
عہد رسالت میں نشر و اشاعت بلکہ جملہ امور نظم و نسق ملت کے لئے دفتر کا کام بھی مسجد ہی سے لیا جاتا تھا۔
اسلام کا ابتدائی دور تھا‘ آج جیسی آسانیاں مہیا نہ تھیں اس لئے ملی امور کے لئے مسجد ہی کو بطور مرکز ملت استعمال کیا گیا۔
آج بھی مساجد کو اسلامی ملی امور کے لئے بایں طور استعمال کیا جاسکتا ہے۔
وفیه کفایة لمن له درایة
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2901]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2901
حدیث حاشیہ:
1۔
حدیث میں کھیلنے سے مراد کھیل تماشا نہیں بلکہ جہادی مشقیں ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ تین کھیلوں کے علاوہ تمام کھیل ایک مسلمان کے شایان شان نہیں:
ایک یہ کہ گھوڑے کو جنگی تجربہ کرانا، دوسرا اپنی بیوی سے کھیلنا،تیسرا تیرکمان سے تیر اندازی کرنا۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2513)
بہرحال ایک مسلمان کو جنگی ہتھیاروں سے شغل رکھنا چاہیے اور جدید جنگی ہتھیاروں سے واقفیت ہونی چاہیے۔
نہ معلوم کب ان سے واسطہ پڑجائے۔
2۔
حضرت عمر ؓنے اسے خلاف ادب خیال کیا مگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشی مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس جہادی مشق کو جاری رکھنے کی تلقین فرمائی۔
(فتح الباري: 114/6)
1۔
حدیث میں کھیلنے سے مراد کھیل تماشا نہیں بلکہ جہادی مشقیں ہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ تین کھیلوں کے علاوہ تمام کھیل ایک مسلمان کے شایان شان نہیں:
ایک یہ کہ گھوڑے کو جنگی تجربہ کرانا، دوسرا اپنی بیوی سے کھیلنا،تیسرا تیرکمان سے تیر اندازی کرنا۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2513)
بہرحال ایک مسلمان کو جنگی ہتھیاروں سے شغل رکھنا چاہیے اور جدید جنگی ہتھیاروں سے واقفیت ہونی چاہیے۔
نہ معلوم کب ان سے واسطہ پڑجائے۔
2۔
حضرت عمر ؓنے اسے خلاف ادب خیال کیا مگررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشی مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس جہادی مشق کو جاری رکھنے کی تلقین فرمائی۔
(فتح الباري: 114/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2901]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1597
عید کے دن مسجد میں کھیلنے کودنے اور عورتوں کے اسے دیکھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑو (کھیلنے دو) یہ ”بنو ارفدہ“ ہی تو ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1597]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ (مسجد میں) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑو (کھیلنے دو) یہ ”بنو ارفدہ“ ہی تو ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1597]
1597۔ اردو حاشیہ:
➊ مسجد کھیل کود کے لیے نہیں ہوتی مگر چونکہ یہ کھیل فضول نہ تھا بلکہ نیزوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے جو کہ مسلمانوں کی جہادی قوت کا ذریعہ ہے، لہٰذا اسے مسجد میں گوارا فرمایا۔ ورنہ فٹ بال اور کرکٹ وغیرہ مسجد میں نہیں کھیلے جاسکتے کہ وہ صرف لہوولعب ہیں یا زیادہ سے زیادہ جسمانی ورزش کے لیے ہیں۔ ان کو کھیلنے والے کی نیت ”جہادی“ نہیں ہوتی۔
➋ ”بنوارفدہ“ حبشیوں کا لقب ہے یا ان کے جدامجد کی طرف نسبت ہے۔
➊ مسجد کھیل کود کے لیے نہیں ہوتی مگر چونکہ یہ کھیل فضول نہ تھا بلکہ نیزوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے جو کہ مسلمانوں کی جہادی قوت کا ذریعہ ہے، لہٰذا اسے مسجد میں گوارا فرمایا۔ ورنہ فٹ بال اور کرکٹ وغیرہ مسجد میں نہیں کھیلے جاسکتے کہ وہ صرف لہوولعب ہیں یا زیادہ سے زیادہ جسمانی ورزش کے لیے ہیں۔ ان کو کھیلنے والے کی نیت ”جہادی“ نہیں ہوتی۔
➋ ”بنوارفدہ“ حبشیوں کا لقب ہے یا ان کے جدامجد کی طرف نسبت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1597]
عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي