علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
133. باب التكبير إذا علا شرفا:
باب: جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر کہنا۔
حدیث نمبر: 2994
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا، وَإِذَا تَصَوَّبْنَا سَبَّحْنَا".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو «الله اكبر» کہتے اور نشیب میں اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2993
| إذا صعدنا كبرنا وإذا نزلنا سبحنا |
صحيح البخاري |
2994
| إذا صعدنا كبرنا وإذا تصوبنا سبحنا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2994 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2994
حدیث حاشیہ:
جب انسان کسی بلند جگہ پر چڑھے تو اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تقاضا ہے کہ اللہ أکبر کہا جائے۔
جب بھی کسی بلند چیز پر نظر پڑے تو دل میں اللہ کی بڑائی کا یقین رہےکہ وہی ہر چیز سے بڑا ہے خاص طور سفر جہاد میں اس کا ضرور التزام کیا جائے تاکہ اس کی نصرت و تائید ہمارے شامل حال رہے۔
جب انسان کسی بلند جگہ پر چڑھے تو اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تقاضا ہے کہ اللہ أکبر کہا جائے۔
جب بھی کسی بلند چیز پر نظر پڑے تو دل میں اللہ کی بڑائی کا یقین رہےکہ وہی ہر چیز سے بڑا ہے خاص طور سفر جہاد میں اس کا ضرور التزام کیا جائے تاکہ اس کی نصرت و تائید ہمارے شامل حال رہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2994]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2993
2993. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب کسی بلندی سے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2993]
حدیث حاشیہ:
کوئی بھی سفر ہو‘ راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے ہی رہتے ہیں۔
لہٰذا اس ہدایت پاک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہاں سفر جہاد کے لئے اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
باب جب بلندی پر چڑھے تو اللہ أکبر کہنا
کوئی بھی سفر ہو‘ راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے ہی رہتے ہیں۔
لہٰذا اس ہدایت پاک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہاں سفر جہاد کے لئے اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
باب جب بلندی پر چڑھے تو اللہ أکبر کہنا
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2993]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2993
2993. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب کسی بلندی سے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2993]
حدیث حاشیہ:
1۔
کوئی بھی سفر ہو راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے رہتے ہیں لہٰذا مذکورہ ہدایت نبوی کو مد نظر رکھنا چاہیےاس مقام پر سفر جہاد میں اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
2۔
حضرت یونس ؑ جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تو انھوں نے اللہ کی تسبیح کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی پیروی میں فرمایا:
”جب تم نیچی جگہ اترو تواللہ کی تسبیح کرو۔
“
1۔
کوئی بھی سفر ہو راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے رہتے ہیں لہٰذا مذکورہ ہدایت نبوی کو مد نظر رکھنا چاہیےاس مقام پر سفر جہاد میں اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
2۔
حضرت یونس ؑ جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تو انھوں نے اللہ کی تسبیح کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی پیروی میں فرمایا:
”جب تم نیچی جگہ اترو تواللہ کی تسبیح کرو۔
“
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2993]
Sahih Bukhari Hadith 2994 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← جابر بن عبد الله الأنصاري