🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
144. باب الأسارى فى السلاسل:
باب: قیدیوں کو زنجیروں میں باندھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَجِبَ اللَّهُ مِنْ قَوْمٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي السَّلَاسِلِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے لوگوں پر اللہ کو تعجب ہو گا ‘ جو جنت میں بیڑیوں سمیت داخل ہوں گے (یعنی مسلمانوں نے کافروں کو پکڑ کر بیڑیوں میں قید کر دیا پھر وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر تعجب کریں گے کہ یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے پابہ زنجیر ہوئے اور اسلام لا کر جنت میں داخل ہو گئے۔) [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث
Newمحمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن زياد القرشي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3010
عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل
سنن أبي داود
2677
عجب ربنا من قوم يقادون إلى الجنة في السلاسل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3010 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3010
حدیث حاشیہ:
لیکن بعد میں اسلام لائے اور فوراً ہی شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگئے۔
یعنی اللہ نے ان لوگوں پر تعجب کیا جو بہشت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں زنجیریں پہنتے تھے یعنی پہلے لڑائی میں قید ہو کر پابہ زنجیر آئے پھر خوشی سے مسلمان ہوگئے اور بہشت پائی۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاریؒ نے قیدیوں کے لئے زنجیروں کا پہننا ثابت فرمایا۔
أي الذین أسروا في الحرب وجاء بھم المسلمون بالسلاسل فأسلموا أو أنھم المسلمون الذین أساروا في أیدي الکفار مسلسلین فیموتون أو یقتلون علی ھذہ الحالة فیحشرون علیھا ویدخلون الجنة کذا في الخیر الجاري‘عبارت ہذا کا خلاصہ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3010]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3010
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ دنیا میں پابہ زنجیر ہوکر مسلمانوں کے قیدی بنے،پھر خوشی سے مسلمان ہوئے،اس کے بعد انھیں اسلام سے محبت پر موت آئی اور جنت میں داخل ہوئے،یعنی ان کا زنجیروں میں جکڑاجانا جنت میں داخلے کا سبب بنا۔

اس حدیث سے امام بخاری ؒنے قیدیوں کو زنجیریں ڈالنے کا جواز ثابت فرمایا ہے۔

اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیاجاتا ہے کہ اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ہاتھوں قیدی بنیں اور انھیں زنجیریں پہنائی جائیں،پھر انھیں اسی حالت میں موت آجائے تو وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کیا یہ قیدان کے لیے جنت میں داخلے کا باعث ہوئی،لیکن ہمارے نزدیک پہلامفہوم راجح ہے اور امام بخاری ؓکے قائم کردہ عنوان کے مطابق ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3010]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2677
قیدی کے باندھنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2677]
فوائد ومسائل:
یعنی کچھ لوگ بحالت کفر قید ہوجاتے ہیں۔
پھر ہدایت پاکرمسلمان ہوجاتے ہیں۔
تو ان شاء اللہ جنت میں جایئں گے۔
معلوم ہوا کہ قیدی کو باندھ لینا جائز ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو مسلمان کفار کی قید میں وفات پا جایئں یا شہید کردیئے جایئں تو وہ اسی حالت میں اٹھا ئے جایئں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2677]

Sahih Bukhari Hadith 3010 in Urdu