🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. باب في الأسير يوثق
باب: قیدی کے باندھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2677]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہمارے رب عز وجل کو ایسے لوگوں پر تعجب آتا ہے جو زنجیروں میں جکڑے جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14364)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 144 (3010)، مسند احمد (2/302، 406) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مراد وہ لوگ ہیں جو قید ہو کر مسلمانوں کے ہاتھ میں آتے ہیں پھر اللہ انہیں اسلام کی توفیق دیتا ہے اور وہ اسلام قبول کرکے جنت کی راہ پر چل پڑتے ہیں یا وہ مسلمان قیدی مراد ہیں جو کفار کے ہاتھوں قید ہو کر انتقال کر جاتے ہیں پھر اللہ انہیں جنت میں داخل کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (3010)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث
Newمحمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← محمد بن زياد القرشي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3010
عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل
سنن أبي داود
2677
عجب ربنا من قوم يقادون إلى الجنة في السلاسل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2677 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2677
فوائد ومسائل:
یعنی کچھ لوگ بحالت کفر قید ہوجاتے ہیں۔
پھر ہدایت پاکرمسلمان ہوجاتے ہیں۔
تو ان شاء اللہ جنت میں جایئں گے۔
معلوم ہوا کہ قیدی کو باندھ لینا جائز ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو مسلمان کفار کی قید میں وفات پا جایئں یا شہید کردیئے جایئں تو وہ اسی حالت میں اٹھا ئے جایئں گے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2677]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3010
3010. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے حال پر تعجب کرتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے داخل ہوں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3010]
حدیث حاشیہ:
لیکن بعد میں اسلام لائے اور فوراً ہی شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگئے۔
یعنی اللہ نے ان لوگوں پر تعجب کیا جو بہشت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں زنجیریں پہنتے تھے یعنی پہلے لڑائی میں قید ہو کر پابہ زنجیر آئے پھر خوشی سے مسلمان ہوگئے اور بہشت پائی۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاریؒ نے قیدیوں کے لئے زنجیروں کا پہننا ثابت فرمایا۔
أي الذین أسروا في الحرب وجاء بھم المسلمون بالسلاسل فأسلموا أو أنھم المسلمون الذین أساروا في أیدي الکفار مسلسلین فیموتون أو یقتلون علی ھذہ الحالة فیحشرون علیھا ویدخلون الجنة کذا في الخیر الجاري‘عبارت ہذا کا خلاصہ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3010]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3010
3010. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے حال پر تعجب کرتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے داخل ہوں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3010]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ دنیا میں پابہ زنجیر ہوکر مسلمانوں کے قیدی بنے،پھر خوشی سے مسلمان ہوئے،اس کے بعد انھیں اسلام سے محبت پر موت آئی اور جنت میں داخل ہوئے،یعنی ان کا زنجیروں میں جکڑاجانا جنت میں داخلے کا سبب بنا۔

اس حدیث سے امام بخاری ؒنے قیدیوں کو زنجیریں ڈالنے کا جواز ثابت فرمایا ہے۔

اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیاجاتا ہے کہ اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ہاتھوں قیدی بنیں اور انھیں زنجیریں پہنائی جائیں،پھر انھیں اسی حالت میں موت آجائے تو وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کیا یہ قیدان کے لیے جنت میں داخلے کا باعث ہوئی،لیکن ہمارے نزدیک پہلامفہوم راجح ہے اور امام بخاری ؓکے قائم کردہ عنوان کے مطابق ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3010]

Sunan Abi Dawud Hadith 2677 in Urdu