علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب نفقة نساء النبى صلى الله عليه وسلم بعد وفاته:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات کے نفقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3096
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ انہیں ابوالزناد نے بیان کیا ‘ انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے وارث میرے بعد ایک دینار بھی نہ بانٹیں (میرا ترکہ تقسیم نہ کریں) میں جو چھوڑ جاؤں اس میں سے میرے عاملوں کی تنخواہ اور میری بیویوں کا خرچ نکال کر باقی سب صدقہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3096]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | إمام ثقة ثبت | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن ذكوان القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد عبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي | ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2776
| لا يقتسم ورثتي دينار ا ولا درهما ما تركت بعد نفقة نسائي ومئونة عاملي فهو صدقة |
صحيح البخاري |
3096
| لا يقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسائي ومئونة عاملي فهو صدقة |
صحيح البخاري |
6729
| لا يقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسائي ومئونة عاملي فهو صدقة |
صحيح مسلم |
4585
| لا نورث ما تركنا صدقة |
صحيح مسلم |
4583
| لا يقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسائي ومئونة عاملي فهو صدقة |
جامع الترمذي |
1608
| لا نورث أعول من كان رسول الله يعوله وأنفق على من كان رسول الله ينفق عليه |
سنن أبي داود |
2974
| لا تقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
387
| ا يقسم ورثتي دينارا، ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة |
مسندالحميدي |
1168
| لا تقتسم ورثتي دينارا، ما تركت بعد نفقة أهلي، ومؤنة عاملي فهو صدقة، ولا تقتسم ورثتي دينارا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3096 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3096
حدیث حاشیہ:
یعنی جس طرح اسلامی حکومت کے کارندوں کی تنخواہیں دی جائیں گی۔
ازواج مطہرات کا نفقہ بھی اسی طرح بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔
یعنی جس طرح اسلامی حکومت کے کارندوں کی تنخواہیں دی جائیں گی۔
ازواج مطہرات کا نفقہ بھی اسی طرح بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3096]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3096
حدیث حاشیہ:
1۔
عامل سے مراد وہ لوگ ہیں جو صدقات کی نگرانی کرتے تھے بعض شارحین نے اس سے حاکم وقت اور خلیفہ مراد لیا ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اپنے صدقات میں سے اہل خانہ کا خرچ اور نگرانوں کے وظائف نکال کر جو بچتا تھا اسے مسلمانوں کے امور اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے چونکہ آپ کی بیویوں کو آپ کی وفات کے بعد کسی سے عقد ثانی کرنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے آپ کی وفات کے بعد ان کا نان و نفقہ بھی اسی مد سے ادا کیا جاتا تھا۔
3۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں امہارت المومنین کو اختیار دیا تھا کہ خرچ لیتی رہیں یا زمینی قطعات لے لیں اور ان میں مزارعت کرائیں۔
چنانچہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے زمین کو پسند کیا تو انھیں غابہ میں زمین دے دی گئی اور ان کا صدقات سے حصہ ختم کردیا گیا باقی ازواج کو بدستورخرچہ دیا جاتا رہا۔
(عمدة القار: 432/10)
1۔
عامل سے مراد وہ لوگ ہیں جو صدقات کی نگرانی کرتے تھے بعض شارحین نے اس سے حاکم وقت اور خلیفہ مراد لیا ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اپنے صدقات میں سے اہل خانہ کا خرچ اور نگرانوں کے وظائف نکال کر جو بچتا تھا اسے مسلمانوں کے امور اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے چونکہ آپ کی بیویوں کو آپ کی وفات کے بعد کسی سے عقد ثانی کرنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے آپ کی وفات کے بعد ان کا نان و نفقہ بھی اسی مد سے ادا کیا جاتا تھا۔
3۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں امہارت المومنین کو اختیار دیا تھا کہ خرچ لیتی رہیں یا زمینی قطعات لے لیں اور ان میں مزارعت کرائیں۔
چنانچہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے زمین کو پسند کیا تو انھیں غابہ میں زمین دے دی گئی اور ان کا صدقات سے حصہ ختم کردیا گیا باقی ازواج کو بدستورخرچہ دیا جاتا رہا۔
(عمدة القار: 432/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3096]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 387
انبیاء علیہ السلام کی وراثت کا مسئلہ
«. . . 372- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يقسم ورثتي دينارا، ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ورثاء ایک دینار بھی تقسیم میں نہیں لیں گے۔ میری بیویوں کے نان نفقے اور میرے عامل کے خرچ کے بعد میں نے جو بھی چھوڑا ہے سب صدقہ ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 387]
«. . . 372- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يقسم ورثتي دينارا، ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ورثاء ایک دینار بھی تقسیم میں نہیں لیں گے۔ میری بیویوں کے نان نفقے اور میرے عامل کے خرچ کے بعد میں نے جو بھی چھوڑا ہے سب صدقہ ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 387]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 3096 و مسلم 1760 من حديث مالك به]
تفقه:
➊ فقہ الحدیث کے لیے دیکھئے: الموطأ حدیث: 44
➋ انبیاء اور رسولوں کی مالی وراثت نہیں ہوتی بلکہ علمی وراثت ہوتی ہے۔ وہ جو مال بھی چھوڑ جائیں شرعی مصارف کے بعد باقی سب صدقہ ہوتا ہے۔
➌ بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمے ہوتا ہے۔
➍ موطأ امام مالک کے جس باب میں یہ حدیث مذکور ہے، اس سے ایک باب پہلے «ماجاء فى التقي» میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) ایک چار دیواری میں (اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے) فرما رہے تھے: عمر بن خطاب! امیر المؤمنین ہو! واہ واہ! اللہ کی قسم! (اے عمر!) تجھے ضرور بالضرور اللہ سے ڈرنا ہوگا ورنہ وہ تجھے عذاب دے گا۔ میں دیوار کے پیچھے سے یہ سن رہا تھا۔ [الموطأ 2/992 ح1933، وسنده صحيح]
➎ موطأ امام مالک (روایۃ ابی مصعب الزہری) میں اس حدیث والے باب سے پہلے باب میں لکھا ہوا ہے کہ عبداللہ بن الزبیر (رضی اللہ عنہ) جب رعد (کڑک چمک) کی آواز سنتے تو باتیں ترک کردیتے اور فرماتے: «سُبْحَانَ الَّذِيْ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيْفَتِهِ» پاک ہے وہ ذات جس کی حمد کے ساتھ رعد تسبیح کررہا ہے اور فرشتے اس کے خوف سے تسبیح کررہے ہیں۔ پھر آپ فرماتے: زمین والوں کے لئے یہ شدید دھمکی ہے۔ [الموطأ رواية ابي مصعب 2/171 ح2094، وسنده صحيح، البخاري فى الأدب المفرد: 723، البيهقي فى السنن الكبريٰ: 3/362]
[وأخرجه البخاري 3096 و مسلم 1760 من حديث مالك به]
تفقه:
➊ فقہ الحدیث کے لیے دیکھئے: الموطأ حدیث: 44
➋ انبیاء اور رسولوں کی مالی وراثت نہیں ہوتی بلکہ علمی وراثت ہوتی ہے۔ وہ جو مال بھی چھوڑ جائیں شرعی مصارف کے بعد باقی سب صدقہ ہوتا ہے۔
➌ بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمے ہوتا ہے۔
➍ موطأ امام مالک کے جس باب میں یہ حدیث مذکور ہے، اس سے ایک باب پہلے «ماجاء فى التقي» میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) ایک چار دیواری میں (اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے) فرما رہے تھے: عمر بن خطاب! امیر المؤمنین ہو! واہ واہ! اللہ کی قسم! (اے عمر!) تجھے ضرور بالضرور اللہ سے ڈرنا ہوگا ورنہ وہ تجھے عذاب دے گا۔ میں دیوار کے پیچھے سے یہ سن رہا تھا۔ [الموطأ 2/992 ح1933، وسنده صحيح]
➎ موطأ امام مالک (روایۃ ابی مصعب الزہری) میں اس حدیث والے باب سے پہلے باب میں لکھا ہوا ہے کہ عبداللہ بن الزبیر (رضی اللہ عنہ) جب رعد (کڑک چمک) کی آواز سنتے تو باتیں ترک کردیتے اور فرماتے: «سُبْحَانَ الَّذِيْ يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيْفَتِهِ» پاک ہے وہ ذات جس کی حمد کے ساتھ رعد تسبیح کررہا ہے اور فرشتے اس کے خوف سے تسبیح کررہے ہیں۔ پھر آپ فرماتے: زمین والوں کے لئے یہ شدید دھمکی ہے۔ [الموطأ رواية ابي مصعب 2/171 ح2094، وسنده صحيح، البخاري فى الأدب المفرد: 723، البيهقي فى السنن الكبريٰ: 3/362]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 372]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2776
2776. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے ورثاء درہم و دینار کو تقسیم نہ کریں۔ میں نے اپنی بیویوں کے اخراجات اور اپنے عاملین کے مشاہرات (جائیدادکی دیکھ بھال کرنے والوں کے خرچے)کے بعد جو چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2776]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ جو کوئی وقفی جائداد کا انتظام کرے‘ اس کا وہ متولی ہو وہ اپنی محنت کا واجبی معاوضہ جائداد میں سے دلانے کا مستحق ہو گا۔
(وحیدی)
معلوم ہوا کہ جو کوئی وقفی جائداد کا انتظام کرے‘ اس کا وہ متولی ہو وہ اپنی محنت کا واجبی معاوضہ جائداد میں سے دلانے کا مستحق ہو گا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2776]
Sahih Bukhari Hadith 3096 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي