🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ما ذكر من درع النبى صلى الله عليه وسلم وعصاه وسيفه وقدحه وخاتمه:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ، عصاء مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، پیالہ اور انگوٹھی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3112
قَال: الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ، عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبِي خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى عُثْمَانَ، فَإِنَّ فِيهِ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ.
حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن سوقہ نے کہا کہ میں نے منذر ثوری سے سنا ‘ وہ محمد بن حنفیہ سے بیان کرتے تھے کہ میرے والد (علی رضی اللہ عنہ) نے مجھ کو کہا کہ یہ پروانہ عثمان رضی اللہ عنہ کو لے جا کر دے آؤ ‘ اس میں زکوٰۃ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3112]
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے میرے والد گرامی (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے بھیجا اور فرمایا: یہ صحیفہ صدقات لو اور اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ کیونکہ اس میں صدقات سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥محمد بن الحنفية الهاشمي، أبو عبد الله، أبو القاسم
Newمحمد بن الحنفية الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥المنذر بن يعلى الثوري، أبو يعلى
Newالمنذر بن يعلى الثوري ← محمد بن الحنفية الهاشمي
ثقة
👤←👥محمد بن سوقة الغنوي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن سوقة الغنوي ← المنذر بن يعلى الثوري
ثقة مرضي
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن سوقة الغنوي
ثقة حافظ حجة
👤←👥الحميدي عبد الله بن الزبير، أبو بكر
Newالحميدي عبد الله بن الزبير ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حافظ أجل أصحاب ابن عيينة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3112 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3112
حدیث حاشیہ:
ہوا یہ تھا کہ محمد بن حنفیہ کے پاس ایک شخص نے حضرت عثمان ؓ کو برا کہا‘ انہوں نے کہا خاموش! لوگوں نے پوچھا کیا تمہارے باپ حضرت علی ؓ حضرت عثمان کو برا کہتے تھے؟ تب محمد بن حنفیہ نے یہ قصہ بیان کیا‘ یعنی اگر حضرت علی ؓان کو برا کہنے والے ہوتے تو اس موقع پر کہتے۔
اس حدیث کی مناسبت ترجمہ باب سے یہ ہے کہ آپ کا لکھوایا ہو ا پروانہ حضرت علی ؓکے پاس رہا۔
انہوں نے اس سے کام لیا‘ امام بخاری ؒنے زرہ اورعصاء اور بالوں کے متعلق حدیثیں بیان نہیں کیں‘ حالانکہ ترجمہ باب میں ان کا ذکر ہے۔
ممکن ہے کہ انہوں نے اشارہ کیا ہو حضرت عائشہ ؓ اور عباس ؓ کی حدیثو ں کی طرف جو دوسر ے بابوں میں مذکور ہیں۔
حضرت عائشہ ؓکی حدیث یہ ہے کہ وفات کے وقت آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی تھی۔
ابن عباس ؓ کی حدیث یہ ہے کہ آپ حجراسود کو ایک لکڑی سے چومتے تھے۔
انس ؓ کی حدیث کتا ب الطہارت میں گزری‘ اس میں ابن سیرین کا یہ قول ہے کہ ہمارے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ موئے مبارک ہیں اور پیالہ پر باقی برتنوں کو قیاس کرسکتے ہیں۔
حمیدی کی سند بیان کرنے سے امام بخاری ؒ کی غرض یہ ہے کہ سفیان کا سماع محمد بن سوقہ سے اور محمد بن سوقہ کا منذر سے بصراحت معلوم ہو جائے۔
(حمیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3112]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3112
حدیث حاشیہ:

حضرت محمد حنفیہ کے پاس کسی شخص نے حضرت عثمان ؓ کو برُا بھلا کہا تو آپ نے اسے خاموش کرادیا۔
لوگوں نے کہا:
آپ کے والد گرامی بھی توحضرت عثمان ؓ کو بُرا بھلا کہتے تھے۔
تب حضرت ابن حنفیہ نے یہ قصہ بیان فرمایا:
اگرحضرت علی ؓنے انھیں بُرا بھلاکہنا ہوتا تو اس موقع پر انھیں یہ کام کرناچاہیے تھا۔
حضرت عثمان ؓنے وہ صحیفہ اس لیے واپس کردیا کہ آپ اس کے مندرجات سے پہلے ہی واقف تھے اور اس کے مطابق اپنے کارندوں سے عمل کروارہے تھے۔
(فتح الباري: 258/6)

امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا صدقات سے متعلق یہ صحیفہ حضرت علی ؓکے پاس رہا اور انھوں نے اس سے کام لیا۔
ابن حنفیہ ؒ حضرت علی ؓ کے بیٹے ہیں۔
حنفیہ ان کی والدہ ہیں جن کا نام خولہ بنت جعفر ہے اور یمامہ کے قیدیوں میں قیدی بن کر آئی تھیں۔
(عمدةالقاري: 442/10)
ضروری تنبیہہ:
۔
امام بخاری ؒ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ، عصا اور بالوں کے متعلق کوئی حدیث بیان نہیں کی، حالانکہ قائم کردہ عنوان میں ان کا ذکر ہے اور انھیں دیگرمقامات پر بیان کیا ہے۔
شاید آپ نے ان کی طرف اشارہ کیا ہوان کی تفصیل درج ذیل ہے:
۔
زرہ شریف:
۔
حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے چند وسق جو ادھار لیے تو آپ نے اس کے عوض اپنی زرہ گروی رکھی۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2068)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں خریدے ہوئے جو کی قیمت ادا کرکے، رہن شدہ زرہ نہ لے سکے، حضرت ابوبکر ؓنے اپنے دور خلافت میں اس کی قیمت ادا کی اور یہودی سے زرہ لے کر حضرت علی ؓکے حوالے کی۔
۔
عصا مبارک:
۔
حضرت ابن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نوک دار لاٹھی تھی جس سے آپ حجر اسودکا استلام کرتے تھے (صحیح البخاري الحج، حدیث: 1607)
حضرت علی ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے ہمراہ بقیع تشریف لے گئے، آپ کے پاس چھڑی تھی جس سے آپ زمین پر لکیریں لگانے لگے پھر آپ نے ایک حدیث بیان فرمائی۔
(صحیح البخاری، التفسیر، حدیث: 4948)
موئے مبارک:
۔
حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج کے موقع پر)
اپنا سرمنڈوایا تو موئے مبارک حضرت ابوطلحہ ؓنے حاصل کیے۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 171)
ان بالوں میں سے کچھ بال ابن سیرین کے پاس تھے جو انھوں نےحضرت انس ؓسے حاصل کیے تھے۔
حضرت عبیدہ بھی یہ خواہش رکھتے تھے کہ کاش ان کے پاس بھی کوئی بال ہو۔
(صحیح البخاري، الوضوء، حدیث: 170)
حضرت عروہ بن مسعود ؓ کابیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک کبھی گرتا تو صحابہ کرام ؓ اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے۔
(مسند أحمد: 324/4)
کتب احادیث میں صرف خواتین کا ذکر ملتا ہے جنھوں نے خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک محفوظ رکھنے کااہتمام فرمایا، ان میں سے ایک حضرت ام سلمہ ؓ اور دوسری حضرت ام سلیم ؓہیں۔
حضرت عبداللہ بن موہب کا بیان ہے کہ مجھے حضرت ام سلمہ ؓنے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک دکھائے تھے۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 588)
حضرت عبداللہ بن موہب مزید تفصیل بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے اہل خانہ نے پانی کا پیالہ دے کر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓکے پاس بھیجا کیونکہ ان کے پاس خوبصورت چاندی کی ڈبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک محفوظ تھے۔
آپ پانی میں انھیں ڈال کر ہلاتیں، پھر وہ پانی نظربد یا بخار والے مریض کو پلایا جاتا۔
میں نے اس وقت ڈبیہ میں سرخ رنگ کے موئے مبارک دیکھے تھے۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5896)
اس طرح حضرت ام سلیم ؓنے آپ کے موئے مبارک محفوظ رکھنے کا اہتمام فرمایا، یہ بال آپ کے شوہر نامدار ابوطلحہ ؓنے دیے تھے۔
حضرت امام احمد بن حنبل ؒ کے پاس بھی موئے مبارک تھے جو انھیں فضل بن ربیع کے کسی لڑکے نے دیے تھے۔
آپ ان بالوں کو بوسہ دیتے، آنکھوں پر لگاتے اور پانی میں بھگو کر شفا کے طور پر اس پانی کو نوش کرتے۔
جن دنوں آپ پر آزمائش آئی اس وقت وہ آپ کی آستین میں رکھے ہوئے تھے۔
کچھ لوگوں نے انھیں نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے۔
(سیر أعلام النبلاء: 250/11)
انھوں نے وصیت کردی تھی کہ قبر میں ان کو بھی ساتھ ہی دفن کردیاجائے۔
(سیر أعلام النبلاء: 337/11)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار شریفہ سے دوشرائط کے ساتھ تبرک لیا جاسکتا ہے۔
بشرط یہ کہ وہ صحیح ہوں: 1۔
تبرک لینے والا شرعی عقیدے اور اچھے کردار کا حامل ہو کیونکہ جو سچا مسلمان ہی نہیں اسے اللہ تعالیٰ اس قسم کے تبرکات سے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔

جو شخص تبرک حاصل کرنا چاہتا ہو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار شریفہ سے کوئی چیز حاصل ہوا اور پھر وہ استعمال بھی محض کرے محض دیکھ لینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا جیسا کہ قبل ازیں اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے۔
آخر میں ہم اس امر کی وضاحت کرنا ضروری خیال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ نے اگرچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے آثار شریفہ سے تبرک حاصل کیا۔
آپ کے لعاب دہن کو اپنے چہروں اور جسموں پر ملا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں منع نہیں فرمایا۔
ایسا کرنا جنگی حالات کے پیش نظر ضروری بھی تھا تاکہ کفار قریش کو ڈرایا جائے اور ان کے سامنے اس امر کا اظہار کیاجائے کہ مسلمانوں کا اپنے رہبر ورہنما سے تعلق کس قدر مضبوط ہے۔
انھیں اپنے حبیب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر والہانہ عقیدت ہے۔
آپ کی محبت میں کس قدر فنا ہیں اور کس کس انداز سے آپ کی تعظیم بجالاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد بڑے حکیمانہ انداز اور لطیف اسلوب میں مسلمانوں کی توجہ اعمال صالحہ کی طرف مبذول کرنے کی کوشش فرمائی، جو تبرکات کو اختیار کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
مندرجہ ذیل حدیث اس سلسلے میں ہماری واضح رہنمائی کرتی ہے۔
حضرت عبدالرحمان بن ابوقراد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن وضو فرمایا، آپ کے صحابہ کرام ؓ نے آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنا شروع کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم ایساکیوں کرتے ہو؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی:
ہم اللہ اور اس کے ر سول کی محبت کے پیش نظر ایسا کرتے ہیں۔
آپ نے فرمایا:
جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرے یااللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ بات کرتے ہوئے سچ بولے، اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرے اور اپنے پڑوسیوں سے حسن سلوک کرے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 2998)
مختصر یہ ہے کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل تبرک یہ ہے کہ جو کچھ ہمیں آپ کےذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے، اس پر عمل کیاجائے اورآپ کی صورت وسیرت کی اتباع کی جائے تو ہم اس کے نتیجے میں دنیا وآخرت کی خیروبرکات سے مشرف ہوں گے جیساکہ حافظ ابن تیمیہ ؒ کہتے ہیں:
اہل مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی وجہ سے دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ ور کیاگیا ہر مومن جسے اس برکت کی بدولت ایمان نصیب ہوا اسے اللہ کے ہاں اتنی بھلائیوں سے نوازا جائے گا جس کی قدروقیمت تو اللہ ہی جانتا ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: 113/11)
اس موضوع پر ہم نے اپنی تالیف "فتاویٰ اصحاب الحدیث" میں تفصیل سے لکھا ہے۔
(فتاویٰ أصحاب الحدیث: 42/1، 48)
قارئین کرام اس کا ضرور مطالعہ کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےآثار شریفہ کے متعلق اس قدر تفصیل شاید کسی اور مقام پر نہ مل سکے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3112]

Sahih Bukhari Hadith 3112 in Urdu