صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا ذُكِرَ مِنْ دِرْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَاهُ وَسَيْفِهِ وَقَدَحِهِ وَخَاتَمِهِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ، عصاء مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، پیالہ اور انگوٹھی کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3106
وَمَا اسْتَعْمَلَ الْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ قِسْمَتُهُ، وَمِنْ شَعَرِهِ وَنَعْلِهِ وَآنِيَتِهِ، مِمَّا يَتَبَرَّكُ أَصْحَابُهُ وَغَيْرُهُمْ بَعْدَ وَفَاتِهِ.
اور آپ کے بعد جو خلیفہ ہوئے انہوں نے یہ چیزیں استعمال کیں ‘ ان کو تقسیم نہیں کیا ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک اور نعلین اور برتنوں کا بیان جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب وغیرہ نے آپ کی وفات کے بعد (تاریخی طور پر) متبرک سمجھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: Q3106]
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا اسْتُخْلِفَ بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ بِخَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ".
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ان کو (یعنی انس رضی اللہ عنہ کو) بحرین (عامل بنا کر) بھیجا اور ایک پروانہ لکھ کر ان کو دیا اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی مہر لگائی، مہر مبارک پر تین سطریں کندہ تھیں ‘ ایک سطر میں ”محمد“ دوسری میں ”رسول“ تیسری میں ”اللہ“ کندہ تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3106]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ مقرر ہوئے تو انہوں نے انہیں بحرین بھیجا اور ان کو یہ خط لکھ کر دیا اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگائی۔ مہر نبوت تین سطروں میں تھی: «مُحَمَّدٌ» ایک سطر، «رَسُولُ» دوسری سطر اور لفظ «اللهِ» تیسری سطر تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3106]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ" فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُمَا نَعْلَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن عبداللہ اسدی نے بیان کیا ‘ ان سے عیسیٰ بن طہمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو پرانے جوتے نکال کر دکھائے جن میں دو تسمے لگے ہوئے تھے ‘ اس کے بعد پھر ثابت بنانی نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ وہ دونوں جوتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3107]
عیسیٰ بن طہمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بالوں کے بغیر چمڑے کی وہ پرانی جوتیاں ہمیں دکھائیں جن پر دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ثابت بنانی نے یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کی کہ انہوں نے فرمایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاپوش مبارک ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3107]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كِسَاءً مُلَبَّدًا، وَقَالَتْ: فِي هَذَا نُزِعَ رُوحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنْ هَذِهِ الَّتِي يَدْعُونَهَا الْمُلَبَّدَةَ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہا عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار (تہمد) اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ (اور موٹا پیوند دار کہتے ہو) ہمیں نکال کر دکھائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3108]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر ہمیں دکھائی اور فرمایا: ”اس میں (اس کو اوڑھے ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض کی گئی تھی۔“ ایک روایت کے مطابق راویِ حدیث ابو بردہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک موٹا تہبند نکال کر ہمیں دکھایا جو یمن میں بنتا تھا اور ایک چادر جس کو تم «مُلَبَّدَة» (موٹی یا پیوند لگی) کہتے ہو۔ (فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں۔) [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3108]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3109
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَسَرَ، فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ عَاصِمٌ: رَأَيْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِيهِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے ‘ ان سے عاصم نے ‘ ان سے ابن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی پینے کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹی ہوئی جگہوں کو چاندی کی زنجیروں سے جڑوا لیا۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے وہ پیالہ دیکھا ہے۔ اور اس میں میں نے پانی بھی پیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3109]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کی تار لگا کر اسے جوڑ لیا تھا۔ (راوی حدیث) حضرت عاصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ پیالہ دیکھا اور اس میں پانی بھی پیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3109]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ كَثِيرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيِّحَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا، فَقُلْتُ لَهُ: لَا، فَقَالَ لَهُ: فَهَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ، لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّى تُبْلَغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ، فَقَالَ:" إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ أَبَدًا".
ہم سے سعید بن محمد جرمی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ولید بن کثیر نے ‘ ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ ڈولی نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے علی بن حسین (زین العابدین رحمہ اللہ) نے بیان کیا کہ جب ہم سب حضرات حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے یہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے ملاقات کی ‘ اور کہا اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم فرما دیجئیے۔ (زین العابدین نے بیان کیا کہ) میں نے کہا ‘ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے کہا تو کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عنایت فرمائیں گے؟ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کچھ لوگ (بنو امیہ) اسے آپ سے نہ چھین لیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ تلوار آپ مجھے عنایت فرما دیں تو کوئی شخص بھی جب تک میری جان باقی ہے اسے چھین نہیں سکے گا۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی (جمیلہ نامی رضی اللہ عنہا) کو پیغام نکاح دے دیا تھا۔ میں نے خود سنا کہ اسی مسئلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر صحابہ کو خطاب فرمایا۔ میں اس وقت بالغ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ فاطمہ مجھ سے ہے۔ اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ (اس رشتہ کی وجہ سے) کسی گناہ میں نہ پڑ جائے کہ اپنے دین میں وہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان بنی عبد شمس کے ایک اپنے داماد (عاص بن ربیع) کا ذکر کیا اور دامادی سے متعلق آپ نے ان کی تعریف کی ‘ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات کہی سچ کہی ‘ جو وعدہ کیا ‘ اسے پورا کیا۔ میں کسی حلال (یعنی نکاح ثانی) کو حرام نہیں کر سکتا اور نہ کسی حرام کو حلال بناتا ہوں۔ لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3110]
حضرت علی بن حسین (زین العابدین) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب ہم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ طیبہ آئے تو انھیں حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما ملے اور کہا کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم دیں؟ میں نے ان سے کہا: مجھے کوئی حاجت نہیں۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عنایت فرمائیں گے؟ مجھے خطرہ ہے مبادا کچھ لوگ آپ سے بزور چھین لیں؟ اللہ کی قسم! اگر وہ آپ مجھے دے دیں گے تو جب تک میری جان باقی ہے اسے کوئی شخص چھین نہیں سکے گا۔ (پھر انہوں نے ایک قصہ بیان کیا کہ) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی کو پیغام نکاح دے دیا تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، میں ان دنوں بالغ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے، مجھے اندیشہ ہے مبادا وہ اپنے دین کے متعلق کسی فتنے میں مبتلا ہو جائے"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان بنو عبد شمس والے داماد کا ذکر کیا اور اس کی دامادی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: "اس نے مجھ سے جو بات کہی سچی کہی، جو وعدہ کیا تو اسے پورا کیا۔ میں حلال چیز کو حرام نہیں کرتا اور حرام کو حلال نہیں کرتا لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں"۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3110]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3111
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: لَوْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاكِرًا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ:" اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ، فَأَخْبِرْهُ أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: أَغْنِهَا عَنَّا، فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا"،
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سوقہ نے ‘ ان سے منذر بن یعلیٰ نے اور ان سے محمد بن حنفیہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ اگر علی رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے ہوتے تو اس دن ہوتے جب کچھ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی (جو زکوٰۃ وصول کرتے تھے) شکایت کرنے ان کے پاس آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور یہ زکوٰۃ کا پروانہ لے جا۔ ان سے کہنا کہ یہ پروانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے۔ تم اپنے عاملوں کو حکم دو کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں۔ چنانچہ میں اسے لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں پیغام پہنچا دیا ‘ لیکن انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں (کیونکہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے) میں نے جا کر علی رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ‘ پھر اس پروانے کو جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3111]
حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برائی سے یاد کرنے والے ہوتے تو اس دن برا بھلا کہتے جب ان کے پاس لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کارندوں کی شکایت کی تھی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدقات سے متعلقہ ایک پروانہ دے کر مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا: انہیں خبردار کرو کہ یہ پروانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے، آپ اپنے کارندوں کو اس کے مطابق عمل درآمد کرنے کا پابند کریں، چنانچہ میں اسے لے کر ان (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا: فی الحال ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں وہ صحیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لے آیا اور انہیں حالات سے آگاہ کر دیا تو انہوں نے فرمایا: اچھا، یہ صحیفہ جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3111]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3112
قَال: الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ، عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبِي خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى عُثْمَانَ، فَإِنَّ فِيهِ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ.
حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن سوقہ نے کہا کہ میں نے منذر ثوری سے سنا ‘ وہ محمد بن حنفیہ سے بیان کرتے تھے کہ میرے والد (علی رضی اللہ عنہ) نے مجھ کو کہا کہ یہ پروانہ عثمان رضی اللہ عنہ کو لے جا کر دے آؤ ‘ اس میں زکوٰۃ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3112]
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے میرے والد گرامی (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے بھیجا اور فرمایا: یہ صحیفہ صدقات لو اور اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ کیونکہ اس میں صدقات سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة