🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب من لم يخمس الأسلاب:
باب: جو کوئی مقتول کافروں کے ساز و سامان میں خمس نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3142
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ حَتَّى ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ، قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: الثَّالِثَةَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: رَجُلٌ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ عَنِّي، فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ فَأَعْطَاهُ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے ابن افلح نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو (ابتداء میں) اسلامی لشکر ہارنے لگا۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ اس لیے میں فوراً ہی گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا، اور مجھے اتنی زور سے اس نے بھینچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی۔ آخر جب اس کو موت نے آ ڈبوچا، تب کہیں جا کر اس نے مجھے چھوڑا۔ اس کے بعد مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے، تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا۔ لیکن مسلمان ہارنے کے بعد پھر مقابلہ پر سنبھل گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جس نے بھی کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا) میں بھی کھڑا ہوا۔ اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ لیکن (جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو) میں بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (آج) جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا۔ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا۔ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد دہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دریافت فرمایا، کس چیز کے متعلق کہہ رہے ہو ابوقتادہ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا، تو ایک صاحب (اسود بن خزاعی اسلمی) نے بتایا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں، یا رسول اللہ! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے۔ اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجئیے (کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں) لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر نے سچ کہا ہے۔ پھر آپ نے سامان ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ ابوقتادہ نے کہا کہ پھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3142]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو مسلمانوں میں کچھ اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی۔ اس دوران میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر سوار ہے۔ یہ دیکھ کر میں اس کے گرد گھوما، پیچھے سے آکر میں نے اس کے کندھے پر تلوار ماری۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا اور مجھے اتنے زور سے دبایا کہ میں نے موت کی ہوا محسوس کی۔ آخر کار اس کو موت نے آ لیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے دریافت کیا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا، لیکن جب مسلمان مقابلے میں سنبھل گئے اور واپس ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکون سے بیٹھ کر فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر دو گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا سازوسامان اسی کو ملے گا۔ میں کھڑا ہوا اور کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ یہ کہہ کر میں بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج جس نے کسی کافر کو مارا اور اس پر کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا تمام سامان اسے ملے گا۔ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہوکر کہا: میرا گواہ کون ہے؟ مجھے پھر بیٹھنا پڑا۔ تیسری مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد فرمایا تو میں پھر کھڑا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کیا بات ہے؟ اس وقت میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سچا ہے، اس کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے اور آپ اسے میری طرف سے راضی کر دیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے کہ اس کا سازوسامان تجھے دے دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو وہ تمام سازوسامان دے دیا۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کی زرہ فروخت کی اور اس کے عوض بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥نافع بن عياش، أبو محمد
Newنافع بن عياش ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥عمر بن كثير المدني
Newعمر بن كثير المدني ← نافع بن عياش
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن كثير المدني
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4321
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
صحيح البخاري
3142
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
صحيح البخاري
7170
من له بينة على قتيل قتله فله سلبه
صحيح البخاري
2100
خرجنا مع رسول الله عام حنين فأعطاه يعني درعا فبعت الدرع فابتعت به مخرفا في بني سلمة فإنه لأول مال تأثلته في الإسلام
صحيح مسلم
3142
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
جامع الترمذي
1562
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
سنن أبي داود
2717
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
سنن ابن ماجه
2837
نفله سلب قتيل قتله يوم حنين
المعجم الصغير للطبراني
601
اللهم اغفر له ثلاثا ونفلني سلب مسعدة
مسندالحميدي
427
نفلني رسول الله صلى الله عليه وسلم سلب قتيل قتلته يوم حنين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3142 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3142
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوا کہ مقتول کافر کا سامان قاتل مجاہد ہی کا حق ہے جو اسے ملنا چاہئے مگر یہ خود امیر لشکر اس کو تحقیق کرنے کے بعد دیں گے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3142]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3142
حدیث حاشیہ:

حنین طائف اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک وادی ہے جو مکہ مکرمہ کے مشرقی جانب تقریباً 46کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے آٹھ ہجری میں وہاں جنگ لڑی گئی جس میں ہوازن کے تیر اندازوں سے مقابلہ ہوا۔

امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ مقتول کافر کا جو سامان ہو وہ قاتل کو دیا جاتا تھا۔
اس سے خمس نہیں لیا جاتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قتادہ ؓ کو مال سلب دیا جس پر کسی اور شخص نے قبضہ کر لیا تھا لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ ابو قتادہ ؓ ہی قاتل ہیں تو آپ نے وہ سازو سامان لے کر ان کے حوالے کردیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں یہی قاعدہ نافذ کیا تھا پھر غزوہ حنین کے وقت بھی اسے جاری رکھا کہ سلب کا مستحق وہی ہے جو کسی کافر کو قتل کردے یا اس طرح زخمی کردے۔
کہ اس کی زندگی محال ہو۔
ایسی حالت میں جو پاس کھڑا ہوتا ہے اس کا مال سلب میں کوئی حق نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3142]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2717
جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2717]
فوائد ومسائل:
جو مال مقتول کے پاس ہو۔
اس کا قاتل ہی اس کا حق دار سمجھا جاتا ہے۔
اور اسے اصطلاحا ً سلب کہتے ہیں۔
یعنی لباس سواری اور اسلحہ پیچھے اس کے ٹھکانے پر جو کچھ ہو وہ اس میں شامل اور شمار نہیں ہوتا۔
اس کی نقدی اور زیورات جو مخفی ہوتے ہیں۔
ان کے بارے میں اختلاف ہے۔
(نیل الأوطار: 305/7)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2717]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1562
کافر کا قاتل مقتول کے سامان کا حقدار گا۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے پاس گواہ موجود ہو تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1562]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
یہ قصہ صحیح البخاری کی حدیث: 4322، 3143 اورصحیح مسلم کی حدیث: 1751 میں دیکھا جا سکتا ہے،
واقعہ دلچسپ ہے ضرورمطالعہ کریں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1562]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3142
امام صاحب اپنے دوسرے استاد سے بھی، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طرز عمل بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3142]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جمہور کے نزدیک قربانی کے دن،
سورج چڑھنے کے بعد کنکریاں مارنا افضل ہے۔
اور بعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد،
اگرایام تشریق میں سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مارے گا،
تو ائمہ اربعہ کے نزدیک کنکریاں دوبارہ مارنی ہوں گی تیسرے دن احناف اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سورج ڈھلنے سے پہلے کنکریاں مار سکتا ہے لیکن روانگی سورج ڈھلنے کے بعد ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3142]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2100
2100. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین کے سال روانہ ہوئے۔ آپ نے مجھے ایک زرہ عنایت فرمائی تو میں نے اسے بیچ کر اس کے عوض بنو سلمہ میں ایک باغ خریدلیا۔ یہ سب سے پہلی جائیداد تھی۔ جو میں نے عہد اسلام میں حاصل کی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2100]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے ترجمہ باب کا ایک جز یعنی جب فساد نہ ہو اس وقت جنگی سامان بیچنا درست ہے، نکلتا ہے کیوں کہ زرہ بھی ہتھیار یعنی لڑائی کے سامان میں داخل ہیں۔
اب رہی یہ بات کہ فساد کے زمانہ میں ہتھیار بیچنا، تو یہ بعض نے مکروہ رکھا ہے جب ان لوگوں کے ہاتھ بیچے جو فتنہ میں ناحق پر ہوں۔
اس لیے کہ یہ اعانت ہے گناہ اور معصیت پر اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا و تعاونوا علی البر و التقوی ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان (المائدۃ: 2)
اس جماعت کے ہاتھ جو حق پر ہو بیچنا مکروہ نہیں ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2100]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7170
7170. سیدنا ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا: جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں گواہی ہو جسے اس نے قتل کیا ہوتو اسکا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں ایک مقتول کے متعلق گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کونہ دیکھا جو میرے لیے گواہی دے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا۔ وہاں بیٹھےہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب نے کہا: جس مقتول کا انہوں نے ذکر کیا ہے اس کا سامان میرے پاس ہے، آپ اسے میری طرف سے راضی کر دیں۔ اس پر سیدنا ابو بکر ؓ گویا ہوئے: ہرگز نہیں، وہ قریش کے بد رنگ (معمولی) آدمی کو سامان دے دیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر دیں جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جہاد کرتا ہے۔ سیدنا ابو قتادہ ؓ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:7170]
حدیث حاشیہ:
جب دو انصاریوں نے آپ کو مسجد سے باہر ان کے ساتھ چلتے دیکھا تھا تو ان کی بدگمانی دور کرنے کے لیے آپ نے یہ فرمایا تھا جس کی تفصیل آگے والی حدیث میں وارد ہے۔
تو اگر حاکم یا قاضی نے کسی شخص کو زنا یا چوری یا خون کرتے دیکھا تو صرف اپنے علم کی بنا پر مجرم کو سزا نہیں دے سکتا جب تک باقاعدہ شہادت سے ثبوت نہ ہو۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں قیاس تو یہ تھا کہ ان سب مقدمات میں بھی قاضی کو اپنے علم پر فیصلہ کرنا جائز ہوتا لیکن میں قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں اور استحسان کے رو سے یہ کہتا ہوں کہ قاضی ان مقدمات میں اپنے علم کی بنا پر حکم نہ دے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7170]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2100
2100. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین کے سال روانہ ہوئے۔ آپ نے مجھے ایک زرہ عنایت فرمائی تو میں نے اسے بیچ کر اس کے عوض بنو سلمہ میں ایک باغ خریدلیا۔ یہ سب سے پہلی جائیداد تھی۔ جو میں نے عہد اسلام میں حاصل کی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2100]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ حنین کے موقع پر ایک کافر کو قتل کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مقتول کا تمام سامان دے دیا،جس میں وہ زرہ تھی جسے انھوں نے فروخت کرکے باغ خریدا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب المغازی میں اسے مفصل طور پر ذکر کیا ہے۔
(صحیح البخاری،المغازی،حدیث: 4823) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ فتنہ وفساد کے زمانے میں ہتھیار فروخت کرنا ناپسندیدہ عمل ہے کیونکہ ایسا کرنے سے خریدار کی اعانت ہوتی ہے۔
یہ اس صورت میں ہے جب خریدار کا حال مشتبہ ہو کہ وہ حق پر ہے یا بغاوت کرنے والا ہے۔
اگر اس بات کا یقین ہوجائے کہ خریدار حق پر ہے تو اس کے پاس ہتھیار فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(3)
دراصل امام نوی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ اپنا مال کسی بھی شخص کو فروخت کیا جاسکتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ اس کی تحدید کرنا چاہتے ہیں۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے جب زرہ فروخت کی تو اس وقت بھی ہنگامی حالات تھے لیکن آپ نے قطعی طور پر ایسے شخص کو زرہ فروخت نہیں کی جس سے مسلمانوں کو خطرہ تھا۔
والله اعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2100]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7170
7170. سیدنا ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن فرمایا: جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں گواہی ہو جسے اس نے قتل کیا ہوتو اسکا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں ایک مقتول کے متعلق گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کونہ دیکھا جو میرے لیے گواہی دے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر مجھے خیال آیا تو میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا۔ وہاں بیٹھےہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب نے کہا: جس مقتول کا انہوں نے ذکر کیا ہے اس کا سامان میرے پاس ہے، آپ اسے میری طرف سے راضی کر دیں۔ اس پر سیدنا ابو بکر ؓ گویا ہوئے: ہرگز نہیں، وہ قریش کے بد رنگ (معمولی) آدمی کو سامان دے دیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر دیں جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جہاد کرتا ہے۔ سیدنا ابو قتادہ ؓ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:7170]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی حاکم یا قاضی کسی شخص کو زنا یا چوری یا قتل کرتے دیکھتا ہے تو صرف اپنے علم کی بنیاد پر مجرم کو سزا نہیں دے سکتا جب تک باضابطہ شہادت سے اسے ثابت نہ کیا جائے، اگر ایسا کیا جائے اور شہادت کے بغیر کوئی فیصلہ کر دیا جائے تو اس سے کئی ایک مفاسد پیدا ہوتے ہیں پھر قاضی جسے چاہے گا، اسے سزادے ڈالے گا۔

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی کہتے ہیں کہ قیاس کے مطابق ان سب مقدمات میں قاضی کے لیے اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائز ہے لیکن میں قیاس کو چھوڑ کر بطور استحسان کہتا ہوں کہ کوئی قاضی اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے، اس میں عافیت کا راستہ ہے۔
(فتح الباري: 200/13)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7170]

Sahih Bukhari Hadith 3142 in Urdu