🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب قول الله تعالى: {ويوم حنين إذ أعجبتكم كثرتكم فلم تغن عنكم شيئا وضاقت عليكم الأرض بما رحبت ثم وليتم مدبرين ثم أنزل الله سكينته} إلى قوله: {غفور رحيم} :
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ التوبہ میں) کہ ”یاد کرو تم کو اپنی کثرت تعداد پر گھمنڈ ہو گیا تھا پھر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے تنگ ہونے لگی، پھر تم پیٹھ دے کر بھاگ کھڑے ہوئے، اس کے بعد اللہ نے تم پر اپنی طرف سے تسلی نازل کی“ «غفور رحيم‏» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4321
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ، قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، فَقُمْتُ، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟" فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ، وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ، فَأَعْطِهِ"، فَأَعْطَانِيهِ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہیں عمرو بن کثیر بن افلح نے، انہیں قتادہ کے مولیٰ ابو محمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے لیے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب جنگ ہوئی تو مسلمان ذرا ڈگمگا گئے (یعنی آگے پیچھے ہو گئے)۔ میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان کے اوپر غالب ہو رہا ہے، میں نے پیچھے سے اس کی گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ اب وہ مجھ پر پلٹ پڑا اور مجھے اتنی زور سے بھینچا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی، آخر وہ مر گیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، یہی اللہ عزوجل کا حکم ہے۔ پھر مسلمان پلٹے اور (جنگ ختم ہونے کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا ہو اور اس کے لیے کوئی گواہ بھی رکھتا ہو تو اس کا تمام سامان و ہتھیار اسے ہی ملے گا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ نے دوبارہ یہی فرمایا۔ اس مرتبہ پھر میں نے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ اور پھر بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا فرمان دہرایا تو میں اس مرتبہ کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا کیا بات ہے، اے ابوقتادہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو ایک صاحب (اسود بن خزاعی اسلمی) نے کہا کہ یہ سچ کہتے ہیں اور ان کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں (کہ سامان مجھ سے نہ لیں) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق تمہیں ہرگز نہیں دے سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، تم سامان ابوقتادہ کو دے دو۔ انہوں نے سامان مجھے دے دیا۔ میں نے اس سامان سے قبیلہ سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا اسلام کے بعد یہ میرا پہلا مال تھا، جسے میں نے حاصل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4321]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کے سال روانہ ہوئے۔ جب ہماری کفار کے ساتھ جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے۔ میں نے اس کے پیچھے سے ہو کر اس کے کندھے پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ دی۔ وہ میری طرف پلٹ آیا اور مجھے اتنے زور سے دبایا کہ میں نے اس کے دبانے سے موت کی سختی محسوس کی۔ پھر جب اسے موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے فرمایا: ایسا اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔ بہرحال لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف) لوٹ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر اعلان کیا: جس نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس کے پاس گواہ ہے تو اس کو مقتول کا سازوسامان ملے گا۔ میں نے کہا: میرے لیے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کو دہرایا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا: میرے لیے کون گواہی دے گا؟ (لوگوں کی خاموشی دیکھ کر) میں پھر بیٹھ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی بات کو دہرایا تو میں کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! کیا ماجرا ہے؟ میں نے آپ کو سارا واقعہ بتایا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ابو قتادہ نے سچ کہا ہے۔ اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ انہیں میری طرف سے خوش کر دیں، یعنی سامان میرے پاس ہی رہنے دیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا! تب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر دیا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتا ہے اور تجھے اس کا سامان دے دیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔ تم مقتول کا سامان اس کے حوالے کر دو۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے مقتول کا سامان میرے حوالے کر دیا اور میں نے اس سامان کے عوض قبیلہ بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا۔ یہ پہلی جائیداد تھی جو میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4321]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥نافع بن عياش، أبو محمد
Newنافع بن عياش ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥عمر بن كثير المدني
Newعمر بن كثير المدني ← نافع بن عياش
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمر بن كثير المدني
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4321
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
صحيح البخاري
3142
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
صحيح البخاري
7170
من له بينة على قتيل قتله فله سلبه
صحيح البخاري
2100
خرجنا مع رسول الله عام حنين فأعطاه يعني درعا فبعت الدرع فابتعت به مخرفا في بني سلمة فإنه لأول مال تأثلته في الإسلام
صحيح مسلم
3142
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
جامع الترمذي
1562
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
سنن أبي داود
2717
من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه
سنن ابن ماجه
2837
نفله سلب قتيل قتله يوم حنين
المعجم الصغير للطبراني
601
اللهم اغفر له ثلاثا ونفلني سلب مسعدة
مسندالحميدي
427
نفلني رسول الله صلى الله عليه وسلم سلب قتيل قتلته يوم حنين
Sahih Bukhari Hadith 4321 in Urdu