🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب إذا وادع الإمام ملك القرية هل يكون ذلك لبقيتهم؟
باب: اگر بستی کے حاکم سے صلح ہو جائے تو بستی والوں سے بھی صلح سمجھی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3161
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ".
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباس ساعدی نے اور ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک میں شریک تھے۔ ایلہ کے حاکم (یوحنا بن روبہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر بطور خلعت کے اور ایک تحریر کے ذریعہ اس کے ملک پر اسے ہی حاکم باقی رکھا۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن سعد الساعدي، أبو حميدصحابي
👤←👥العباس بن سهل الأنصاري
Newالعباس بن سهل الأنصاري ← عبد الرحمن بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عمرو بن يحيى الأنصاري
Newعمرو بن يحيى الأنصاري ← العباس بن سهل الأنصاري
ثقة
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← عمرو بن يحيى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥سهل بن بكار القيسي، أبو بشر
Newسهل بن بكار القيسي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3161
أهدى ملك أيلة للنبي بغلة بيضاء وكساه بردا وكتب له ببحرهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3161 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3161
حدیث حاشیہ:
یہ روایت ابن اسحاق میں یوں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کو جارہے تھے، تو یوحنا بن روبہ ایلہ کا حاکم آپ کی خدمت میں آیا۔
اس نے جزیہ دینا قبول کرلیا اور آپ نے اس سے صلح کرکے سند امان لکھ کر دے دی، اس سے ترجمہ باب یوں نکلا کہ آپ نے یوحنا سے صلح کی تو سارے ایلہ والے امن اور صلح میں آگئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3161]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3161
حدیث حاشیہ:

"ایلہ" حجاز اور شام کی سرحد پر ایک قدیم شہر آباد ہے جسے دورحاضر میں مدینہ عقبہ کہا جاتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ قبول کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے ان سے مصالحت کرلی، نیز آپ کا اس کو سمندری علاقے کی حکومت لکھ کردینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بادشاہ اور رعایا سب اس مصالحت میں شامل ہیں کیونکہ بادشاہ کی مصالحت، رعایا کی مصالحت قرارپاتی ہے۔
لوگوں کی قوت بادشاہ کے ساتھ ہوتی ہے اور رعایا کے تمام لوگ بادشاہ کے ماتحت ہوتے ہیں، لہذا وہ ان سے علیحدہ نہیں ہوسکتا اور نہ وہ بادشاہ ہی سے علیحدہ رہ سکتے ہیں۔

لفظ لھم میں جمع کی ضمیر بھی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام رعایا اس میں شامل ہے اگرچہ ایک روایت میں مفرد کی ضمیر ہے۔
(صحیح البخاري، الزکاة، حدیث: 1481)
تاہم اس سے بھی مدعا واضح ہے کہ بادشاہ کی مصالحت باقی تمام رعایا کی مصالحت ہوگی۔

دراصل امام بخاری ؒنے اس عنوان سے ایک حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ایلہ کے بادشاہ اور اس کے رعایا کے لیے امن کی صراحت ہے۔
اسے ابن اسحاق نے اپنی تالیف السیرۃ میں نقل کیاہے۔
اس کے الفاظ ہیں:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے تو آپ کے پاس ایلہ کا بادشاہ آیا تو اس نے آپ کو جزیہ پیش کیا اور آپ سے مصالحت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں پروانہ لکھ کر اس کے حوالے کیا:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیمیہ پروانہ امن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ایلہ کے بادشاہ اور اس کی رعایا کے لیے ہے۔
(فتح الباري: 321/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3161]

Sahih Bukhari Hadith 3161 in Urdu