🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3364
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاس:" أَوَّلَ مَا اتَّخَذَ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لَتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُرْضِعُهُ حَتَّى وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَيْتِ عِنْدَ دَوْحَةٍ فَوْقَ زَمْزَمَ فِي أَعْلَى الْمَسْجِدِ وَلَيْسَ بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ فَوَضَعَهُمَا هُنَالِكَ وَوَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَسِقَاءً فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ قَفَّى إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ، فَقَالَتْ: يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ لَهُ: ذَلِكَ مِرَارًا وَجَعَلَ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ لَهُ: آللَّهُ الَّذِي أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا ثُمَّ رَجَعَتْ فَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الثَّنِيَّةِ حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ ثُمَّ دَعَا بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ حَتَّى بَلَغَ يَشْكُرُونَ سورة إبراهيم آية 37 وَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيلَ وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا فِي السِّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّى أَوْ، قَالَ: يَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِي الْأَرْضِ يَلِيهَا فَقَامَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَهَبَطَتْ مِنْ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا، ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ، ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَى الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا فَقَالَتْ صَهٍ تُرِيدُ نَفْسَهَا، ثُمَّ تَسَمَّعَتْ فَسَمِعَتْ أَيْضًا، فَقَالَتْ: قَدْ أَسْمَعْتَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ غِوَاثٌ فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَكِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ أَوْ، قَالَ: بِجَنَاحِهِ حَتَّى ظَهَرَ الْمَاءُ فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَتَقُولُ بِيَدِهَا هَكَذَا وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فِي سِقَائِهَا وَهُوَ يَفُورُ بَعْدَ مَا تَغْرِفُ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا، قَالَ: فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا، فَقَالَ لَهَا: الْمَلَكُ لَا تَخَافُوا الضَّيْعَةَ فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللَّهِ يَبْنِي هَذَا الْغُلَامُ وَأَبُوهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَهْلَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الْأَرْضِ كَالرَّابِيَةِ تَأْتِيهِ السُّيُولُ فَتَأْخُذُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ فَكَانَتْ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ أَوْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ جُرْهُمَ مُقْبِلِينَ مِنْ طَرِيقِ كَدَاءٍ فَنَزَلُوا فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ فَرَأَوْا طَائِرًا عَائِفًا، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا الطَّائِرَ لَيَدُورُ عَلَى مَاءٍ لَعَهْدُنَا بِهَذَا الْوَادِي وَمَا فِيهِ مَاءٌ فَأَرْسَلُوا جَرِيًّا أَوْ جَرِيَّيْنِ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ فَرَجَعُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِالْمَاءِ فَأَقْبَلُوا، قَالَ: وَأُمُّ إِسْمَاعِيلَ عِنْدَ الْمَاءِ، فَقَالُوا: أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَكِ، فَقَالَتْ: نَعَمْ وَلَكِنْ لَا حَقَّ لَكُمْ فِي الْمَاءِ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ فَنَزَلُوا مَعَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ بِهَا أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْهُمْ وَشَبَّ الْغُلَامُ وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ وَأَنْفَسَهُمْ وَأَعْجَبَهُمْ حِينَ شَبَّ فَلَمَّا أَدْرَكَ زَوَّجُوهُ امْرَأَةً مِنْهُمْ وَمَاتَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَمَا تَزَوَّجَ إِسْمَاعِيلُ يُطَالِعُ تَرِكَتَهُ فَلَمْ يَجِدْ إِسْمَاعِيلَ فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا ثُمَّ سَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ، فَقَالَتْ: نَحْنُ بِشَرٍّ نَحْنُ فِي ضِيقٍ وَشِدَّةٍ فَشَكَتْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقُولِي لَهُ يُغَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ كَأَنَّهُ آنَسَ شَيْئًا، فَقَالَ: هَلْ جَاءَكُمْ مِنْ أَحَدٍ، قَالَتْ: نَعَمْ جَاءَنَا شَيْخٌ كَذَا وَكَذَا فَسَأَلَنَا عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا فِي جَهْدٍ وَشِدَّةٍ، قَالَ: فَهَلْ أَوْصَاكِ بِشَيْءٍ، قَالَتْ: نَعَمْ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ، قَالَ: ذَاكِ أَبِي وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُفَارِقَكِ الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَطَلَّقَهَا وَتَزَوَّجَ مِنْهُمْ أُخْرَى فَلَبِثَ عَنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بَعْدُ فَلَمْ يَجِدْهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ فَسَأَلَهَا عَنْهُ، فَقَالَتْ: خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا، قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ وَسَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ، فَقَالَتْ: نَحْنُ بِخَيْرٍ وَسَعَةٍ وَأَثْنَتْ عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ: مَا طَعَامُكُمْ، قَالَتْ: اللَّحْمُ، قَالَ: فَمَا شَرَابُكُمْ، قَالَتْ: الْمَاءُ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي اللَّحْمِ وَالْمَاءِ، قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ يَوْمَئِذٍ حَبٌّ وَلَوْ كَانَ لَهُمْ دَعَا لَهُمْ فِيهِ، قَالَ: فَهُمَا لَا يَخْلُو عَلَيْهِمَا أَحَدٌ بِغَيْرِ مَكَّةَ إِلَّا لَمْ يُوَافِقَاهُ، قَالَ: فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَمُرِيهِ يُثْبِتُ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: هَلْ أَتَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ؟، قَالَتْ: نَعَمْ أَتَانَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَأَثْنَتْ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَأَوْصَاكِ بِشَيْءٍ، قَالَتْ: نَعَمْ هُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِكَ، قَالَ: ذَاكِ أَبِي وَأَنْتِ الْعَتَبَةُ أَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَكِ ثُمَّ لَبِثَ عَنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِسْمَاعِيلُ يَبْرِي نَبْلًا لَهُ تَحْتَ دَوْحَةٍ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَآهُ قَامَ إِلَيْهِ فَصَنَعَا كَمَا يَصْنَعُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ وَالْوَلَدُ بِالْوَالِدِ، ثُمَّ قَالَ: يَا إِسْمَاعِيلُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ، قَالَ: فَاصْنَعْ مَا أَمَرَكَ رَبُّكَ، قَالَ: وَتُعِينُنِي، قَالَ: وَأُعِينُكَ، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ هَا هُنَا بَيْتًا وَأَشَارَ إِلَى أَكَمَةٍ مُرْتَفِعَةٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَيْتِ فَجَعَلَ إِسْمَاعِيلُ يَأْتِي بِالْحِجَارَةِ وَإِبْرَاهِيمُ يَبْنِي حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَاءَ بِهَذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَهُ لَهُ فَقَامَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْنِي وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَهُمَا، يَقُولَانِ: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 127، قَالَ: فَجَعَلَا يَبْنِيَانِ حَتَّى يَدُورَا حَوْلَ الْبَيْتِ وَهُمَا يَقُولَانِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 127".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی اور کثیر بن کثیر بن مطلب بن ابی وداعہ نے۔ یہ دونوں کچھ زیادہ اور کمی کے ساتھ بیان کرتے ہیں، وہ دونوں سعید بن جبیر سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، عورتوں میں کمر پٹہ باندھنے کا رواج اسماعیل علیہ السلام کی والدہ (ہاجرہ علیہا السلام) سے چلا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے کمر پٹہ اس لیے باندھا تھا تاکہ سارہ علیہا السلام ان کا سراغ نہ پائیں (وہ جلد بھاگ جائیں) پھر انہیں اور ان کے بیٹے اسماعیل کو ابراہیم (علیہما السلام) ساتھ لے کر مکہ میں آئے، اس وقت ابھی وہ اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے دونوں کو کعبہ کے پاس ایک بڑے درخت کے پاس بٹھا دیا جو اس جگہ تھا جہاں اب زمزم ہے۔ مسجد کی بلند جانب میں۔ ان دنوں مکہ میں کوئی انسان نہیں تھا۔ اس لیے وہاں پانی نہیں تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں کو وہیں چھوڑ دیا اور ان کے لیے ایک چمڑے کے تھیلے میں کھجور اور ایک مشک میں پانی رکھ دیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام (اپنے گھر کے لیے) روانہ ہوئے۔ اس وقت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہا کہ اے ابراہیم! اس خشک جنگل میں جہاں کوئی بھی آدمی اور کوئی بھی چیز موجود نہیں، آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کئی دفعہ اس بات کو دہرایا لیکن ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف دیکھتے نہیں تھے۔ آخر ہاجرہ علیہا السلام نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں۔ اس پر ہاجرہ علیہا السلام بول اٹھیں کہ پھر اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا، وہ ہم کو ہلاک نہیں کرے گا۔ چنانچہ وہ واپس آ گئیں اور ابراہیم علیہ السلام روانہ ہو گئے۔ جب وہ ثنیہ پہاڑی پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو ادھر رخ کیا، جہاں اب کعبہ ہے (جہاں پر ہاجرہ اور اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑ کر آئے تھے) پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ اے میرے رب! میں نے اپنی اولاد کو اس بےآب و دانہ میدان میں تیری حرمت والے گھر کے پاس ٹھہرایا ہے (سورۃ ابراہیم) «يشكرون‏» تک۔ ادھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کو دودھ پلانے لگیں اور خود پانی پینے لگیں۔ آخر جب مشک کا سارا پانی ختم ہو گیا تو وہ پیاسی رہنے لگیں اور ان کے لخت جگر بھی پیاسے رہنے لگے۔ وہ اب دیکھ رہی تھیں کہ سامنے ان کا بیٹا (پیاس کی شدت سے) پیچ و تاب کھا رہا ہے یا (کہا کہ) زمین پر لوٹ رہا ہے۔ وہ وہاں سے ہٹ گئیں کیونکہ اس حالت میں بچے کو دیکھنے سے ان کا دل بے چین ہوتا تھا۔ صفا پہاڑی وہاں سے نزدیک تر تھی۔ وہ (پانی کی تلاش میں) اس پر چڑھ گئیں اور وادی کی طرف رخ کر کے دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی انسان نظر نہیں آیا، وہ صفا سے اتر گئیں اور جب وادی میں پہنچیں تو اپنا دامن اٹھا لیا (تاکہ دوڑتے وقت نہ الجھیں) اور کسی پریشان حال کی طرح دوڑنے لگیں پھر وادی سے نکل کر مروہ پہاڑی پر آئیں اور اس پر کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (صفا اور مروہ کے درمیان) لوگوں کے لیے دوڑنا اسی وجہ سے مشروع ہوا۔ (ساتویں مرتبہ) جب وہ مروہ پر چڑھیں تو انہیں ایک آواز سنائی دی، انہوں نے کہا، خاموش! یہ خود اپنے ہی سے وہ کہہ رہی تھیں اور پھر آواز کی طرف انہوں نے کان لگا دئیے۔ آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی پھر انہوں نے کہا کہ تمہاری آواز میں نے سنی۔ اگر تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو تو کرو۔ کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں اب زمزم (کا کنواں) ہے، وہیں ایک فرشتہ موجود ہے۔ فرشتے نے اپنی ایڑی سے زمین میں گڑھا کر دیا، یا یہ کہا کہ اپنے بازو سے، جس سے وہاں پانی ابل آیا۔ ہاجرہ نے اسے حوض کی شکل میں بنا دیا اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کر دیا (تاکہ پانی بہنے نہ پائے) اور چلو سے پانی اپنے مشکیزہ میں ڈالنے لگیں۔ جب وہ بھر چکیں تو وہاں سے چشمہ پھر ابل پڑا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ! ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر زمزم کو انہوں نے یوں ہی چھوڑ دیا ہوتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو سے مشکیزہ نہ بھرا ہوتا تو زمزم ایک بہتے ہوئے چشمے کی صورت میں ہوتا۔ بیان کیا کہ پھر ہاجرہ علیہ السلام نے خود بھی وہ پانی پیا اور اپنے بیٹے کو بھی پلایا۔ اس کے بعد ان سے فرشتے نے کہا کہ اپنے برباد ہونے کا خوف ہرگز نہ کرنا کیونکہ یہیں اللہ کا گھر ہو گا، جسے یہ بچہ اور اس کا باپ تعمیر کریں گے اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا، اب جہاں بیت اللہ ہے، اس وقت وہاں ٹیلے کی طرح زمین اٹھی ہوئی تھی۔ سیلاب کا دھارا آتا اور اس کے دائیں بائیں سے زمین کاٹ کر لے جاتا۔ اس طرح وہاں کے دن و رات گزرتے رہے اور آخر ایک دن قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وہاں سے گزرے یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) قبیلہ جرہم کے چند گھرانے مقام کداء (مکہ کا بالائی حصہ) کے راستے سے گزر کر مکہ کے نشیبی علاقے میں انہوں نے پڑاؤ کیا (قریب ہی) انہوں نے منڈلاتے ہوئے کچھ پرندے دیکھے، ان لوگوں نے کہا کہ یہ پرندہ پانی پر منڈلا رہا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جب بھی ہم اس میدان سے گزرے ہیں یہاں پانی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آخر انہوں نے اپنا ایک آدمی یا دو آدمی بھیجے۔ وہاں انہوں نے واقعی پانی پایا چنانچہ انہوں نے واپس آ کر پانی کی اطلاع دی۔ اب یہ سب لوگ یہاں آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ اس وقت پانی پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں اپنے پڑوس میں پڑاؤ ڈالنے کی اجازت دیں گی۔ ہاجرہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہو گا۔ انہوں نے اسے تسلیم کر لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ام اسماعیل کو پڑوسی مل گئے۔ انسانوں کی موجودگی ان کے لیے دلجمعی کا باعث ہوئی۔ ان لوگوں نے خود بھی یہاں قیام کیا اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلوا لیا اور وہ سب لوگ بھی یہیں آ کر ٹھہر گئے۔ اس طرح یہاں ان کے کئی گھرانے آ کر آباد ہو گئے اور بچہ (اسماعیل علیہ السلام جرہم کے بچوں میں) جوان ہوا اور ان سے عربی سیکھ لی۔ جوانی میں اسماعیل علیہ السلام ایسے خوبصورت تھے کہ آپ پر سب کی نظریں اٹھتی تھیں اور سب سے زیادہ آپ بھلے لگتے تھے۔ چنانچہ جرہم والوں نے آپ کی اپنے قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کر دی۔ پھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ (ہاجرہ علیہا السلام) کا انتقال ہو گیا)۔ اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد ابراہیم علیہ السلام یہاں اپنے چھوڑے ہوئے خاندان کو دیکھنے آئے۔ اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے آپ نے ان کی بیوی سے اسماعیل علیہ السلام کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں گئے ہیں۔ پھر آپ نے ان سے ان کی معاش وغیرہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالت اچھی نہیں ہے، بڑی تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے شکایت کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا شوہر آئے تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ پھر جب اسماعیل علیہ السلام واپس تشریف لائے تو جیسے انہوں نے کچھ انسیت سی محسوس کی اور دریافت فرمایا، کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں ایک بزرگ اس اس شکل کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، میں نے انہیں بتایا (کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں) پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر اوقات کا کیا حال ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزر اوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے۔ اسماعیل علیہ السلام نے دریافت کیا کہ انہوں نے تمہیں کچھ نصیحت بھی کی تھی؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں جدا کر دوں، اب تم اپنے گھر جا سکتی ہو۔ چنانچہ اسماعیل علیہ السلام نے انہیں طلاق دے دی اور بنی جرہم ہی میں ایک دوسری عورت سے شادی کر لی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا، ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں نہیں آئے۔ پھر جب کچھ دنوں کے بعد وہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ آپ ان کی بیوی کے یہاں گئے اور ان سے اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے روزی تلاش کرنے گئے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تم لوگوں کا حال کیسا ہے؟ آپ نے ان کی گزر بسر اور دوسرے حالات کے متعلق پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا حال بہت اچھا ہے، بڑی فراخی ہے، انہوں نے اس کے لیے اللہ کی تعریف و ثنا کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت! آپ نے دریافت کیا فرمایا کہ پیتے کیا ہو؟ بتایا کہ پانی! ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعا کی، اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور آپ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا۔ ابراہیم علیہ السلام نے (جاتے ہوئے) اس سے فرمایا کہ جب تمہارے شوہر واپس آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ایک بزرگ، بڑی اچھی شکل و صورت کے آئے تھے۔ بیوی نے آنے والے بزرگ کی تعریف کی پھر انہوں نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا (کہ کہاں ہیں؟) اور میں نے بتا دیا، پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کا کیا حال ہے۔ تو میں نے بتایا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا جی ہاں، انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بزرگ میرے والد تھے، چوکھٹ تم ہو اور آپ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں۔ پھر جتنے دنوں اللہ تعالیٰ کو منظور رہا، کے بعد ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اسماعیل زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے سائے میں (جہاں ابراہیم انہیں چھوڑ گئے تھے) اپنے تیر بنا رہے ہیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہو گے اور جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا اپنے باپ کے ساتھ محبت کرتا ہے وہی طرز عمل ان دونوں نے بھی ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، اسماعیل اللہ نے مجھے ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا، آپ کے رب نے جو حکم آپ کو دیا ہے آپ اسے ضرور پورا کریں۔ انہوں نے فرمایا اور تم بھی میری مدد کر سکو گے؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسی مقام پر اللہ کا ایک گھر بناؤں اور آپ نے ایک اور اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے چاروں طرف! کہا کہ اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیاد پر عمارت کی تعمیر شروع کی۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے جاتے تھے۔ جب دیواریں بلند ہو گئیں تو اسماعیل یہ پتھر لائے اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے اسے رکھ دیا۔ اب ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر دیتے جاتے تھے اور یہ دونوں یہ دعا پڑھتے جاتے تھے۔ ہمارے رب! ہماری یہ خدمت تو قبول کر بیشک تو بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ فرمایا کہ یہ دونوں تعمیر کرتے رہے اور بیت اللہ کے چاروں طرف گھوم گھوم کر یہ دعا پڑھتے رہے۔ اے ہمارے رب! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول فرما۔ بیشک تو بڑا سننے والا بہت جاننے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3364]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا: عورتوں نے جب کمر بند تیار کیا تو انھوں نے وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام سے سیکھا ہے، سب سے پہلے انھوں نے ہی کمر بند استعمال کیا تھا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ حضرت سارہ علیہا السلام ان کا سراغ نہ پا سکیں، واقعہ یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اسے اور اس کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے آئے۔ اس وقت حضرت ہاجرہ علیہا السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی تھیں، انھوں نے ان دونوں کو خانہ کعبہ کے پاس ایک بڑے درخت کے قریب، چاہِ زم زم پر، مسجدِ حرام کی بلند جانب والی جگہ پر بٹھا دیا۔ اس وقت مکہ مکرمہ میں کسی آدمی کا نام ونشان تک نہ تھا اور نہ وہاں پانی ہی موجود تھا۔ بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام ان دونوں کو وہاں چھوڑ گئے اور ان کے قریب ہی ایک تھیلا کھجوروں کا اور ایک مشکیزہ پانی کا رکھ دیا۔ پھر وہ وہاں سے واپس ہوئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ آپ کے پیچھے روانہ ہوئیں اور کہنے لگیں: اے ابراہیم علیہ السلام! آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ہمیں ایک ایسے جنگل میں چھوڑ کر جا رہے ہیں جہاں آدمی کا پتا نہیں اور نہ کوئی چیز ہی یہاں ملتی ہے۔ انھوں نے کئی مرتبہ پکار کر یہ کہا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی طرف پلٹ کر دیکھا تک نہیں۔ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے ان سے عرض کیا: کیا یہ حکم آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں۔ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ نے کہا: تب وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ اس کے بعد وہ واپس آ گئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام (وہاں سے) روانہ ہو گئے۔ پھر جب ثنیہ (گھاٹی) کے پاس پہنچے جہاں وہ آپ کو نہیں دیکھ سکتے تھے تو آپ نے کعبہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے اور ان الفاظ میں دعا کرنے لگے: ﴿رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ﴾ [سورة إبراهيم: 37] اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو بے آب و گیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس چھوڑ دیا ہے يَشْكُرُونَ تک۔ ادھر ام اسماعیل علیہا السلام (پر یہ بیتی کہ وہ) حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی اور اس پانی میں سے خود پیتی رہتی لیکن جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو خود بھی پیاسی ہوئیں اور بچے کو بھی پیاس لگی۔ اس نے بچے کو دیکھا کہ وہ پیاس کے مارے لوٹ پوٹ ہو رہا ہے، یعنی تڑپ رہا ہے، بچے کی یہ حالت ان کے لیے ناقابلِ دید تھی، اس لیے اٹھ کر چلیں تو صفا پہاڑی کو دوسرے پہاڑوں کے اعتبار سے قریب پایا، وہ اس پر کھڑی ہو کر وادی کی طرف دیکھنے لگیں تاکہ انھیں کوئی نظر آئے لیکن انھیں وہاں کوئی چیز دکھائی نہ دی، مجبوراً وہاں سے اتر کر نشیب میں پہنچیں تو اپنا دامن اٹھا کر بہت تیزی کے ساتھ دوڑیں جیسے کوئی سخت مصیبت زدہ اور پریشان حال انسان دوڑتا ہے۔ پھر نشیب سے گزر کر مروہ پہاڑی پر چڑھیں۔ اس پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ کوئی آدمی نظر آ جائے لیکن وہاں بھی کوئی آدمی نہ دکھائی دیا۔ پھر انھوں نے اس طرح سات چکر لگائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس لیے ان دونوں (صفا و مروہ) کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ پھر (اسی طرح ساتویں مرتبہ) جب وہ مروہ پر چڑھیں تو انھوں نے وہاں ایک آواز سنی تو خود اپنے آپ سے کہنے لگیں: «أَنْصِتْ» خاموش! پھر انھوں نے خوب کان لگا کر سنا تو ایک آواز سنائی دی۔ اس کے بعد کہنے لگیں: تو نے آواز تو سنا دی لیکن کیا تو ہماری فریاد رسی کر سکتا ہے؟ پھر اچانک انھوں نے زم زم کی جگہ ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنی ایڑی یا پر سے زمین کھودی، فوراً وہاں سے پانی نکل کر بہنے لگا۔ تب وہ اس کے گرد منڈیر بنا کر اسے حوض کی شکل دینے لگیں اور پانی کے چلو بھر بھر کر اپنی مشک میں ڈالنے لگیں۔ مگر ان کے چلو بھرنے کے بعد پانی کا چشمہ جوش مارنے لگا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پر رحم کرے! اگر وہ زم زم کو اس کے حال پر چھوڑ دیتیں، یا فرمایا: وہ پانی کے چلو نہ بھرتیں تو زم زم سطح زمین پر ایک بہنے والا چشمہ رہتا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ پلایا۔ اس کے بعد فرشتے نے ان سے کہا: تم ہلاکت کا خوف نہ کرو، یہاں اللہ کا گھر ہے، جس کو یہ بچہ اور ان کے والد تعمیر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کسی صورت میں اپنے ماننے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ اس وقت کعبہ کا یہ حال تھا کہ وہ ایک ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا۔ جب سیلاب آتے تو اس کی دائیں اور بائیں جانب کٹ جاتے تھے۔ پھر حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے ایک مدت اسی طرح گزاری حتیٰ کہ قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ یا خاندان ان کی طرف سے گزرے، وہ کداء کے راستے سے واپس آ رہے تھے تو وہ مکہ مکرمہ کے نشیب میں اتر گئے۔ اتنے میں انھوں نے ایک پرندے کو ایک جگہ منڈلاتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ پرندہ ضرور پانی پر گھوم رہا ہے، حالانکہ ہم اس وادی کو جانتے ہیں، اور یہاں ہم نے کبھی پانی دیکھا تک نہیں۔ تب انھوں نے ایک دو آدمی بھیجے تو وہ پانی پر پہنچ گئے۔ پھر انھوں نے لوٹ کر ان لوگوں کو اطلاع دی تو سب لوگ ادھر کو چل پڑے۔ ان لوگوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کو پانی پر موجود پا کر پوچھا: کیا آپ ہمیں اپنے پاس قیام کرنے کی اجازت دیتی ہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں، لیکن اس شرط پر کہ تمھارا پانی پر کوئی حق نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قبیلے نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کو الفت پسند پایا۔ اس لیے انھوں نے اپنے اہل وعیال بلا کر وہاں رہائش اختیار کر لی حتیٰ کہ وہاں ان لوگوں کے کئی گھر آباد ہو گئے اور لڑکا، یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی جوان ہو گیا اور انھوں نے ان لوگوں (قبیلہ جرہم) سے عربی زبان بھی سیکھ لی۔ بہر حال ان لوگوں کے نزدیک حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک پسندیدہ اخلاق اور انتہائی نفیس انسان ثابت ہوئے، چنانچہ جب وہ اچھی طرح جوان ہو گئے تو انھوں نے اپنے خاندان کی ایک عورت سے ان کی شادی کر دی۔ اس دوران میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ماجدہ انتقال کر گئیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کو دیکھنے آئے تو اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی۔ انھوں نے (اپنی بہو) ان کی بیوی سے ان کا حال دریافت کیا تو اس نے کہا: وہ ہمارے لیے اسبابِ معاش کی تلاش میں باہر گئے ہیں۔ پھر آپ نے اس سے گھر کی گزر اوقات کے متعلق دریافت کیا تو اس (بیوی) نے کہا: ہم سخت مصیبت اور تکلیف میں ہیں اور ہمارے حالات بہت ہی دگرگوں ہیں۔ الغرض اس نے ان (حضرت ابراہیم علیہ السلام) سے بہت شکایت کی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: جب تمھارے شوہر آئیں تو انھیں میرا سلام کہنا اور انھیں کہنا کہ اپنے دروازے کی دہلیز بدل دیں۔ پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر آئے تو انھوں نے کوئی مانوس سی چیز گھر میں محسوس کی، اہلیہ سے پوچھا: یہاں کوئی آیا تھا؟ اس نے کہا: ہاں، اس اس طرح ایک بزرگ آئے تھے اور انھوں نے آپ کے متعلق مجھ سے پوچھا تو میں نے انھیں آپ کے متعلق بتا دیا تھا۔ پھر انھوں نے احوالِ زندگی کے متعلق پوچھا تو میں نے بتایا کہ ہماری زندگی بڑی تنگی اور مصیبت سے گزرتی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس سے دریافت کیا کہ انھوں نے تمھیں کوئی وصیت فرمائی تھی؟ اہلیہ نے کہا: ہاں، انھوں نے مجھے کہا ہے کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اپنے دروازے کی دہلیز بدل دیں۔ تب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: وہ میرے والد محترم تھے اور انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم سے علیحدگی اختیار کر لوں، لہٰذا تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔ الغرض حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اسے طلاق دے کر اسی قبیلے میں سے ایک دوسری عورت کو اپنے نکاح میں لے لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کو جتنے دن منظور تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے ملک میں ٹھہرے۔ اس کے بعد دوبارہ تشریف لائے لیکن اس دفعہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے گھر نہ پایا۔ ان کی بیوی کے پاس گئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ وہ ہمارے لیے تلاشِ معاش کے سلسلے میں باہر گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دریافت کیا: تمھاری گزر اوقات کیسی ہوتی ہے؟ اور دیگر حالات کے متعلق بھی پوچھا تو اس نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ ہم اچھی حالت اور کشادگی میں ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا: تم کیا کیا کھاتے ہو؟ اس نے جواب دیا: گوشت کھاتے ہیں۔ پھر پوچھا: کیا پیتے ہو؟ اس نے بتایا کہ پانی پیتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعا کی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي اللَّحْمِ وَالْمَاءِ» اے اللہ! ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت وہاں غلہ نہیں ہوتا تھا۔ اگر غلہ ہوتا تو اس میں بھی ان کے لیے برکت کی دعا کرتے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ اہل مکہ کے علاوہ جو شخص بھی ان دو چیزوں پر ہمیشگی کرے گا اسے یہ چیزیں موافق نہیں آئیں گی۔ بہر حال حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: جب تمھارے شوہر واپس آئیں تو انھیں میرا سلام کہہ دینا اور انھیں اپنے دروازے کی دہلیز باقی رکھنے کا پیغام دینا۔ پھر جب حضرت اسماعیل علیہ السلام گھر آئے تو انھوں نے دریافت کیا کہ تمھارے پاس کوئی آیا تھا؟ اس (بیوی) نے کہا: ہاں، ایک خوش وضع بزرگ شخص ہمارے ہاں آئے تھے اور اس نے ان کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے مجھ سے تمھارے متعلق پوچھا تھا۔ میں نے بتایا کہ وہ فلاں کام گئے ہیں۔ پھر انھوں نے ہماری گزر بسر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اہلیہ سے پوچھا کہ انھوں نے تمھیں کسی بات کی وصیت کی تھی؟ بیوی نے کہا: ہاں، وہ آپ کو سلام کہہ رہے تھے اور اپنے دروازے کی دہلیز قائم رکھنے کا حکم دے رہے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا: وہ میرے والد گرامی تھے اور دروازے کی دہلیز تم ہو۔ انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمھیں اپنے پاس رکھوں۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام جس قدر اللہ نے چاہا اپنے ملک میں ٹھہرے، اس کے بعد تشریف لائے تو اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام زم زم کے پاس ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھے اپنے تیر درست کر رہے تھے۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو تعظیم کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے پھر دونوں نے ملاقات کرتے وقت وہی کچھ کیا جو باپ بیٹے کے ساتھ اور بیٹا اپنے باپ کے ساتھ کرتا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اے اسماعیل! اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے عرض کیا: جو کچھ آپ کے رب نے حکم دیا ہے آپ اسے ضرور کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اس کام میں تم میرا ہاتھ بٹاؤ گے؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں، میں آپ کی مدد کروں گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر تعمیر کروں اور انھوں نے ایک ٹیلے کی طرف اشارہ فرمایا جو اپنے آس پاس کی چیزوں سے قدرے اونچا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیادوں کو اٹھایا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لاتے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے تھے یہاں تک کہ جب دیواریں اونچی ہو گئیں تو حضرت اسماعیل علیہ السلام یہ پتھر (جسے مقامِ ابراہیم کہا جاتا ہے) لائے اور اسے ان کے لیے رکھ دیا، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام انھیں پتھر پکڑاتے تھے اور وہ دونوں اس طرح دعا کرتے تھے: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة البقرة: 127] اے ہمارے رب! ہم سے اس خدمت کو قبول فرما، یقیناً تو ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ راوی کہتا ہے: وہ دونوں کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور بیت اللہ کے ارد گرد گھومتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة البقرة: 127] اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥كثير بن كثير القرشي
Newكثير بن كثير القرشي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← كثير بن كثير القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن محمد الجعفي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد الجعفي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3364
أول ما اتخذ النساء المنطق من قبل أم إسماعيل اتخذت منطقا لتعفي أثرها على سارة ثم جاء بها إبراهيم وبابنها إسماعيل وهي ترضعه حتى وضعهما عند البيت عند دوحة فوق زمزم في أعلى المسجد وليس بمكة يومئذ أحد وليس بها ماء فوضعهما هنالك ووضع عندهما جرابا فيه تمر وسقاء
صحيح البخاري
3365
كان بين إبراهيم وبين أهله ما كان خرج بإسماعيل وأم إسماعيل ومعهم شنة فيها ماء فجعلت أم إسماعيل تشرب من الشنة فيدر لبنها على صبيها حتى قدم مكة فوضعها تحت دوحة ثم رجع إبراهيم إلى أهله فاتبعته أم إسماعيل حتى لما بلغوا كداء نادته من ورائه يا إبراهيم إلى من تتر
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3364 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3364
حدیث حاشیہ:

اس حدیث کا آغاز کمربند باندھنے سے ہوا ہے۔
خدمت کرتے وقت خدام اپنی کمر کو جس کپڑے سے باندھتے ہیں عربی زبان میں اسے مِنطق کہاجاتا ہے۔
عورتیں گھروں میں کمر بند اس لیے باندھتی ہیں تاکہ گھر میں جلدی چل پھر کر کام کاج آسانی سے کیا جائے۔

سیدہ ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کمر بند کیوں باندھا؟ شارحین نے اس کے دومقاصد بیان کیے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
الف۔
یہ کمر بند باندھ کر حضرت سارہ کو خوش کرنا مقصود تھا، اس طرح انھوں نے اپنی حالت خادمہ جیسی بنائی تاکہ حضرت سارہ پر یہ ظاہر کیا جائے کہ وہ ان کی خدمت گزارہے، سوتن کی طرح نہیں۔
ب۔
حضرت سارہ کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ایک شاہ مصر کی بیٹی تھی اور جسے اس بادشاہ نے اس خاندان کی برکات دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کےحرم میں داخل کردیاتھا۔
حرم میں آنے کے بعد انھیں حمل ٹھہرگیا اور ان کے بطن سے حضرت اسماعیل ؑ پیدا ہوئے تو حضرت سارہ کے شک میں بہت اضافہ ہوگیا۔
اللہ کے حکم سے حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے لخت جگر کو لے کر حضرت ابراہیم ؑ کے ہمراہ اپنے گھر سے نکلیں اور کمر بند باندھا تاکہ اس کے ذریعے سے ان کے قدموں کے نشانات مٹتے رہیں۔
اس طرح حضرت سارہ کو ان کا سراغ نہ مل سکا۔
اورحضرت ابراہیم ؑ نے انھیں مکہ کی بے آب و گیاہ سرزمین میں لابسایا جہاں اللہ تعالیٰ نے باپ بیٹے کے ہاتھوں اپنا گھر ازسرنوتعمیر کروایا۔

کچھ لوگوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کو شیرخوارگی کی حالت میں چھوڑ گئے تھے، پھر جب دیکھنے آئے تو وہ شادی شدہ تھے، اگرحضرت اسماعیل ؑ کوذبح کرنے کا ذکر ہوتا تو اس حدیث میں اس کا ذکر ضرورہوتا کہ حضرت ابراہیم ؑ ان کی شادی سے پہلے بھی آیا کرتے تھے لیکن ہمارے نزدیک یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ اس حدیث میں یہ قطعاً مذکور نہیں کہ زمانہ رضاعت سے لے کر شادی کے زمانے تک حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے نہیں آئے بلکہ آپ کا بار بارآنا ثابت ہے جیسا کہ ابوجہم کی روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ ہر مہینے براق پر سوار ہوکر صبح کے وقت مکہ مکرمہ آتے، پھر واپس چلے جاتے اور قیلولہ اپنے ملک شام میں جا کر کرتے تھے، نیز جب اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی تو اس کے ساتھ صفت حلیم کا ذکرکیا اور اس کا تعلق قربانی سے ہے کیونکہ اس موقع پر ان کے بردبار ہونے کی طرف لطیف اشارہ ہے لیکن جب سیدنا اسحاق ؑ کی خوش خبری دی گئی تو صفت علیم ذکر کی گئی جس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔
اس کے علاوہ سورہ صافات میں پہلے سیدنا ابراہیم ؑ کے اس بیٹے کاذکر آیا جو فی الواقع ذبیح اللہ تھے۔
اس کے بعد سیدنا اسحاق ؑ کاذکر ہے۔
یہ ذکر واقعہ قربانی کے بعد ہے۔
اس کے بعد بھی پتہ چلتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق ؑ نہیں بلکہ حضرت اسماعیل ؑ ہیں، نیز اسحاق ؑ کی خوشخبری کے وقت ان کے بیٹے یعقوب ؑ کی خوش خبری کا بھی ذکر ہے، یعنی وہ جوان ہوں گے اور آگے ان کی اولاد ہوگی تو پھر انھیں ذبح کرنے کا حکم دینے کا کیامطلب؟ اس لیے ذبيح سیدنا اسماعیل ؑ ہی تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3364]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3365
3365. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: جب حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی بیوی (سارہ) کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تو آپ حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ ماجدہ کو ساتھ لے کر باہرنکل آئے جبکہ ان کے پاس صرف ایک مشکیزہ پانی کا تھا۔ حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ اس میں سے پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ بچے کے لیے جوش مارتا رہا حتی کہ جب وہ (حضرت ابراہیم ؑ) مکہ مکرمہ آئے تو انھیں ایک بڑےدرخت کے نیچے بٹھا دیا۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیوی سارہ کی طرف واپس چلے تو حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ ان کے پیچھے آئیں حتی کہ وہ مقام کداء میں پہنچے تو ان کے پیچھے سے آواز دی۔ اے ابراہیم ؑ!ہمیں کس کے پاس چھوڑ کر جارہے ہو؟انھوں نے جواب دیا: اللہ کے پاس، حضرت ہاجرہ نے کہا: میں اللہ پر راضی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ واپس چلی آئیں اور مشکیزے سے پانی پیتی رہیں اور بچے کے لیے دودھ جوش مارتا رہا حتی کہ جب پانی ختم ہو گیا تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3365]
حدیث حاشیہ:
اس طویل حدیث میں بہت سے امور مذکور ہوئے ہیں۔
شروع میں حضرت ہاجرہ ؑ کے کمر پٹہ باندھنے کا ذکر ہے۔
جس سے عورت جلد چل پھر کر کام کاج با آسانی کرسکتی ہے۔
بعض نے یوں ترجمہ کیا ہے، تاکہ اس کمر پٹہ سے اپنے پاؤں کے نشان جو راستے میں پڑتے ہیں وہ مٹاتی جائیں تاکہ حضرت سارہ ؑ ان کا پتہ نہ پاسکیں۔
ہوا یہ تھا کہ حضرت سارہ ؑ کے کوئی اولاد نہیں تھی (بعد میں ہوئی)
اور حضرت ہاجرہ ؑ جو ایک شاہ مصر کی شاہزادی تھیں اور جسے اس بادشاہ نے اس خاندان کی برکات دیکھ کر حضرت ابراہیم ؑ کے حرم میں داخل کردیا تھا چنانچہ حضرت ہاجرہ کو حمل رہ گیا اور حضرت اسماعیل ؑ عالم وجود میں آئے۔
حضرت سارہ ؑ کے رشک میں بہت اضافہ ہوگیا، تو اس ڈر سے حضرت ہاجرہ ؑ گھر سے نکلیں اور حضرت اسماعیل ؑ کو بھی ساتھ لے لیا اور کمر سے پٹہ باندھا تاکہ اس کے ذریعہ اپنے پاؤں کے نشانات کو مٹاتی چلیں۔
اس طرح حضرت سارہ ان کا پتہ نہ پاسکیں۔
اس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو مکہ کی بے آب و گیاہ سرزمین پر لابسایا جہاں اللہ پاک نے ان کے ہاتھوں اپنا گھر ازسرنوتعمیر کرایا۔
جرہم جس کا ذکر روایت میں آیا ہے، یمن کا ایک قبیلہ ہے۔
یہی قبیلہ حضرت ہاجرہ سے اجازت لے کر یہاں آباد ہوا اور جوان ہونے پر حضرت اسماعیل کی اسی خاندان میں شادی ہوگئی۔
پہلی شادی کو حضرت ابراہیم ؑ نے پسند نہیں فرمایا جو اشارہ سے طلاق کے لیے کہہ گئے۔
دوسری بیوی کو صابرہ و شاکرہ پاکر ان سے خوشی کا اظہار فرمایا، بے شک ان واقعات میں اہل بصیرت کے لیے بہت سے اسباق ہدایت پوشیدہ ہیں، جن کو سمجھنے کے لیے نظر بصیرت کی ضرورت ہے۔
اللہ پاک ہر بخاری شریف مطالعہ کرنے والے بھائی کو نظر بصیرت عطا فرمائے۔
آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3365]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3365
3365. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: جب حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی بیوی (سارہ) کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تو آپ حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ ماجدہ کو ساتھ لے کر باہرنکل آئے جبکہ ان کے پاس صرف ایک مشکیزہ پانی کا تھا۔ حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ اس میں سے پانی پیتی رہیں اور ان کا دودھ بچے کے لیے جوش مارتا رہا حتی کہ جب وہ (حضرت ابراہیم ؑ) مکہ مکرمہ آئے تو انھیں ایک بڑےدرخت کے نیچے بٹھا دیا۔ پھر حضرت ابراہیم ؑ اپنی بیوی سارہ کی طرف واپس چلے تو حضرت اسماعیل ؑ کی والدہ ان کے پیچھے آئیں حتی کہ وہ مقام کداء میں پہنچے تو ان کے پیچھے سے آواز دی۔ اے ابراہیم ؑ!ہمیں کس کے پاس چھوڑ کر جارہے ہو؟انھوں نے جواب دیا: اللہ کے پاس، حضرت ہاجرہ نے کہا: میں اللہ پر راضی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ واپس چلی آئیں اور مشکیزے سے پانی پیتی رہیں اور بچے کے لیے دودھ جوش مارتا رہا حتی کہ جب پانی ختم ہو گیا تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3365]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ جب بیت اللہ کی بنیادیں اٹھارہے تھے تو انھوں نے مذکورہ دعا کے ساتھ مزید دعائیں بھی کیں جنھیں قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔
اللہ کے حضور ان الفاظ میں دعائیں کیں:
اے ہمارے پروردگار!ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری اولاد میں سے ایک مسلم جماعت بنا۔
ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما۔
بلاشبہ تو بڑا توبہ قبول کرنے والا،نہایت رحم کرنے والا ہے۔
اے ہمارے رب! ان میں ایک رسول بھیج جو انھی میں سے ہو۔
وہ ان پر تیری آیات تلاوت کرے۔
انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنائے۔
بلاشبہ تونہایت غالب اور خوب حکمت والا ہے۔
(البقرة: 128/2، 129)
اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک ایک دعا کو شرف قبولیت سے نوازا، چنانچہ آپ سراپا تسلیم ورضا تھے۔
اللہ تعالیٰ نے جب ان سے فرمایا:
ابراہیم!تم فرمانبردار ہوجاؤ توانھوں نے فوراً جواب دیا:
میں جہانوں کے رب کا فرمانبردار بنتا ہوں۔
(البقرة: 131/2)
اس فرمانبرداری کی جھلک نمایاں طور پر اس وقت نظر آتی ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو خواب میں اشارے سے کہا:
اپنے بیٹے کومیری خاطر ذبح کردو تو فوراً تعمیل حکم کے لیے تیار ہوگئے۔
ان کی فرمانبرداری کو قرآن نے بیان کیا ہے:
جب وہ بیٹا (اسماعیل ؑ)
ان کے ہمراہ دوڑدھوپ کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم ؑ نے کہا:
پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمھیں ذبح کررہا ہوں، اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا:
اباجان! وہی کچھ کریں جو آپ کو حکم ہوا ہے۔
ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔
پھر جب دونوں نے سرتسلیم خم کردیا اور ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل گرادیا، تب ہم نے پکارا:
اے ابراہیم! تم نے اپنا خواب سچا کردکھایا، ہم یقیناً نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی صلہ دیتے ہیں، بلاشبہ یہ ایک صریح آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی ان کافدیہ دیا اور پچھلے لوگوں میں ان کاذکرخیر چھوڑدیا۔
ابراہیم پر سلامتی ہو۔
(102/37، 109)
چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی اطاعت گزاری کے متعلق قائم کردہ مثال اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ قربانی کو مستقل سنت بنادیا۔
قیامت تک لوگ قربانی کرکے اس سنت کو زندہ کرتے رہیں گے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3365]

Sahih Bukhari Hadith 3364 in Urdu