🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب قول الله تعالى: {لقد كان فى يوسف وإخوته آيات للسائلين} :
باب: (یوسف علیہ السلام کا بیان) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں پوچھنے والوں کیلئے قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَام".
مجھے عبدہ بن عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شریف بن شریف بن شریف بن شریف یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله العدوي
Newعبد الرحمن بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن دينار القرشي
صدوق يخطئ
👤←👥عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي، أبو سهل
Newعبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← عبد الرحمن بن عبد الله العدوي
ثقة
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل
Newعبدة بن عبد الله الخزاعي ← عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4688
الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم
صحيح البخاري
3390
الكريم ابن الكريم ابن الكريم ابن الكريم يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم عليهم السلام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3390 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3390
حدیث حاشیہ:
ان جملہ روایات میں کسی نہ کسی سلسلے سے یوسف ؑ کا ذکر خیر آیا ہے۔
اسی لئے ان کو اس باب کے ذیل میں بیان کیا گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3390]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3390
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت یوسف ؑ کی خاندانی شرافت کا ذکر ہے۔
کہ وہ شریف باپ کے بیٹے شریف دادا کے پوتے اور شریف پر دادا کے پوتے تھے۔
اس کی وضاحت ہم پہلے بھی کرآئے ہیں۔

بہر حال ان جملہ آیات اور روایات میں کسی نہ کسی حوالے سے حضرت یوسف ؑ کا ذکر خیر آیا ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے ان احادیث کو مذکورہ عنوان کے تحت بیان کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3390]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4688
4688. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریم، حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4688]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کی آیت کریمہ سے مناسبت اس طرح ہے کہ یہ چار افراد حضرت یوسف ؑ اور ان کے باپ دادا صاحبان نبوت تھے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت کا اتمام ہوا تھا بہر حال سیدنا یوسف ؑ سب سے مکرم ہیں جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے۔
لوگوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے مکرم کون ہے؟ آپ نے فرمایا:
جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
ا نھوں نے کہا:
ہم یہ نہیں پوچھتے پھر آپ نے فرمایا:
یوسف ؑ اللہ کے نبی اللہ کے نبی کے بیٹے اللہ کے نبی کے پوتے اللہ کے نبی کے پڑپوتے سب سے زیادہ مکرم ہیں۔
(صحیح البخاري، حدیث الأنبیاء، حدیث: 3353)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4688]