🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب: {واذكر عبدنا داود ذا الأيد إنه أواب} إلى قوله: {وفصل الخطاب} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب‏» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3421
قَالَ مُجَاهِدٌ: الْفَهْمُ فِي الْقَضَاءِ وَلا تُشْطِطْ سورة ص آية 22 لَا تُسْرِفْ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ الصِّرَاطِ سورة ص آية 22 إِنَّ هَذَا أَخِي لَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ نَعْجَةً سورة ص آية 23 يُقَالُ لِلْمَرْأَةِ نَعْجَةٌ وَيُقَالُ لَهَا أَيْضًا شَاةٌ وَلِيَ نَعْجَةٌ وَاحِدَةٌ فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا سورة ص آية 23 مِثْلُ وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا سورة آل عمران آية 37ضَمَّهَا وَعَزَّنِي سورة ص آية 23 غَلَبَنِي صَارَ أَعَزَّ مِنِّي أَعْزَزْتُهُ جَعَلْتُهُ عَزِيزًا فِي الْخِطَابِ سورة ص آية 23 يُقَالُ الْمُحَاوَرَةُ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ سورة ص آية 24 الشُّرَكَاءِ لَيَبْغِي إِلَى قَوْلِهِ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ سورة ص آية 24 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اخْتَبَرْنَاهُ وَقَرَأَ عُمَرُ فَتَّنَّاهُ بِتَشْدِيدِ التَّاءِ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ سورة ص آية 24.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا کہ «فصل الخطاب‏» سے مراد فیصلے کی سوجھ بوجھ ہے۔ «ولا تشطط‏» یعنی بے انصافی نہ کر اور ہمیں سیدھی راہ بتا۔ یہ شخص میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے «نعجة‏» (دنبیاں) ہیں۔ عورت کے لیے بھی «نعجة‏» کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور «نعجة‏» بکری کو بھی کہتے ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے ‘ سو یہ کہتا ہے وہ بھی مجھ کو دے ڈال۔ یہ «كفلها زكرياء‏» کی طرح ہے بمعنی «ضمها» اور گفتگو میں مجھے دباتا ہے۔ داود علیہ السلام نے کہا اس نے تیری دنبی اور اپنی دنبیوں میں ملانے کی درخواست کر کے واقعی تجھ پر ظلم کیا اور اکثر ساجھی یوں ہی ایک دوسرے کے اوپر ظلم کیا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «أنما فتناه‏» تک۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( «فتناه‏» کے معنی ہیں) ہم نے ان کا امتحان کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ اس کی قرآت تاء کی تشدید کے ساتھ «فتناه‏» کیا کرتے تھے۔ سو انہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے توبہ کی اور وہ جھک پڑے اور رجوع ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: Q3421]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَوَّامَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ أَسْجُدُ فِي ص فَقَرَأَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ حَتَّى أَتَى فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90 فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، کہا میں نے عوام سے سنا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا میں سورۃ ص میں سجدہ کیا کروں؟ تو انہوں نے آیت «ومن ذريته داود وسليمان‏» تلاوت کی «فبهداهم اقتده‏» تک نیز انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء علیہم السلام کی اقتداء کا حکم تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3421]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے پوچھا: کیا ہم سورہ ص میں سجدہ تلاوت کریں؟ تو انہوں نے ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ﴾ [سورة الأنعام: 84] سے لے کر ﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] تک آیات تلاوت کیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر فرمایا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥العوام بن حوشب الشيباني، أبو عيسى
Newالعوام بن حوشب الشيباني ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سهل بن يوسف الأنماطي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newسهل بن يوسف الأنماطي ← العوام بن حوشب الشيباني
ثقة
👤←👥محمد بن سلام البيكندي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلام البيكندي ← سهل بن يوسف الأنماطي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3421
ممن أمر أن يقتدي بهم
صحيح البخاري
4632
ممن أمر أن يقتدي بهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3421 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3421
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری نےاس حدیث کوکتاب التفسیر میں بھی نکالا ہے۔
اس میں یہ ہےکہ آپ نےسورۂ ص میں سجدہ کیا۔
ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوجو اگلے رسولوں کی اقتداء کرنے کاحکم ہوا، اس کامطلب یہ ہے کہ عقائد و اصول سب پیغمبروں کے ایک ہیں گو فروعات میں کسی قدر اختلاف ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3421]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3421
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اس وقت سجدہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4807)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓنے خود اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4806)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت داؤد ؑ کی موافقت کے لیے سجدہ کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کی توبہ قبول کی تو انھوں نےشکرانے کے طور پر سجدہ کیا اور ہم بھی شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ رسولوں کی اقتدا کرنے کامطلب یہ ہے کہ عقائد و اصول میں تمام انبیائے کرام ؑ برابرہیں، البتہ فروعات میں قدرے اختلاف ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3421]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4632
4632. حضرت مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا: آیا سورہ ص میں سجدہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: "ہم نے (ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب) عطا کیے۔۔ آپ بھی انہی کا راستہ اختیار کریں۔" پھر فرمایا: وہ (حضرت داود ؑ) بھی انہی انبیاء میں سے ہیں (جن کی اقتدا کا حکم دیا گیا ہے)۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ مجاہد نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان میں سے ہیں جنہیں ان (مذکور انبیاء ؑ) کی اقتدا کا حکم دیا گیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4632]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے پڑھا ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ "اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان ؑ تھے۔
" حضرت داؤد ؑ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی اقتدا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے تو حضرت داود ؑ نے سجدہ کیا تھا ان کی اقتدا میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سجدہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4807)

وہ مقام حسب ذیل ہے جس میں حضرت داؤد ؑ کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔
"اور حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے کہ ہم نے انھیں آزمایا ہے پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے (سجدے میں)
گر پڑے اور اللہ کے حضور رجوع کیا۔
" (ص: 38۔
24)
اس کی مزید وضاحت ہم حدیث 4807 میں کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4632]

Sahih Bukhari Hadith 3421 in Urdu