🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3479
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ لِحُذَيْفَةَ أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" إِنَّ رَجُلًا حَضَرَهُ الْمَوْتُ لَمَّا أَيِسَ مِنَ الْحَيَاةِ أَوْصَى أَهْلَهُ إِذَا مُتُّ فَاجْمَعُوا لِي حَطَبًا كَثِيرًا، ثُمَّ أَوْرُوا نَارًا حَتَّى إِذَا أَكَلَتْ لَحْمِي وَخَلَصَتْ إِلَى عَظْمِي فَخُذُوهَا فَاطْحَنُوهَا فَذَرُّونِي فِي الْيَمِّ فِي يَوْمٍ حَارٍّ أَوْ رَاحٍ فَجَمَعَهُ اللَّهُ، فَقَالَ: لِمَ فَعَلْتَ، قَالَ: خَشْيَتَكَ فَغَفَرَ لَهُ"، قَالَ عُقْبَةُ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، وَقَالَ: فِي يَوْمٍ رَاحٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا، ہم سے ابوعوانہ نے ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا کہ عقبہ بن عمرو ابومسعود انصاری نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سنی ہیں وہ آپ ہم سے کیوں بیان نہیں کرتے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا تھا کہ ایک شخص کی موت کا وقت جب قریب ہوا اور وہ زندگی سے بالکل ناامید ہو گیا تو اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میری موت ہو جائے تو پہلے میرے لیے بہت سی لکڑیاں جمع کرنا اور اس سے آگ جلانا۔ جب آگ میرے جسم کو خاکستر بنا چکے اور صرف ہڈیاں باقی رہ جائیں تو ہڈیوں کو پیس لینا اور کسی سخت گرمی کے دن میں یا (یوں فرمایا کہ) سخت ہوا کے دن مجھ کو ہوا میں اڑا دینا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا کہ تیرے ہی ڈر سے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے یہ حدیث سنی ہے۔ ہم سے موسیٰ نے بیان کیا کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا اور کہا کہ اس روایت میں «في يوم راح» ہے (سوا شک کے) اس کے معنی بھی کسی تیز ہوا کے دن کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3479]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمرصدوق حسن الحديث
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة ثبت
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله
Newحذيفة بن اليمان العبسي ← موسى بن إسماعيل التبوذكي
صحابي
👤←👥أبو مسعود الأنصاري، أبو مسعود
Newأبو مسعود الأنصاري ← حذيفة بن اليمان العبسي
صحابي
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم
Newربعي بن حراش العبسي ← أبو مسعود الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← ربعي بن حراش العبسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3479
إذا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا ثم أوروا نارا حتى إذا أكلت لحمي وخلصت إلى عظمي فخذوها فاطحنوها فذروني في اليم في يوم حار أو راح فجمعه الله فقال لم فعلت قال خشيتك فغفر له
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3479 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3479
حدیث حاشیہ:
بعض روایتوں میں اس کوکفن چور بتلایا گیاہے۔
بہرحال اس نے خیال باطل میں اخروی عذابوں سےبچنے کایہ راستہ سوچا تھامگر اللہ ہرچیز پرقادر ہے۔
اس نے اس راکھ کےذرے کوجمع فرماکر اس کو حساب کےلیے کھڑا کردیا۔
ایسے توہمات باطلہ سرا سر فطرت انسانی کےخلاف ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3479]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3479
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں حضرت عقبہ سے مراد حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو بدری ؓ ہیں اور اس سے پہلے حدیث 3478۔
میں عقبہ بن عبدالغافر ہیں یہ دونوں الگ الگ ہیں اس حدیث کی تشریح ہو چکی ہے۔
دیکھیں حدیث 3452۔
وہاں اس آدمی کے متعلق وضاحت تھی کہ وہ کفن چور تھا۔
بہر حال اس شخص نے اپنے خیال کے مطابق اخروی عذاب سے بچنے کا ایک خود ساختہ طریقہ تجویز کیا مگر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اس نے راکھ کے ایک ایک ذرے کو جمع کر کے اس شخص کو حساب کے لیے اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسے باطل خیالات سرا سر فطرت انسانی کے خلاف ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3479]