🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3553
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ بِالْمَصِّيصَةِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَزَادَفِيهِ عَوْنٌ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَقَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ يَدَيْهِ فَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي، فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ".
ہم سے ابوعلی حسن بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد الاعور نے مصیصہ (شہر میں) بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت سفر کے ارادہ سے نکلے۔ بطحاء نامی جگہ پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ظہر کی نماز دو رکعت (قصر) پڑھی پھر عصر کی بھی دو رکعت (قصر) پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھوٹا سا نیزہ (بطور سترہ) گڑا ہوا تھا۔ عون نے اپنے والد سے اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نیزہ کے آگے سے آنے جانے والے آ جا رہے تھے۔ پھر صحابہ آپ کے پاس آ گئے اور آپ کے مبارک ہاتھوں کو تھام کر اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے چہرے پر رکھا۔ اس وقت وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3553]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت وادی بطحاء کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے وضو کیا، پھر ظہر کی دو رکعات اور عصر کی دو رکعات ادا کیں اور آپ کے سامنے برچھا گاڑا ہوا تھا۔ (راویِ حدیث) عون نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ برچھے کے پیچھے سے لوگ گزر رہے تھے۔ نماز کے بعد لوگ کھڑے ہوئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہروں پر ملنے لگے، چنانچہ میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥عون بن أبي جحيفة السوائي
Newعون بن أبي جحيفة السوائي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عون بن أبي جحيفة السوائي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفة
Newوهب بن وهب السوائي ← شعبة بن الحجاج العتكي
صحابي
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن منصور البغدادي، أبو علي
Newالحسن بن منصور البغدادي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3553
صلى الظهر ركعتين والعصر ركعتين وبين يديه عنزة قال شعبة وزاد فيه عون عن أبيه أبي جحيفة قال كان يمر من ورائها المرأة يأخذون يديه فيمسحون بها وجوههم قال فأخذت بيده فوضعتها على وجهي فإذا هي أبرد من الثلج وأطيب رائحة من المسك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3553 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3553
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے، آپ نے ایک ڈول پانی میں کلی کرکے وہ پانی کنویں میں ڈال دیا تو کنویں میں سے مشک جیسی خوشبو آنے لگی۔
ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کا پسینہ جمع کرکے رکھا، خوشبو میں ملا یا تو وہ دوسری خوشبو سے زیادہ معطر تھا۔
ابویعلیٰ اور بزار نے باسناد صحیح نکالا کہ آپ جب مدینہ کے کسی راستے سے گزرتے تو وہ مہک جاتا۔
ایک غریب عورت کے پاس خوشبو نہ تھی۔
آپ نے شیشی میں اپنا تھوڑا پسینہ اسے دے دیا تو اس سے سارے مدینہ والے مشک کی سی خوشبو پاتے۔
اس کے گھر کانام بیت المطیبین پڑ گیا تھا۔
(أبویعلیٰ، طبراني)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3553]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3553
حدیث حاشیہ:

حضرت جابربن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھی،پھرآپ اپنے اہل خانہ کے ہاں تشریف لے گئے۔
میں بھی آپ کے ساتھ ہولیا۔
بچوں نے آپ کا استقبال کیا۔
آپ کمال شفقت اور پیار سے ایک ایک کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے۔
چونکہ میں بھی بچہ تھا۔
آپ نے میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ کے ہاتھ میں ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا آپ نے اسے ابھی ابھی عطار کے عطر دان سے نکالا ہے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6052(2329)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید چمک دار،پسینہ گویا موتی،چلتے تو قدرے جھکاؤ کے ساتھ آگے بڑھتے۔
میں نے کوئی ریشم ایسا نہیں چھوا جو آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور نہ کوئی مشک عنبر ہی سونگھا جو آپ کی خوشبو سے بڑھ کر ہو۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6054(2330)
خوشبو آپ کی صفت کریمہ تھی اگرچہ آپ خوشبو استعمال نہ کریں۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی راستے سے تشریف لے جاتے اور آپ کے بعد کوئی دوسرا وہاں سے گزرتا تو آپ کے عطر بیز جسم اورپسینے کی خوشبو سے معلوم کرلیتا کہ گزرگیا ہے ادھر سے وہ کاروان بہار۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک برف سے زیادہ ٹھنڈے ہونے میں حکمت یہ کہ آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک آپ کے جسم اطہر کی ہرعیب سے سلامتی پر دلالت کرتی ہے۔
(عمدةالقاري: 299/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3553]

Sahih Bukhari Hadith 3553 in Urdu