یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3559
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَكَانَ، يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدزبان اور لڑنے جھگڑنے والے نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں (جو لوگوں سے کشادہ پیشانی سے پیش آئے)۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3559]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو فحش گو تھے اور نہ بدزبان ہی تھے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”بلاشبہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اخلاق اچھا ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3559]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3559
| لم يكن النبي فاحشا ولا متفحشا من خياركم أحسنكم أخلاقا |
صحيح البخاري |
3759
| لم يكن فاحشا ولا متفحشا من أحبكم إلي أحسنكم أخلاقا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3559 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3559
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث اس وقت بیان کی جب آپ حضر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کوفہ آئے تھے۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6029)
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم میں سے مجھے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔
“ (صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3759)
حسن خلق یہ ہے کہ فضائل کو اختیار کیاجائے اور رذائل ترک کردیے جائیں۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق کریم تو قرآن مجید تھا۔
ان احادیث کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عادتاً اور تکلفاً فحش گو نہ تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفحش گوئی کی عادت نہ تھی اور نہ کبھی تکلف ہی سے فحش گوئی کی تھی۔
نہ آپ بازاروں میں آواز بلند کرتے تھے اور نہ بُرائی کا بدلہ ہی بُرائی سے دیتے تھے بلکہ معاف کردیتے اور درگزر فرماتے تھے۔
(فتح الباري: 702/6)
غصے کے وقت آپ صرف یہ بتاتے:
اسے کیا ہوا اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
کسی کا نام لے کر اسے عیب کی نشاندہی نہ کرتے بلکہ اجتماعی طور پر یوں کہتے:
ان لوگوں کو کیا ہوا یہ ایسا کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 703/6)
1۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث اس وقت بیان کی جب آپ حضر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کوفہ آئے تھے۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6029)
ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم میں سے مجھے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔
“ (صحیح البخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیه وسلم، حدیث: 3759)
حسن خلق یہ ہے کہ فضائل کو اختیار کیاجائے اور رذائل ترک کردیے جائیں۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق کریم تو قرآن مجید تھا۔
ان احادیث کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عادتاً اور تکلفاً فحش گو نہ تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفحش گوئی کی عادت نہ تھی اور نہ کبھی تکلف ہی سے فحش گوئی کی تھی۔
نہ آپ بازاروں میں آواز بلند کرتے تھے اور نہ بُرائی کا بدلہ ہی بُرائی سے دیتے تھے بلکہ معاف کردیتے اور درگزر فرماتے تھے۔
(فتح الباري: 702/6)
غصے کے وقت آپ صرف یہ بتاتے:
اسے کیا ہوا اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
کسی کا نام لے کر اسے عیب کی نشاندہی نہ کرتے بلکہ اجتماعی طور پر یوں کہتے:
ان لوگوں کو کیا ہوا یہ ایسا کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 703/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3559]
Sahih Bukhari Hadith 3559 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن عمرو السهمي