صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:
باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَكَتْ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقْدَمِينَ عَلَى فَرَطِ صِدْقٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ".
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا، ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑیں تو ابن عباس رضی اللہ عنہما عیادت کے لیے آئے اور عرض کیا: ام المؤمنین! آپ تو سچے جانے والے کے پاس جا رہی ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر کے پاس (عالم برزخ میں ان سے ملاقات مراد تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3771]
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی تیمار داری کے لیے حاضر ہوئے اور فرمایا: ”اے اُم المومنین! آپ تو اپنے سچے پیش روؤں کے پاس جائیں گی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3771]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3771
| يا أم المؤمنين تقدمين على فرط صدق على رسول الله وعلى أبي بكر |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3771 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3771
حدیث حاشیہ:
1۔
قافلے کے ہر اول دستے کو فرط کہا جاتا ہے جو قافلے کے آگے ہوتا ہے اور اس کے لیے ضروری انتظامات کرتا ہے اور صدق، فرط کی صفت ہے۔
2۔
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر ؓ آپ سے پہلے تشریف لے گئے ہیں اورآپ ان سے جاملیں گی۔
انھوں نے آپ کے لیے جنت میں اعلیٰ مکان تیار کررکھاہے۔
آپ کو فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کے سچے نمائندے وہاں موجود ہیں جو آپ کے جنت میں لے جائیں گے۔
3۔
حضرت ابن عباس ؓ کا یہ ارشاد محض عقل پر مبنی نہیں تھا بلکہ انھوں نے اس سلسلے میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا۔
اس میں حضرت عائشہ ؓ کے لیے فضیلتِ عظیمہ ہے۔
یہ اعزاز کسی دوسری عورت یا بیوی کو حاصل نہیں ہوا۔
1۔
قافلے کے ہر اول دستے کو فرط کہا جاتا ہے جو قافلے کے آگے ہوتا ہے اور اس کے لیے ضروری انتظامات کرتا ہے اور صدق، فرط کی صفت ہے۔
2۔
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر ؓ آپ سے پہلے تشریف لے گئے ہیں اورآپ ان سے جاملیں گی۔
انھوں نے آپ کے لیے جنت میں اعلیٰ مکان تیار کررکھاہے۔
آپ کو فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ آپ کے سچے نمائندے وہاں موجود ہیں جو آپ کے جنت میں لے جائیں گے۔
3۔
حضرت ابن عباس ؓ کا یہ ارشاد محض عقل پر مبنی نہیں تھا بلکہ انھوں نے اس سلسلے میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا۔
اس میں حضرت عائشہ ؓ کے لیے فضیلتِ عظیمہ ہے۔
یہ اعزاز کسی دوسری عورت یا بیوی کو حاصل نہیں ہوا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3771]
Sahih Bukhari Hadith 3771 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عبد الله بن العباس القرشي