Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب أتباع الأنصار:
باب: انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3788
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ أَتْبَاعًا وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَتْبَاعَهُمْ مِنْهُمْ"، قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَدْ زَعَمَ ذَاكَ زَيْدٌ، قَالَ: شُعْبَةُ أَظُنُّهُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے کہ میں نے انصار کے ایک آدمی ابوحمزہ سے سنا کہ انصار نے عرض کیا ہر قوم کے تابعدار (ہالی موالی) ہوتے ہیں، ہم تو آپ کے تابعدار بنے۔ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ! ان کے تابعداروں کو بھی انہیں میں سے کر دے۔ عمرو نے بیان کیا کہ پھر میں نے اس حدیث کا تذکرہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے کیا تو انہوں نے (تعجب کے طور پر) کہا زید نے ایسا کہا؟ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ زید، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہیں (نہ اور کوئی زید جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے ابن ابی لیلیٰ نے گمان کیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري
ثقة
👤←👥طلحة بن يزيد الأنصاري، أبو حمزة
Newطلحة بن يزيد الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← طلحة بن يزيد الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥آدم بن أبي إياس، أبو الحسن
Newآدم بن أبي إياس ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3788
لكل قوم أتباعا وإنا قد اتبعناك فادع الله أن يجعل أتباعنا منا قال النبي اللهم اجعل أتباعهم منهم
صحيح البخاري
3787
لكل نبي أتباع وإنا قد اتبعناك فادع الله أن يجعل أتباعنا منا فدعا به فنميت ذلك إلى ابن أبي ليلى قال قد زعم ذلك زيد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3788 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3788
حدیث حاشیہ:
حافظ نے کہا شعبہ کا گمان صحیح ہے، ابونعیم نے مستخرج میں اس کو علی بن جعد کے طریق سے زید بن ارقم سے یقینی طورپر نکالا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3788]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3787
3787. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ انصار نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہر نبی کے پیروکار ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی پیروی کی ہے۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے پیروکار و لواحقین کو بھی ہم میں سے بنا دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی۔ (راوی کہتے ہیں کہ) پھر میں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ حضرت زید یہ کہہ چکے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3787]
حدیث حاشیہ:
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار انصار میں بنائے اور انھیں وہی عزت و شرف ملے جو ہمیں عطا ہوا ہے یا یہ مقصود ہے کہ وہ ہمارے نقش قدم پر چلیں اور انھیں وہی مقام حاصل ہو جو ہمیں ملا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی:
اے اللہ! انصار کو بخش دے، ان کے بیٹوں کو معاف فرما اور ان کے پوتوں پر بھی رحم و کرم فرما۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
14(2506)
)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان الفاظ میں دعا فرمائی:
اے اللہ! انصار کو ان کی اولاد کو اور ان کے حلفاء و موالی کو معاف کردے۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
16(2507)
انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسا ہمرا درجہ اور مقام ہے اسی طرح ہماری اولاد غلام حلیف اور تعلق دار لوگوں کو بھی وہی مرتبہ حاصل ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے دعا فرما دی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3787]