Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب أتباع الأنصار:
باب: انصار کے تابعدار لوگوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو , سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا" , فَدَعَا بِهِ , فَنَمَيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدٌ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، انہوں نے ابوحمزہ سے سنا اور انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر نبی کے تابعدار لوگ ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی تابعداری کی ہے۔ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمارے تابعداروں کو بھی ہم میں شریک کر دے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دعا فرمائی۔ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ حدیث بیان کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥طلحة بن يزيد الأنصاري، أبو حمزة
Newطلحة بن يزيد الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← طلحة بن يزيد الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3788
لكل قوم أتباعا وإنا قد اتبعناك فادع الله أن يجعل أتباعنا منا قال النبي اللهم اجعل أتباعهم منهم
صحيح البخاري
3787
لكل نبي أتباع وإنا قد اتبعناك فادع الله أن يجعل أتباعنا منا فدعا به فنميت ذلك إلى ابن أبي ليلى قال قد زعم ذلك زيد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3787 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3787
حدیث حاشیہ:
حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیروکار انصار میں بنائے اور انھیں وہی عزت و شرف ملے جو ہمیں عطا ہوا ہے یا یہ مقصود ہے کہ وہ ہمارے نقش قدم پر چلیں اور انھیں وہی مقام حاصل ہو جو ہمیں ملا ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی:
اے اللہ! انصار کو بخش دے، ان کے بیٹوں کو معاف فرما اور ان کے پوتوں پر بھی رحم و کرم فرما۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
14(2506)
)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان الفاظ میں دعا فرمائی:
اے اللہ! انصار کو ان کی اولاد کو اور ان کے حلفاء و موالی کو معاف کردے۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 64۔
16(2507)
انصار کا مطلب یہ تھا کہ جیسا ہمرا درجہ اور مقام ہے اسی طرح ہماری اولاد غلام حلیف اور تعلق دار لوگوں کو بھی وہی مرتبہ حاصل ہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے دعا فرما دی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3787]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3788
3788. عمرہ بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری آدمی ابوحمزہ سے سنا کہ انصار نے عرض کی: (اللہ کے رسول!) ہر قوم کے پیروکار ہوتے ہیں، ہم تو آپ کی پیروی کر چکے ہیں، آپ اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے لواحقین کو بھی ہم میں سے بنا دے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی: اے اللہ! ان کے لواحقین کو بھی ان سے بنا دے۔ عمرہ بن مرہ نے کہا: میں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ حضرت زید نے بھی یہی کہا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ زید سے مراد زید بن ارقم ؓ ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3788]
حدیث حاشیہ:
حافظ نے کہا شعبہ کا گمان صحیح ہے، ابونعیم نے مستخرج میں اس کو علی بن جعد کے طریق سے زید بن ارقم سے یقینی طورپر نکالا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3788]